بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

اسلام میں قتل کی سنگینی اور اس کی سزا

قتل کی حرمت قرآن کریم میں:
شریعت اسلامیہ میں جتنی تاکید کے ساتھ انسان کے قتل کی حرمت کو بیان کیا گیا ہے، عصر حاضر میں اس کی اتنی ہی بے حرمتی ہورہی ہے، چنانچہ معمولی معمولی باتوں پر قتل کے واقعات روزانہ اخباروں کی سرخیاں بنتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان دنوں بعض مسلمان بھی اس جرم کا ارتکاب کبھی کبھی دینی خدمت سمجھ کر کرجاتے ہیں، حالانکہ قرآن وحدیث میں کسی انسان کو ناحق قتل کرنے پر ایسی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں جو کسی اور جرم پر بیان نہیں ہوئیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی انسان کو نا حق قتل کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے، بلکہ بعض علماء نے سورۃ النساء آیت نمبر ۹۲ کی روشنی میں فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے والا ملت اسلامیہ سے ہی نکل جاتا ہے۔ (وَمَن یَّقْتُلْ مُؤمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَآاؤُہ جَهنَّمُ خَالِداً فِيه وَغَضِبَ الله عَلَيه وَلَعَنه وَاَعَدَّ له عَذَاباً عَظيماً)اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا اور اللہ نے اس کے لئے بڑا عذاب تیار کررکھا ہے۔اگرچہ جمہور علماء نے قرآن وحدیث کی روشنی میں تحریر کیا ہے کہ کسی کو ناحق قتل کرنے والا بہت بڑے گناہ کا مرتکب تو ضرور ہے مگر وہ اس جرم کی وجہ سے کافر نہیں ہوتا ہے اور ایک طویل عرصہ تک جہنم میں دردناک عذاب کی سزا پاکر آخر کار وہ جہنم سے نکل جائے گا کیونکہ مذکورہ آیت میں (خَالِداً فِےْہَا) سے مراد ایک طویل مدت ہے۔ نیز قرآن وحدیث کی روشنی میں علماء امت کا اتفاق ہے کہ کسی کو ناحق قتل کرنے والے کی آخرت میں بظاہر معافی نہیں ہے اور اسے اپنے جرم کی سزا آخرت میں ضرور ملے گی اگرچہ مقتول کے ورثاء قاتل سے قصاص نہ لے کر دیت وصول کرلیں یا اسے معاف کردیں۔
قرآن کریم میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کے قتل کو تمام انسانوں کا قتل قرار دیا: اسی وجہ سے بنی اسرائیل کو یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جو کوئی کسی کو قتل کرے جب کہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلے لینے کے لئے ہواور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جو شخص کسی کی جان بچالے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔ (سورۃ المائدہ ۳۲) غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا کیونکہ کوئی شخص قتل ناحق کا ارتکاب اسی وقت کرتا ہے جب اس کے دل سے انسان کی حرمت کا احساس مٹ جائے، نیز اگر کسی کو ناحق قتل کرنے کا چلن عام ہوجائے تو تمام انسان غیر محفوظ ہوجائیں گے، لہٰذا قتل ناحق کا ارتکاب چاہے کسی کے خلاف کیا گیا ہو، تمام انسانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ جرم ہم سب کے خلاف کیا گیا ہے۔
قتل کی حرمت کے متعلق فرمان الہٰی ہے: جس جان کو اللہ نے حرمت عطا کی ہے اسے قتل نہ کرو، مگر یہ کہ تمہیں (شرعاً) اس کا حق پہنچتا ہو اور جو شخص مظلومانہ طور پر قتل ہوجائے تو ہم نے اس کے ولی کو (قصاص کا )اختیار دیا ہے۔ چنانچہ اس پر لازم ہے کہ وہ قتل کرنے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ یقیناًوہ اس لائق ہے کہ اس کی مدد کی جائے۔(سورۃ الاسراء ۳۳)
اسی طرح سورۃ الفرقان آیت ۶۸ اور ۶۹ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور جو اللہ کے ساتھ کسی بھی دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے اور جس جان کو اللہ نے حرمت بخشی ہے اسے ناحق قتل نہیں کرتے اور نہ وہ زنا کرتے ہیں، اور جو شخص بھی یہ کام کرے گااسے اپنے گناہ کے وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قیامت کے دن اس کا عذاب بڑھا بڑھا کر دو گنا کردیا جائے گا۔ اور وہ ذلیل ہوکر اس عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔
آخری تینوں آیات میں صرف مسلمانوں کے قتل کی ممانعت نہیں ہے بلکہ ہر اُس شخص کے قتل کی ممانعت ہے جس کی جان کو اللہ تعالیٰ نے حرمت بخشی ہے۔
قتل پر سخت وعیدیں رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم   کی زبانی:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   رحمۃ للعالمین بناکر مبعوث ہوئے مگر اس کے باوجود حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے کسی کو ناحق قتل کرنے پر سخت سے سخت وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں اور امت کو اس سنگین گناہ سے باز رہنے کی بار بار تلقین فرمائی ہے۔ پانچ احادیث پیش ہیں:
حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے اپنے عظیم خطبہ میں اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی کا خون نہ بہایا جائے، چنانچہ ارشاد فرمایا: تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں ایک دوسرے کے لئے ایسی ہی حرمت رکھتی ہیں جیسے تمہارے اس مہینے (ذی الحجہ) میں تمہارے اس شہر (مکہ مکرمہ) اور تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔ تم سب اپنے پروردگار سے جاکر ملو گے، پھر وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا ۔ لہٰذا میرے بعد پلٹ کر ایسے کافر یا گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ (صحیح بخاری۔ باب حجۃ الوداع، صحیح مسلم۔ باب القسامۃ) یعنی کسی شخص کو ناحق قتل کرنا کافروں اور گمراہوں کا کام ہے نیز ایک دوسرے کو کافر یا گمراہ کہہ کر قتل نہ کرنا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے ارشاد فرمایا: کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ کسی کوشریک ٹھہرانا، کسی انسان کو قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی بات کہنا۔ صحیح بخاری۔باب قول اللہ تعالیٰ من احیاھا
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان کو گالی دینا گناہ کبیرہ ہے اور اسے قتل کرنے کے لئے لڑنا کفر ہے۔ صحیح بخاری۔ کتاب الادب
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے ارشاد فرمایا: ایک مسلمان کو اپنے دین کے معاملے میں اس وقت تک (معافی کی) گنجائش رہتی ہے جب تک وہ حرام طریقے سے کسی کا خون نہ بہائے۔ صحیح بخاری۔ کتاب الدیات
صحیح بخاری کی سب سے مشہور شرح لکھنے والے علامہ ابن حجر عسقلانی ؒ اس حدیث کا مطلب بیان کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ کسی کا ناحق خون بہانے کے بعد معافی کا امکان بہت دور ہوجاتا ہے۔ فتح الباری
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مسلمان شخص کے قتل سے پوری دنیا کا ناپید (اور تباہ ) ہوجانا ہلکا (واقعہ) ہے۔ ترمذی۔ باب ماجاء فی تشدید قتل المؤمن

قرآن وحدیث کی روشنی میں ذکر کیا گیا کہ کسی شخص کو قتل کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے اور قاتل کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ایک طویل عرصہ تک رہے گا، اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا اور اللہ تعالیٰ نے قاتل کے لئے بڑا عذاب تیار کررکھا ہے۔ لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ قتل جیسے بڑے گناہ سے ہمیشہ بچے اور وہ کسی بھی حال میں کسی بھی جان کا ضائع کرنے والا نہ بنے کیونکہ بسا اوقات ایک شخص کے قتل سے نہ صرف اس کی بیوی بچوں کی زندگی بلکہ خاندان کے مختلف افراد کی زندگی بعد میں دوبھر ہوجاتی ہے اور اس طرح خوشحال خاندان کے افراد بیوہ، یتیم اور محتاج بن کر تکلیفوں اور پریشانیوں میں زندگی گزارنے والا بن جاتے ہیں۔
قتل کی اقسام اور ان کی سزا:
اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو قتل کردے تو آخرت میں دردناک عذاب کے ساتھ دنیا میں بھی اسے سزا ملے گی جس کو قرآن وحدیث کی روشنی میں اختصار کے ساتھ ذکر کررہا ہوں۔ سب سے پہلے سمجھیں کہ قتل کی تین قسمیں ہیں:
قتل عمد: قتل عمد وہ ہے کہ ارادہ کرکے کسی شخص کو آہنی ہتھیار سے یا ایسی چیز سے جس سے عموماً قتل کیا جاتا ہے، قتل کیا جائے۔ مثلاً کسی شخص کو تلوار یا گولی سے مارا۔
قتل شبہ عمد: قتل شبہ عمد وہ ہے جو قصداً تو ہو مگر ایسے آلہ سے نہ ہو جس سے عموماً قتل کیا جاتا ہے۔ مثلاً کسی شخص کو ایک پتھر پھینک کر مارا اور وہ اس کی وجہ سے مرگیا۔
قتل خطأ: کوئی شخص کسی شخص کے عمل کی وجہ سے غلطی سے مرجائے ۔ مثلاً جانور کا شکار کررہا تھا مگر وہ تیر یا گولی غلطی سے کسی شخص کے لگ گئی اور وہ مرگیا۔
قتلِ عمد (جان بوجھ کر کسی کو ناحق قتل کرنے) کا حکم:
شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا اور اللہ نے اس کے لئے بڑا عذاب تیار کررکھا ہے۔(سورۃ النساء آیت نمبر ۹۳) قرآن کریم میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا۔ سورۃ المائدہ ۳۲
مرنے کے بعد دردناک عذاب: فرما ن الٰہی ہے: اور جو شخص بھی یہ کام (کسی کو ناحق قتل) کرے گااسے اپنے گناہ کے وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قیامت کے دن اس کا عذاب بڑھا بڑھا کر دو گنا کردیا جائے گا، اور وہ ذلیل ہوکر اس عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ اسی طرح سورۃ النساء آیت نمبر ۹۳ میں ذکر کیا گیا کہ جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا اور اللہ نے اس کے لئے بڑا عذاب تیار کررکھا ہے۔
قصاص یا دیت یا معافی: قتل ثابت ہونے پر مقتول کے ورثاء کو اختیار ہے کہ وہ اسلامی حکومت کی نگرانی میں قاتل سے قصاص لیں یعنی حکومت قاتل کو قصاصاً قتل کرے۔ شریعت اسلامیہ نے مقتول کے ورثاء کو یہ بھی اختیار دیا ہے کہ وہ قاتل کو قصاصاً قتل نہ کراکے قاتل کے اولیاء سے دیت یعنی سو اونٹ کی قیمت یا اس سے کچھ کم یا زیادہ پیسہ لے لیںیا معاف کردیں۔ قصاص یا دیت یا معافی میں مقتول کے ورثاء کے لئے جس میں زیادہ فائدہ ہو اس کو اختیار کرنا چاہئے۔
فرمان الٰہی ہے: اے ایمان والو! جو لوگ (جان بوجھ کر ناحق) قتل کردئے جائیں ان کے بارے میں تم پر قصاص (کا حکم) فرض کردیا گیاہے۔ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت (ہی کو قتل کیا جائے گا)، پھر اگر قاتل کو اس کے بھائی (یعنی مقتول کے ورثاء) کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے تو معروف طریقے کے مطابق (خون بہا کا) مطالبہ کرنا (وارث کا) حق ہے اور اسے خوش اسلوبی سے ادا کرنا (قاتل کا) فرض ہے۔یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک آسانی پیدا کی گئی ہے اور ایک رحمت ہے۔ اس کے بعد بھی کوئی زیادتی کرے تو وہ دردناک عذاب کا مستحق ہے۔ اور اے عقل رکھنے والو! تمہارے لئے قصاص میں زندگی (کا سامان ہے)، امید ہے کہ تم (اس کی خلاف ورزی سے) بچو گے۔
علامہ ابن کثیر ؒ نے تحریر کیا ہے کہ زمانۂ اسلام سے کچھ پہلے دو عرب قبیلوں میں جنگ شروع ہوئی، طرفین کے بہت سے آدمی آزاد وغلام، مرد وعورت قتل ہوگئے، ابھی ان کے معاملہ کا تصفیہ ہونے نہیں پایا تھا کہ زمانۂ اسلام شروع ہوگیا اور یہ دونوں قبیلے اسلام میں داخل ہوگئے، اسلام لانے کے بعد اپنے اپنے مقتولوں کا قصاص لینے کی گفتگو شروع ہوئی تو ایک قبیلہ (جو قوت وشوکت والا تھا) نے مطالبہ کیا کہ ہم اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک ہمارے غلام کے بدلے میں تمہارا آزاد اور عورت کے بدلے میں مرد قتل نہ کیاجائے۔ ان کے ظالمانہ اور جاہلانہ مطالبہ کی تردید کے لئے یہ آیت نازل ہوئی: اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْثَی بِالْاُنْثَی جس کا حاصل ان کے مطالبہ کو رد کرنا تھا کہ غلام کے بدلے آزاد کو اور عورت کے بدلے مرد کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ صرف قاتل کو ہی قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ اسلام نے اپنا عادلانہ قانون نافذ کردیا کہ جس نے قتل کیا ہے وہی قصاص میں قتل کیا جائے گا،اگر عورت قاتل ہے تو کسی بے گناہ مرد کو اس کے بدلے میں قتل کرنا ، اسی طرح قاتل اگر غلام ہے تو اس کے بدلے میں کسی بے گناہ آزاد کو قتل کرنا بہت بڑا ظلم ہے، جو اسلام میں قطعاً برداشت نہیں ہے۔غرضیکہ اس آیت کا حاصل اس کے سوا کچھ نہیں کہ جس نے قتل کیا ہے وہی قصاص میں قتل کیا جائے گا۔
وراثت سے محرومی: اگر قاتل نے اپنے کسی قریبی رشتہ دار کو قتل کردیا تو وہ مقتول کی وراثت سے محروم ہوجائے گا۔ مثلاً کسی شخص نے اپنے والد کو قتل کردیا تو وہ والد کی وراثت سے محروم ہوجائے گاجیسا کہ حضرات صحابۂ کرام کا حضور اکرمصلی اللہ علیہ والہ وسلم   کی تعلیمات کی روشنی میں اجماع ہے۔ مشہور ومعروف واقعہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ابن قتادہ المدلجی کی دیت کا پیسہ قاتل باپ کو نہ دے کر اس کے بھائی کو دیا تھا۔ (سنن کبری للبہہقی) حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی شخص کو قتل کیا تو قاتل‘ مقتول کی وراثت میں شریک نہیں ہوگا خواہ قاتل کے علاوہ مقتول کا کوئی وارث نہ ہو۔ اگر باپ نے بیٹے یا بیٹے نے باپ کو قتل کردیا تو قاتل کو مقتول کے مال میں کوئی وراثت نہیں۔ دار قطنی

نوٹ قتل عمد میں کفارہ (غلام کی آزادی یا ۶۰ روزے رکھنا) نہیں ہے، اگرچہ بعض علماء نے قتل خطا پر قیاس کرکے قتل عمد میں بھی کفارہ کے وجوب کا قول اختیار کیا ہے۔ قصاص معاف ہونے کی صورت میں قاتل کی دنیا میں زندگی تو محفوظ ہوجائے گی لیکن آخرت میں اسے اپنے جرم کی سزا ملے گی، لہٰذا موت تک اسے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہنا ہوگا۔
قتل شبہ عمد کا حکم:
اگر کسی شخص نے کسی شخص کو ایسی چیز ماری جس سے عام طور پر قتل نہیں کیا جاتا ہے مثلاً پتھر، ڈنڈا، گھونسا، کوڑا وغیرہ مگر وہ اس کی وجہ سے مرگیا تو یہ بھی قتل ہوگا، لیکن اس قتل پر قصاص نہیں آئے گا، البتہ یہ بھی بڑا گناہ ہے اگرچہ قتل عمد سے کم ہے کیونکہ اس میں قصد پھر بھی ہے۔ اس کے علاوہ مقتول کے ورثاء کو دیت لینے کا حق حاصل ہوگا۔ اگر فریقین راضی ہیں تو دیت سے کم یا زیادہ قیمت پر بھی صلح کرسکتے ہیں۔
نوٹ: قتل شبہ عمد میں بھی کفارہ (غلام کی آزادی یا ۶۰ روزے رکھنا) نہیں ہے،اگرچہ بعض علماء نے قتل خطا پر قیاس کرکے قتل شبہ عمد میں بھی کفارہ کے وجوب کا قول اختیار کیا ہے۔
قتل خطا کا حکم:
اگر کسی شخص سے غلطی سے کسی شخص کا قتل ہوجائے مثلاً جانور کا شکار کررہا تھا مگر وہ تیر یا گولی غلطی سے کسی شخص کے لگ گئی اور وہ مرگیا، اس میں قصاص تو نہیں ہے، البتہ شریعت اسلامیہ نے مقتول کے ورثاء کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ قاتل اور اس کے اولیاء سے دیت یعنی سو اونٹ کی قیمت یا اس سے کچھ کم یا زیادہ پیسہ لیںیا معاف کردیں۔ مقتول کے ورثاء دیت لیں یا معاف کردیں لیکن قاتل کو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے کے ساتھ ۶۰ دن کے مسلسل روزے بھی رکھنے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: کسی مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ و ہ کسی دوسرے مسلمان کو قتل کرے، الَّا یہ کہ غلطی سے ایسا ہوجائے۔ اور جو شخص کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کر بیٹھے تو اس پر فرض ہے کہ وہ ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور دیت (یعنی خون بہا) مقتول کے ورثاء کو پہنچائے الَّا یہ کہ وہ معاف کردیں۔اور اگر مقتول کسی ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہو جو تمہاری دشمن ہو، مگر وہ خود مسلمان ہو، تو بس ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا فرض ہے، (خون بہا دینا واجب نہیں) ۔ اور ا گر مقتول ان لوگوں میں سے ہے جو (مسلمان نہیں، مگر) ان کے اور تمہارے درمیان کوئی معاہدہ ہے تو بھی یہ فرض ہے کہ خون بہا اس کے وارثوں تک پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام کو آزاد کیا جائے۔ ہاں اگر کسی کے پاس غلام نہ ہوتو اس پر فرض ہے کہ دو مہینے تک مسلسل روزے رکھے۔ یہ توبہ کاطریقہ ہے جو اللہ نے مقرر کیا ہے اور اللہ علیم وحکیم ہے۔(سورۃ النساء ۹۲)
نوٹ: قتل خطا میں بھی بے احتیاطی کا گناہ ہے، کفارہ کا وجوب اور توبہ کا لفظ اس پر دال ہے، اگرچہ قتل شبہ عمد کے مقابلہ میں کم ہے۔
نوٹ: عمومی طور پر گاڑیوں کے حوادث میں مرنے والے افراد بھی قتل خطا کے ضمن میں آتے ہیں الَّا یہ کہ مرنے والی کی خود کی غلطی ہو۔
قتل سے متعلق متفرق مسائل:
سورۃ المائدہ آیت نمبر ۴۵ (وَالْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاص’‘ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃ’‘ لَّہٗ)کی روشنی میں فقہاء وعلماء نے تحریر کیا ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی شخص کے جسم کے کسی عضو کو تلف کردیا مثلاً آنکھ پھوڑدی تو اسے اس کی سزا دی جائے گی الَّا یہ کہ مجروح شخص اس کا معاوضہ حاصل کرلے یا وہ جارح کو معاف کردے۔
قصاص کے لفظی معنی مماثلت یعنی برابری کے ہیں۔ اصطلاع شرع میں قصاص کہا جاتا ہے قتل کی اس سزا کو جس میں مساوات اور مماثلت کی رعایت کی گئی ہو۔
مقتول کی دیت سو اونٹ یا دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار یا اس کے برابر قیمت ہے یا فریقین جو طے کرلیں۔ سعودی عرب میں فی الحال دیت کی قیمت تین لاکھ ریال متعین ہے۔
اگر مقتول عورت ہے تو آدھی دیت یعنی پچاس اونٹ یا اس کی قیمت واجب ہوگی۔
کفارہ میں روزے خود قاتل کو رکھنے ہوں گے البتہ دیت قاتل کے اہل نصرت پر ضروری ہوگی جسے شرعی اصطلاح میں عاقلہ کہتے ہیں۔ دیت کی ادائیگی کی ذمہ داری تمام گھر والوں بلکہ تمام قریبی رشتہ داروں پر اس لئے رکھی گئی ہے تاکہ معاشرہ کا ہر شخص قتل کرنے سے نہ صرف خود بچے بلکہ ہر ممکن کوشش کرے کہ معاشرہ اس جرم عظیم سے پاک وصاف رہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا اور ایک شخص کی زندگی کی حفاظت کو پوری انسانیت کی زندگی قرار دی۔ غرضیکہ دیت کی ادائیگی خاندان کے تمام افراد پر رکھی گئی ہے تاکہ دیت کے خوف سے ہر شخص معاشرہ کو قتل سے محفوظ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔
کفارہ کے روزے میں اگر مرض کی وجہ سے تسلسل باقی نہ رہے تو از سرنو رکھنے پڑیں گے،البتہ عورت کے حیض کی وجہ سے تسلسل ختم نہیں ہوگا یعنی اگر کسی عورت نے کسی شخص کو قتل کردیا اور وہ ۶۰ روزے کفارہ میں رکھ رہی ہے، ۶۰ روزے رکھنے کے دوران ماہواری کے آنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا وہ ماہواری سے فراغت کے بعد ۶۰ روزوں کو جاری رکھے گی۔اگر کوئی قاتل اپنی کمزوری کی وجہ سے ۶۰ روزے رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہے تو اسے قدرت تک توبہ کرتے رہنا ہوگا۔
دیت میں حاصل شدہ مال مقتول کے ورثہ میں شرعی اعتبار سے تقسیم ہوگا۔ جو وارث اپنا حصہ معاف کردے گا اس قدر معاف ہوجائے گااور اگر سب نے معاف کردیا تو سب معاف ہوجائے گا۔ اگر کسی ایک شرعی وارث نے بھی اپنے حصہ کی دیت کا مطالبہ کرلیا یا معاف کردیا تو پھر قصاص نہیں لیا جائے گا۔ اب دوسرے ورثاء کے لئے دو ہی اختیار ہوں گے یا تو اپنے حصہ کی دیت لیں یا پھر معاف کردیں۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ کسی بھی انسان کو قتل کرنا تو درکنار، ہم کسی بھی حال میں کسی بھی انسان کے قتل میں کسی بھی نوعیت سے معاون ثابت نہ ہوں تاکہ ہم آخرت میں دردناک عذاب سے محفوظ رہیں۔ اگر کسی نے کوئی قتل کیا ہے تو حکومت وقت ہی کو اسے قصاصاً قتل کرنے کا حق حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تمام گناہوں سے محفوظ رہ کر یہ دنیاوی فانی زندگی گزارنے والا بنائے اور ہمیں دونوں جہاں میں کامیابی عطا فرمائے۔
محمد نجیب قاسمی ،ریاض (www.najeebqasmi.com)