Print

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

ہندوستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں ’’جمعیت علماء ہند‘‘

آج سے تقریباً ۹۷ سال قبل ریشمی رومال تحریک کے روح رواں، اسیر مالٹا، دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی ؒ کی ہدایت پر انگریزوں سے ملک کی آزادی کے لئے ہندوستانی علماء نے ایک مؤثر ومضبوط تنظیم کے قیام کا فیصلہ کیا جس کا مقصد ملک کی آزادی کے لئے مشترکہ جد وجہد کے ساتھ قرآن وحدیث کی روشنی میں ہندوستانی مسلمانوں کے دینی وسماجی وسیاسی مسائل کا حل قرار دیا۔ ۱۹ نومبر ۱۹۱۹ کو قائم ہوئی اس تنظیم کا نام ’’جمعیت علماء ہند‘‘ رکھا گیا، جس کے پہلے صدر مفتی اعظم مولانا کفایت اللہ دہلوی ؒ منتخب ہوئے۔

ہندوستانی مسلمانوں کی سب سے قدیم وبڑی جماعت ’’جمعیت علماء ہند‘‘ کے ممبران کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہے۔ پورے ہندوستان میں اس کی صوبائی وعلاقائی بے شمار شاخیں ہیں۔ جمعیت علماء ہندنے ۱۹۴۷ء میں ہندوستان کی آزادی تک (یعنی ۲۸ سال) ملک کی آزادی کے لئے بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ جمعیت علماء ہندنے کانگریس کے ساتھ مل کر ہندومسلم مشترکہ جدوجہد اور قربانیوں سے ۱۹۴۷ء میں انگریزوں سے ملک کو آزاد کرانے میں ایسا رول اداکیا کہ جمعیت علماء ہندکی خدمات اور کارناموں کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ مسلم اور ملک مخالف طاقتیں ملک کی آزادی میں مسلمان خاص کر علماء دین کی قربانیوں پر پردہ ڈالنے کی کوششیں کررہی ہیں، لہٰذا تعلیم یافتہ لوگوں کی دینی واخلاقی ذمہ داری ہے کہ اپنی نئی نسل کو ملک کی آزادی میں مسلمانوں خاص کر علماء کرام کی قربانیوں سے آگاہ کرتے رہیں۔ ان کو یہ بتایا جائے کہ اس ملک میں ہمارا مکمل حق ہے، انگریزوں سے قبل اس ملک پر مسلمانوں کی ہی حکومت تھی اور مسلمانوں کی قربانی کے بغیر اس ملک کی آزادی نا ممکن تھی۔

۱۹۴۷ء میں ملک کی آزادی کے بعد جمعیت علماء ہند نے پارلیمنٹ اور اسمبلی کی سیاست سے علیحدگی اختیار کرکے مذہبی تنظیم کی حیثیت سے تبلیغی، تعلیمی، اصلاحی اور رفاہی خدمات کا میدان خاص کرلیا۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ جمعیت علماء ہندمسلمانوں کو سیاسی سرگرمیوں سے الگ تھلگ رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن آزادی اور تقسیم ہند کے بعد سے مسلمان ہندوستان میں اقلیت میں رہ گئے اور اگر مسلمان ’’مسلم لیگ‘‘ کی طرح اپنی پارٹی بناکر الیکشن میں حصہ لیتے ہیں تو اکثریت ہمارے مقابلہ میں متحد ہوکر ہمیں ہر پلیٹ فارم پر شکست دے سکتی ہے۔لہٰذا ضروری ہے کہ ٹھنڈے دماغ سے کام لے کر مسلمانوں کی دینی تربیت کے ساتھ تعلیمی اور رفاہی کاموں میں ان کی مدد کی جائے اور اشتعال انگیز سیاست کے بجائے دوراندیشی سے کام لیا جائے تاکہ مسلمان شریعت اسلامیہ پر عمل کرتے ہوئے عصری علوم سے آراستہ ہوں، پارلیمنٹ اور اسمبلی میں خاطر خواہ ہماری نمائندگی بھی ہوجائے اور ملت اسلامیہ کے دشمن اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکیں۔

ملک کی آزادی کے بعد سے تقریباً ۷۰ سال جمعیت علماء ہند نے مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لئے صحیح ترجمانی کرکے ہمیشہ تعمیری کاموں پر زور دیا۔ تقسیم ہند کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ان کے دین کی حفاظت تھی کیونکہ شمالی ہندوستان کی بعض ریاستوں سے مسلمان بڑی تعداد میں پاکستان چلے گئے تھے۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ نے اسی موقع پر فرمایا تھا کہ اگر آپ نے مسلمانوں کے دین کی حفاطت کرلی تو آپ نے اس ملک کے اندر بڑا کام کرلیا۔ چنانچہ جمعیت علماء ہند نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ جمعیت علماء ہند نہ صرف قرآن وحدیث کی تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز کرتی ہے بلکہ کالج ویونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے مسلم طلبہ وطالبات کو وظائف دے کر ان کو عصری علوم کے حصول کے مواقع بھی فراہم کراتی ہے۔

مظفر نگر اور شاملی کے دیہاتوں میں فساد سے متاثرین کے لئے کئی سو مکانات تعمیر کراکر سینکڑوں خاندانوں کے رہنے کا بندوبست کیا۔ ہندوستان میں کسی بھی علاقہ میں سیلاب یا طوفان یا زلزلہ یا دیگر آفات آنے پر جمعیت علماء ہند مصیبت زدہ افراد خاص کر مسلمانوں کی مدد کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتی ہے۔ ہندوستان میں موجود دیگر ملی تنظیمیں بھی مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے میں کوشاں ہیں، مگر وہ سینکڑوں بے گناہ مسلمان جو سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، مکمل اخراجات برداشت کرکے ہندوستانی عدالتوں میں جاکر اچھے وتجربہ کار وکیلوں کی مدد سے ان کے کیس کو لڑنا، جمعیت علماء ہند کی ایک ایسی عظیم خدمت ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ سینکڑوں بے گناہ مسلمان آج جمعیت علماء ہند کی مسلسل تگ ودو اور جد وجہد کے بعد جیلوں سے باعزت رہا ہوکر آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔

۲۶مئی ۲۰۱۴ء کو بی جی پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہندوستانی مسلمانوں پر خصوصی احوال آگئے ہیں۔ ہر روز ایک نیا مسئلہ جنم لیتا ہے تاکہ مسلمان ان مسائل میں الجھ کر ترقی کی راہ پر گامزن نہ ہوسکیں۔ کبھی وندے ماترم تو کبھی سوریہ نمسکار کا مسئلہ۔ کبھی مسلمانوں کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کا معاملہ تو کبھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو ختم کرکے مسلمانوں کی سب سے بڑی عصری درسگاہ کو چھیننے کی کوشش۔ کبھی ملک کی آزادی میں اہم کردار ادا کرنے والے، امن کے گہوارے مدارس اسلامیہ پر شک وشبہات کے بادل منڈلائے جاتے ہیں تو کبھی مسلم نوجوانوں کو مختلف تنظیموں سے جوڑ کر انہیں گرفتار کیا جاتا ہے۔

ہندوستانی قوانین میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کواپنے اپنے مذہب کے مطابق عمل کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ یعنی نکاح اور طلاق جیسے خاندانی مسائل میں ہر شخص کسی عدالت سے رجوع کئے بغیر اپنے مذہب کی تعلیمات کے مطابق عمل کرسکتا ہے۔ مگر ۲۰۱۷ء میں اترپردیش اور دیگر صوبوں میں ہونے والے الیکشن میں سیاسی فائدہ حاصل کر نے کی غرض سے دہلی مرکز پر قابض بی جے پی سرکار ہندوستانی قوانین کے برخلاف اقلیتوں سے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی سلب کرنا چاہتی ہے۔یکساں سول کوڈ کے لئے نہ ہی کوئی مسودہ تیار کیا گیا اور نہ ہی ہندوستان جیسے ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ ہوسکتا ہے۔ ہندوستانی عوام کی جانب سے نہ تو اس کے نفاذ کا کوئی مطالبہ ہے اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت ہے کیونکہ ہر شخص نکاح اور طلاق جیسے خاندانی مسائل میں اپنے مذہب اور خاندان کی روایات کے مطابق عمل کرتا ہے۔ مسلمان شریعت اسلامیہ سے سو فیصد متفق ہے ۔ مسلمانوں کی طرف سے شریعت اسلامیہ میں تبدیلی کا نہ کوئی مطالبہ ہے اور نہ ہی پوری دنیا کے مسلمان قرآن وحدیث کے فیصلہ میں تبدیلی کا اختیار رکھتے ہیں۔ نکاح اور طلاق جیسے خاندانی مسائل میں عوام اپنے مذہبی رہنماؤں کی سرپرستی میں اپنی مذہبی کتابوں پر عمل کرتی ہے۔ مرکزی حکومت ایک طرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے تعلیمی اداروں میں مسلم لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کرنے کا خواب دیکھتی ہے تو دوسری طرف اپنے سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے طلاق جیسے موضوع پر مسلم عورتوں کی خیر خواہ بننا چاہتی ہے۔ مسلمانوں کا یہ ایمان اور عقیدہ ہے کہ شریعت اسلامیہ میں کسی بھی نوعیت کی تبدیلی کی بات کرنا بھی جرم عظیم ہے۔

مسلم پرنسل لاء بورڈ، جس کو ہندوستانی مسلمانوں کا مکمل اعتماد حاصل ہے، نے حکمت وبصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کے بجائے دو اہم فیصلے کئے، عوام کو قرآن وحدیث کی روشنی میں نکاح اور طلاق جیسے خاندانی مسائل سے واقف کرایا جائے اور لاء کمیشن کی جانب سے پیش کردہ سوالات کا بائیکاٹ کرکے دستخط مہم میں زیادہ سے زیادہ شرکت کی جائے۔ مسلمانوں نے اس اہم مسئلہ پر بے مثال اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کیا اور ملک کی تمام دینی وملی مسلم تنظیموں نے حکومت کے فیصلہ کی مخالفت کرکے اپنے ارادوں کو واضح کردیا کہ جان دینا ہمارے لئے آسان ہے لیکن شریعت اسلامیہ میں کوئی تبدیلی منظور نہیں ہے۔ اور اس اتحاد واتفاق سے مسلمانوں نے حکومت کو یہ پیغام دے دیا کہ مسلم پرنسل لاء میں کوئی مداخلت برداشت نہیں ہے۔جمعیت علماء ہند نے بھی تحفظ شریعت اور تحفظ دستور ہند کے لئے مسلم پرنسل لاء کی دستخط مہم کو کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائک سے بعض مسائل میں اختلافات کے باوجود جمعیت علماء ہند پوری قوت کے ساتھ ان کے دفاع میں کھڑی ہوئی ہے کیونکہ وقت کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم مسلکی اختلافات کو نظر انداز کرکے اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کے لئے متحد ہوں۔

جیساکہ پہلے ذکر کیا گیا کہ گرفتار شدہ بے گناہ مسلم نوجوانوں کے لئے عدالتی لڑائی لڑنے میں جمعیت علماء ہند کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ چنانچہ حال ہی میں بھوپال میں ۸ مسلم نوجوانوں کے انکاؤنٹر کئے جانے کے خلاف جمعیت علماء ہند (مہاراشٹر) نے بھوپال ہائیکورٹ میں عرضی داخل کردی ہے۔ جمعیت علماء ہند کے وکلاء نے پولس کی جانب سے کی جانے والی اس مڈبھیڑ کو فرضی انکاؤنٹر قرار دیتے ہوئے اسے قتل سے تعبیر کیا ہے اور کاروائی پر درجنوں سوالات اٹھائے ہیں۔

آج ضرورت ہے کہ علماء دین اختلافی مسائل پر اپنی قیمتی صلاحتیں لگانے کے بجائے امت مسلمہ کی قیادت کرکے انہیں صحیح سمت میں لے کر چلیں۔ ان کی دینی تعلیم وتربیت کے ساتھ ان کے سماجی مسائل کو حل کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ انہیں عصری علوم سے آراستہ کیا جائے۔ اگر کسی مسلم نوجوان یا عالم دین یا اسلامی مرکز یا دینی درسگاہ کو نشانہ بنایا جائے تو اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر پوری قوت کے ساتھ مسلم اور ملک مخالف طاقتوں سے مقابلہ کیا جائے۔ اسی میں ملک کی بقاء کے ساتھ ہندوستانی مسلمانوں کی عافیت ہے، ورنہ ہم اس شعر کے مصداق بن جائیں گے:

ایک ہوجائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں      ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا بات بنے

غرضیکہ آزادی سے قبل جمعیت علماء ہند کی ۲۸ سالہ ملک کی آزادی کے لئے خدمات اور آزادی کے بعد۶۹ سالہ تعلیمی، اصلاحی اور رفاہی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ گرفتار شدہ بے گناہ مسلم نوجوانوں کے کیس کو تجربہ کار وکلاء کی نگرانی میں مکمل اخراجات برداشت کرکے لڑنا جمعیت علماء ہند کی ایسی عظیم خدمت ہے کہ میری معلومات کے مطابق اس کی کوئی نظیر پورے ہندوستان میں موجود نہیں ہے۔ جمعیت علماء ہند کی ۹۷ سالہ خدمات پر متعدد کتابیں تحریر کی گئی ہیں، اس مختصر مضمون میں ان خدمات کو شمار بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ہزاروں علماء کرام کی سرپرستی میں پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہندوستانی مسلمانوں کی اس تنظیم کے ایک کروڑ سے زیادہ ممبران اگر قوم وملت کی خدمت کے جذبہ سے آراستہ ہوکر میدان عمل میں اتر آئیں تو آج بھی مسلم اور ملک مخالف طاقتیں گھٹنے ٹیک دیں گی ان شاء اللہ۔ ۲۰۱۴ میں بی جی پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ ہندوستانی علماء کرام کی سب سے بڑی تنظیم ’’جمعیت علماء ہند‘‘ بھگوا دہشت گردوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف اٹھائے گئے مسائل پر حکمت وبصیرت کے ساتھ عدالتی لڑائی لڑے، جس کو جمعیت علماء ہند انجام دینے کے لئے کوشاں ہیں، اللہ تعالیٰ ذمہ داروں کی مدد فرمائے۔

آخر میں بارگاہ الہٰی میں دعا گو ہوں کہ جمعیت علماء ہند کے ذمہ داران متحد ہوکر اُسی طرح امت مسلمہ کے مسائل کو حل کرنے کے لئے جان ومال ووقت کی قربانی پیش کریں جس طرح ہمارے اسلاف: مفتی کفایت اللہ دہلوی ؒ ، مولانا احمد سعید دہلویؒ ، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ اور مولانا حفظ الرحمن سیوہاریؒ وغیرہ نے علماء کرام کے سب سے بڑے پلیٹ فارم ’’جمعیت علماء ہند ‘‘سے خدمات پیش فرمائیں۔ راقم الحروف کے دادا مجاہد آزادی حضرت مولانا محمد اسماعیل سنبھلی ؒ ، جو شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ کے اولین خلفاء میں سے ہیں، نے بھی جمعیت علماء ہند کے جھنڈے تلے بڑی خدمات انجام دی ہیں۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی(www.najeebqasmi.com)