Print

بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

اَنْبِياء وَرُسُل

اللہ تعالیٰ نے انس وجن کو اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایاہے،جیساکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں فرمایا: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْانْسَ اِلَّا لِيعْبُدُوْنَ (سورہ الذاریات ۵۶) میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔۔۔۔۔۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ عبادت کیا ہے؟ کس طرح کی جائے؟ اس کا کیا طریقہ ہونا چاہئے؟ اسی کے لئے اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں میں سے بعض بندوں کو منتخب فرماکر ان کو وحی کے ذریعہ احکامات بھیجتا ہے کہ کیا کام کرنے ضروری ہیں، کیا کام کئے جاسکتے ہیں اور کن کاموں سے بچنا ہے، غرضیکہ وحی کے ذریعہ زندگی گزارنے کا طریقہ بیان کیا جاتا ہے، اسی کا نام عبادت ہے۔ ان منتخب بندوں کو جو وقت کے امام، علم وعمل کے مجسم پیکر اور تقویٰ کے علمبردار ہوتے ہیں، نبی یا رسول کہا جاتا ہے، جن کی ذمہ داری اللہ کے بندوں کو اپنے قول وعمل سے اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا ہوتی ہے۔۔۔ ان انبیاء ورسولوں کے واقعات پڑھنے چاہئیں جیساکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ کو قدر تفصیل سے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: لَقَدْ کَانَ فِی قَصَصِهم عِبْرَۃ لِّاولِی الْاَلْبَابِ (سورہ یوسف ۱۱۱) انبیاء کرام کے واقعات میں عقلمندوں کے لئے یقیناًنصیحت اور عبرت ہے۔
نبی اور رسول میں کیا فرق ہے، اسکی تشریح میں علماء کے متعدد آراء واقوال ہیں،لیکن تمام مفسرین ومفکرین اور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن وحدیث میں دونوں لفظ ایک دوسرے کے لئے استعمال ہوئے ہیں، البتہ نبی عام ہے اور رسول خاص ہے ۔
نبیوں اور رسولوں کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور نبی اکرم ا پر ختم ہوا، غرضیکہ نبی اکرم ارسول ہونے کے ساتھ ساتھ آخری نبی بھی ہیں جیساکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ الله وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ (سورہ الاحزاب ۴۰)۔
حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضور اکرم ا تک آنے والے انبیاء ورسل کی معین تعداد تو اللہ تعالیٰ کے سواکوئی نہیں جانتا، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے: آپ سے پہلے کے بہت سے رسولوں کے واقعات ہم نے آپ سے بیان کئے ہیں، اور بہت سے رسولوں کے نہیں بیان کئے۔ ۔۔ (سورہ النساء ۱۶۴) لیکن پھر بھی حضرت ابوذر غفاریؓ کی مشہور ومعروف حدیث، جسمیں ان کے سوال کرنے پر نبی اکرم ا نے فرمایا: نبیوں کی کل تعداد تقریباً ایک لاکھ ۲۴ ہزار ، اور رسولوں کی کل تعداد ۳۱۳ / ۳۱۵ ہے۔ (صحیح ابن حبان) کی بنیاد پر لکھا گیا ہے کہ انبیاء کرام کی تعداد صحابہ کرام کی تعداد کی طرح تقریباً ایک لاکھ ۲۴ ہزار تھی (واللہ اعلم بالصواب)۔ اس روایت کی سند میں بعض علماء کے نقطہ نظر میں اگرچہ کچھ ضعف موجود ہے، مگر متعدد شواہد کی بناء پر تاریخی حیثیت سے یہ حدیث قبول کی گئی ہے۔
جن نبیوں اور رسولوں کا تذکرہ قرآن کریم میں آیا ہے ان کی تعداد ۲۵ ہے، ان میں سے ۱۸ کا ذکر تو قرآن کریم (سورہ الانعام ۸۳ ۔ ۸۶) میں ایک ہی جگہ پر ہے۔ جن ۲۵ انبیاء کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے ،ان کے نام یہ ہیں :
(
۱) آدم علیہ السلام (۲) ادریس علیہ السلام (۳) نوح علیہ السلام (۴) ہود علیہ السلام (۵) صالح علیہ السلام (۶) ابراہیم علیہ السلام (۷) لوط علیہ السلام (۸) اسماعیل علیہ السلام (۹) اسحاق علیہ السلام (۱۰) یعقوب علیہ السلام (۱۱) یوسف علیہ السلام (۱۲) ایوب علیہ السلام (۱۳) شعیب علیہ السلام (۱۴) موسیٰ علیہ السلام (۱۵) ہارون علیہ السلام (۱۶) یونس علیہ السلام (۱۷) داؤد علیہ السلام (۱۸) سلیمان علیہ السلام (۱۹) الیاس علیہ السلام (۲۰) الیسع علیہ السلام (۲۱) زکریا علیہ السلام (۲۲) یحیےٰ علیہ السلام (۲۳) عیسی علیہ السلام (۲۴) ذو الکفل علیہ السلام (اکثر مفسرین کے نزدیک) (۲۵) حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم  ۔
حضرت عزیر علیہ السلام کا ذکر قرآن میں (سورہ التوبہ ۳۰) میں آیا ہے، لیکن ان کے نبی ہونے میں اختلاف ہے۔ ان ۲۵ انبیاء کرام کے علاوہ تین انبیاء کا ذکر احادیث میں آیا ہے۔ (۱) شیث علیہ السلام (۲) یوشع علیہ السلام (۳) خضر علیہ السلام (ان کے نبی ہونے میں اختلاف ہے)۔
ان انبیاء میں سے پانچ نبی ایک ہی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں: حضرت ابرہیم علیہ السلام ، ابرہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام ، اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام ، یعقوب علیہ السلام کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام اور ابرہیم علیہ السلام کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام۔
جزیرۂ عرب سے تعلق رکھنے والے انبیاء : آدم علیہ السلام ، ہود علیہ السلام ، صالحعلیہ السلام ، اسماعیل علیہ السلام ، شعیب علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم  ۔
عراق سے تعلق رکھنے والے انبیاء : ادریسعلیہ السلام ، نوح علیہ السلام ، ابراہیم علیہ السلام اور یونس علیہ السلام ۔
شام اور فلسطین سے تعلق رکھنے والے انبیاء : لوط علیہ السلام ، اسحاق علیہ السلام ، یعقوب علیہ السلام ، ایوب علیہ السلام ، ذو الکفل علیہ السلام ، داؤد علیہ السلام
سلیمان علیہ السلام ، الیاس علیہ السلام ، الیسع علیہ السلام زکریا علیہ السلام یحیعلیہ السلام اور عیسی علیہ السلام ۔
مصر سے تعلق رکھنے والے انبیاء : یوسف علیہ السلام ، موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام ۔
اِن ۲۵ انبیاء کرام کے قرآن کریم میں ذکر کی تقریبی تعداد:
آدم علیہ السلام : ۲۵
ادریس علیہ السلام : ۲
نوح علیہ السلام : ۴۳
ہود علیہ السلام : ۷
صالح علیہ السلام : ۹
ابراہیم علیہ السلام : ۶۹
لوط علیہ السلام : ۲۷
اسماعیل علیہ السلام : ۱۲
اسحاق علیہ السلام : ۱۷
یعقوب علیہ السلام : ۱۶
یوسف علیہ السلام : ۲۷
ایوب علیہ السلام : ۴
شعیب علیہ السلام : ۱۱
موسیٰ علیہ السلام : ۱۳۶
ہارون علیہ السلام : ۱۹
یونس علیہ السلام : ۶
داؤد علیہ السلام : ۱۶
سلیمان علیہ السلام : ۱۷
الیاس علیہ السلام : ۳
الیسع علیہ السلام : ۲
زکریا علیہ السلام : ۸
یحی علیہ السلام : ۴
عیسی علیہ السلام : ۲۵
ذو الکفل علیہ السلام : ۲
محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم   : ۵ صراحت کے ساتھ
قرآن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   کا ذکر پانچ مرتبہ صراحت کے ساتھ ہوا ہے (محمد کا لفظ چار مرتبہ اور احمد کا لفظ ایک مرتبہ )۔ لفظ رسول اللہ،رسول اور نبی کے ساتھ آپ کا ذکر متعدد جگہوں پر آیا ہے، جبکہ بے شمار جگہوں پر آپ کو براہِ راست مخاطب کیا گیا ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق کتابوں میں مذکور ہے کہ وہ جنت سے ہند کی سرزمین پر اتارے گئے ۔ ہند یا مکہ مکرمہ میں مدفون ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو صاحبزادے : اسحاق علیہ السلام اور اسماعیلعلیہ السلام ہیں۔ اِن کے بعد تمام ابنیاء کرام حضرت اسحاق علیہ السلام کیاولاد سے ہوئے، سوائے تمام نبیوں کے سردار حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم   کے کہ وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ہیں۔
حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب اسرائیل تھا جس کے معنی ہیں بندۂ خدا۔ ان ہی کی نسل کو نبی اسرائیل کہتے ہیں۔
حضرت نوح علیہ السلام قوم نوح، حضرت ہود علیہ السلام قوم عاد، حضرت صالح علیہ السلام قوم ثمود، حضرت لوط علیہ السلام قوم لوط اور حضرتموسیٰ، ہارون، داؤد ، سلیمان، زکریا ، یحی اور عیسیٰ علیہم السلام قوم بنو اسرائیل کے مختلف قبائل کی اصلاح کے لئے رسول بناکر بھیجے گئے۔
دعاؤں کا محتاج: محمد نجیب قاسمی سنبھلی، ریاض