Print

بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کے مختصر احوال

* حضرت ابراہیم علیہ السلام تقریباً چار ہزار سال قبل عراق میں پیدا ہوئے۔
*
ان کا والد آزر مذہبی پیشوا تھا، بت بناکر بیچا کرتاتھا۔
*
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے زمانۂ طفولت سے ہی سے بتوں کی عبادت کی مخالفت کی۔
*
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کھل کر بتوں کی مخالفت کے بعد انکو قتل کرنے اور گھر سے نکالنے کی دھمکی دی گئی۔
*
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایک عبادت گاہ میں گھس کر بڑے بت کے علاوہ تمام بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا واقعہ پیش آیا، جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔۔ ۔ اور پھر نمرود بادشاہ کے ساتھ مناظرہ ہوا۔
*
مناظرہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے منطقی جواب پر غور کرنے کے بجائے یہ شاہی فرمان جاری کیا گیاکہ اس کو جلا ڈالو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو ۔
*
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آتش نمرود میں ڈالے جانے کا واقعہ پیش آیا مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے آگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے ٹھنڈی ہونے کے ساتھ سلامتی اور آرام کی چیز بن گئی۔
*
اس قوم کی بدنصیبی کی حد یہ تھی کہ اتنا بڑا معجزہ دیکھنے کے باوجود ایک آدمی بھی ایمان نہیں لایا۔
*
چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق چھوڑکر ملک شام تشریف لے گئے۔
*
وہاں سے فلسطین چلے گئے اور وہیں مستقل قیام فرماکر اسی کو دعوت کا مرکز بنایا۔
*
ایک مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی حضرت سارہ کے ہمراہ مصر تشریف لے گئے۔
*
وہاں کے بادشاہ نے حضرت ہاجرہ کو حضرت ابراہیم کی اہلیہ حضرت سارہ کی خدمت کے لئے پیش کیا۔
*
اس وقت تک حضرت سارہ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔
*
مصر سے حضرت ابراہیم علیہ السلام پھر فلسطین واپس تشریف لے لائے۔
*
حضرت سارہ نے خود حضرت ہاجرہ کا نکاح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ کروادیا۔
*
بڑھاپے میں حضرت ہاجرہ کے بطن سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔
*
کچھ عرصہ بعد حضرت سارہ کے بطن سے حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے۔
*
اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی حضرت ہاجرہ اور بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ مکرمہ کے چٹیل میدان میں بیت اللہ کے قریب چھوڑ دیا۔
*
جب کھانے پینے کے لئے کچھ نہ رہا تو حضرت ہاجرہ بے چین ہوکر قریب کی صفا اور مروہ پہاڑیوں پر پانی کی تلاش میں دوڑیں۔ چنانچہ پانی کا چشمہ زمزم جاری ہوا۔
*
کچھ مدت کے بعد ایک قبیلہ بنو جرہم کا ادھر سے گزر ہوا ۔ پانی کی سہولت دیکھ کر انہوں نے حضرت ہاجرہ سے قیام کی اجازت چاہی، حضرت ہاجرہ نے وہاں قیام کرنے کی اجازت دے دی۔
*
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دکھایا گیا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کررہے ہیں۔ نبی کا خواب سچا ہوا کرتا ہے ، چنانچہ اللہ کے اس حکم کی تکمیل کے لئے فوراً فلسطین سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ جب باپ نے بیٹے کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہیں ذبح کرنے کا حکم دیا ہے تو فرمانبردار بیٹے اسماعیل علیہ السلام کا جواب تھا : ابا جان! جو کچھ آپ کو حکم دیا جارہا ہے، اسے کرڈالئے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔
*
اور پھر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تاریخ انسانی کا وہ عظیم الشان کارنانہ انجام دیا جس کا مشاہدہ نہ اس سے پہلے کبھی زمین وآسمان نے کیا، اور نہ اس کے بعد کریں گے۔ اپنے دل کے ٹکڑے کو منہ کے بل زمین پر لٹادیا، چھری تیز کی، آنکھو ں پر پٹی باندھی اور اُس وقت تک پوری طاقت سے چھری اپنے بیٹے کے گلے پر چلاتے رہے جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ صدا نہ آگئی۔ اے ابراہیم! تو نے خواب سچ کر دکھایا، ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ چنانچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جنت سے ایک مینڈھا بھیج دیا گیا جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کردیا۔
*
اس عظیم امتحان میں کامیابی کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ دنیا میں میری عبادت کے لئے گھر تعمیر کرو۔ چنانچہ باپ بیٹے نے مل کر بیت اللہ شریف (خانہ کعبہ) کی تعمیر کی۔
*
بیت اللہ کی تعمیر سے فراغت کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کردو۔ حضرت ابراہیم نے حج کا اعلان کیا،چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اعلان نہ صرف اس وقت کے زندہ لوگوں تک پہونچا دیا بلکہ عالم ارواح میں تمام روحوں نے بھی یہ آواز سنی، جس شخص کی قسمت میں بیت اللہ کی زیارت لکھی تھی اس نے اس اعلان کے جواب میں لبیک کہا۔
محمد نجیب قاسمی سنبھلی، ریاض (www.najeebqasmi.com)