Print

بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

شیخ شاہ اسماعیل شہید ؒ اور ان کی کتاب تقويۃ الایمان

حال ہی میں الشیخ شاہ اسماعیل شہید ؒ کی کتاب تقوےۃ الایمان کے متعلق محترم محمد انعام الحق قاسمی صاحب اور محترم عباس علی صدیقی صاحب کے تاثرات پڑھنے کو ملے۔ کتاب تقويۃ الایمان پر کچھ لکھنے سے قبل الشیخ شاہ اسماعیل شہید ؒ کا مختصر تعارف کرانا ضروری سمجھتا ہوں۔
نہ صرف بر صغیر (ہند ،پاکستان، بنگلادیش اور افغانستان )میں بلکہ پورے عالم اسلام میں الشیخ شاہ ولی اللہ ؒ کی شخصیت انتہائی مسلم اور قابل قدر ہے۔ بر صغیر میں حدیث پڑھنے اور پڑھانے کی سند محدثین کرام اور پھر حضور اکرم ا تک حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کے واسطے سے ہی ہوکر جاتی ہے۔ بر صغیر کا ہر مکتب فکر اپنا تعلق الشیخ شاہ ولی اللہ ؒ کی شخصیت سے جوڑکر اپنے حق پر ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ اور ان کی اولاد نے قرآن وحدیث کی خدمت کے لئے اپنی زندگیاں وقف کردی تھیں۔
شاہ ولی اللہ ؒ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید ؒ (1831 - 1779) نے بھی اپنی پوری زندگی اعلاء کلمۃ اللہ، احیاء اسلام اور قرآن وحدیث کی خدمت میں صرف کی۔ انہوں نے تقریباً ۱۰ کتابیں تحریر فرمائیں۔ شاہ اسماعیل شہید ؒ نے نہ صرف قلمی جہاد کیا بلکہ عملی جہاد میں بھی شرکت کی چنانچہ ۱۸۳۱ میں بالآخر بالاکوٹ کے مقام پر شہادت حاصل کی۔
شاہ اسماعیل شہید ؒ کے زمانے میں اس علاقہ میں شرک اور بدعات کافی رائج ہوگئیں تھیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ قرآن وحدیث کی روشنی میں شرک اور بدعات کی تردید اور توحید وسنت کی جڑیں مضبوط کرنے میں صرف کیا۔ اسی مقصد کو سامنے رکھ کر انہوں نے 1826 میں کتاب تقوےۃ الایمان لکھی۔ یہ کتاب آج تک کتنی مرتبہ شائع ہوچکی ہے، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے، غرض لاکھوں لوگوں نے اس کتاب سے فیضیاب ہوکر اپنی زندگی کا رخ سیدھا کیا۔ شاہ اسماعیل شہید ؒ نے اپنی اس کتاب میں قرآن وحدیث کی روشنی میں شرک اور بدعات کی تردید کی ہے۔ جس پر بعض حضرات نے غلط فیصلہ لے کر اس شخص کو کا فر کہہ دیا کہ جس نے پوری زندگی قرآن وحدیث کے مطابق گزاری، لاکھوں لوگوں نے اس کے علم سے مستفید ہوکر اپنی اخروی زندگی کی تیاری کی، جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اپنی جان تک کا نذرانہ پیش کردیا۔
میں نے کتاب کا مطالعہ کیاہے، مجھے کہیں کوئی ایسی عبارت نہیں ملی جس کی بنیاد پر کسی عالم دین کو صرف بغض وعناد کی وجہ سے کافر قرار دیا جائے۔ میرے عزیز دوستوں! اسلام اس لئے نہیں آیا کہ چھوٹی چھوٹی بات پر مسلمانوں کو بھی دائرہ اسلام سے خارج کیا جائے بلکہ اسلام کا بنیادی واہم مقصد یہ ہے کہ ہر شخص کلمہ لاالہ الا اللہ ومحمد رسول اللہ پڑھکر مسلمان ہوجائے اور کلمہ کے تقاضوں پر عمل کرکے ہمیشہ ہمیشہ کی جہنم سے بچ جائے۔ کسی انتقال شدہ معین شخص کو کافر کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اسکے لئے ہمیشہ ہمیشہ کی جہنم کا فیصلہ صادر فرمادیا۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔ اس موقع پر نبی اکرم ا کے ارشاد کو بھی یاد رکھیں: اگر کوئی شخص کسی شخص کے لئے کہے اے کافر! تو یہ لفظ کسی ایک کو ضرور پہونچے گا، یا تو وہ واقعی کافر ہوگا ورنہ کہنے والا کافر ہوجائے گا۔ (بخاری، مسلم، مؤطا مالک، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، نسائی، مسند احمد(
اگر ہمیں کسی شخص کے مسلمان ہونے کا علم ہوتا ہے تو کتنی خوشی ہوتی ہے، یقیناًخوشی کی بات ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کی جہنم سے بچ گیا اگر ایمان کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوجائے۔ میرے عزیز دوستوں! کسی شخص کو کافر قرار دینے میں ہمیں کبھی بھی عجلت سے کام نہیں لینا چاہئے، اور نہ ہی اس کو فخریہ طور پر بیان کرنا چاہئے۔
عباس علی صدیقی نے یہ تحریر کیا ہے کہ شاہ اسماعیل شہید ؒ نے اس کتاب میں لکھا ہے کہ نبی اکرم ا کا احترام بڑے بھائی کی طرح کرنا چاہئے، اورا س کی بنا پر کفر کا فتویٰ لگایا گیاہے۔ ۔۔ کتاب کی مکمل عبارت یوں ہے: تمام انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں ، جو بہت بزرگ ہو وہ بڑا بھائی ہے، اس کی بڑے بھائی کی سی تعظیم کرو، باقی سب کا مالک اللہ ہے، عبادت اسی کی کرنی چاہئے۔ معلوم ہوا کہ جتنے اللہ کے مقرب بندے ہیں خواہ انبیاء ہوں یا اولیاء ہوں وہ سب کے سب اللہ کے بے بس بندے ہیں اور ہمارے بھائی ہیں، مگر حق تعالیٰ نے انہیں بڑائی بخشی تو ہمارے بڑے بھائی کی طرح ہوئے، ہمیں ان کی فرمانبرداری کا حکم ہوا کیونکہ ہم چھوٹے ہیں ، لہذا ان کی تعظیم انسانوں کی سی کرو اور انہیں الٰہ (معبود) نہ بناؤ۔۔۔۔۔۔۔ (صفحہ ۱۳۴ ۔ ۱۳۵(
شاہ اسماعیل شہید ؒ کا نبی اکرم ا کو بڑے بھائی سے مشابہت دینے کا مقصد واضح ہے کہ نبی اکرم ا کا احترام ضروری ہے، ان کا زیادہ سے زیادہ احترام کیا جائے، لیکن اس نوعیت کا احترام نہیں کیا جائے کہ نبی اکرم ا کو معبود بنادیا جائے، جو کہ بالکل غلط ہے۔ اس عبارت کی بناء پر کسی شخص کو کیسے کافر کہا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں ارشاد فرمایا ہے : جب تم اپنے حج کے ارکان سے فارغ ہو جاؤ تو تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو جیسا کہ باپ دادا کا ذکر کرتے ہو بلکہ باپ دادا کے ذکر کرنے سے بھی زیادہ اللہ کا ذکر کرو۔ (سورۂ البقرہ ۲۰۰) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کرنے کو باپ دادا کے ذکر کرنے سے مشابہت دی ہے ، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ باپ دادا بن گیا، بلکہ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کریں۔
میری تمام حضرا ت سے خصوصی درخواست ہے کہ کسی معین شخص کو کافر کہنے سے بالکل باز رہیں جبکہ وہ اللہ کی وحدانیت اور قرآن کے کتاب اللہ ہونے کا اقرار کرتا ہو، اور رسول اللہ ا کو خاتم النبیین بھی مانتا ہو، مزید برآں قرآن وحدیث پر عمل پیرا بھی ہو۔ لہذا آپ اگر کسی شخص کی تحریر سے متفق نہیں ہیں تو اس کی تردید کرسکتے ہیں لیکن کافر نہیں کہہ سکتے ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
محمد نجیب قاسمی، سنبھلی (This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)