بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی ؒ

آج امت مسلمہ خاص کر بر صغیر میں رہنے والے مسلمان مختلف جماعتوں، گروہوں اور تنظیموں میں منقسم ہوگئے ہیں۔۔ ہر فرقہ اور گروہ سمجھتا ہے کہ وہ ہی حق پر ہے اور دوسرے باطل پر ہیں۔(سورہ الروم ۳۲)
قرآن وحدیث کے مطالعہ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اختلاف فی نفسہ برا نہیں ہے بشرطیکہ اختلاف کا بنیادی مقصد حقیقت کا اظہار ہو اور اس اختلاف سے کسی کی دل آزاری اور اہانت مطلوب ومقصود نہ ہو۔ اختلاف تو دور نبوت میں بھی تھا۔ بعض امور میں صحابہ کرام کی رائے ایک دوسرے سے مختلف ہوا کرتی تھی۔ بعض مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے صحابہ کرام سے مشورہ لیا اور آپ ا نے اپنی رائے کے بجائے صحابہ کرام کے مشورہ پر عمل کیا، مثلاً غزوۂ احد کے موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے صحابہ کرام کے نقطۂ نظر پر عمل کرکے مدینہ منورہ سے باہر نکل کر کفار مکہ کا مقابلہ کیا۔
غزوۂ احزاب سے واپسی پر نبی اکرم انے صحابہ کرام کی ایک جماعت کو فوراً بنو قریظہ روانہ فرمایااور کہا کہ عصر کی نماز وہاں جاکر پڑھو۔ راستہ میں جب نمازِ عصر کا وقت ختم ہونے لگا تو صحابہ کرام میں عصرکی نماز پڑھنے کے متعلق اختلاف ہوگیا۔ ایک جماعت نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے فرمان کے مطابق ہمیں بنو قریظہ ہی میں جاکر نمازِ عصر پڑھنی چاہئے خواہ عصر کی نماز قضا ہوجائے، جبکہ دوسری جماعت نے کہا کہ آپ اکے کہنے کا منشا یہ تھا کہ ہم عصر کی نماز کے وقت میں ہی بنو قریظہ پہونچ جائیں گے،لیکن اب چونکہ عصر کے وقت میں بنو قریظہ کی بستی میں پہونچ کر نمازِ عصر پڑھنا ممکن نہیں ہے،لہذا ہمیں عصر کی نماز ابھی پڑھ لینی چاہئے۔ اس طرح صحابہ کرام دو جماعت میں منقسم ہوگئے، کچھ حضرات نے نماز عصر وہیں پڑھی ، جبکہ دوسری جماعت نے بنو قریظہ کی بستی میں جاکر قضا پڑھی۔ جب صبح نبی اکرم ابنو قریظہ پہونچے اور اس واقعہ سے متعلق تفصیلات معلوم ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کسی جماعت پر بھی کوئی تنقید نہیں کی اورنہ ہی اس اہم موقع پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کوئی ہدایت جاری کی، جس سے معلوم ہوا کہ احکام میں اختلاف تو کل قیامت تک جاری رہے گا اور اس نوعیت کا اختلاف مذموم نہیں ہے۔ البتہ عقائد اور اصول میں اختلاف کرنا مذموم ہے۔
علامہ ابن القیم ؒ نے اپنی کتاب (الصواعق المرسلۃ) میں دلائل کے ساتھ تحریر فرمایا ہے کہ صحابہ کرام کے درمیان بھی متعدد مسائل میں اختلاف تھا، جن میں سے ایک مسئلہ ایک مجلس میں ایک لفظ سے تین طلاق کے واقع ہونے کے بارے میں ہے۔ یہ اختلاف محض اظہار حق یا تلاش حق کے لئے تھا۔
لیکن! آج ہم اختلاف کے نام پر بغض وعناد کررہے ہیں، اپنے مکتب فکر کو صحیح اور دیگر مکاتب فکر کو غلط قرار دینے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کررہے ہیں حالانکہ اسلام میں اختلاف کی گنجائش تو ہے مگر بغض وعناد اور لڑائی جھگڑا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں فرمایا: آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ بزدل ہوجاؤگے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔(سورہ الانفال ۴۶)
آج غیر مسلم قومیں خاص کر یہودونصاریٰ کی تمام مادی طاقتیں مسلمانوں کو زیر کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ دنیاوی طاقتیں اسلام اور مسلمانوں کو ذلیل ورسوا کرنے کے لئے ہر ممکن حربہ استعمال کررہی ہیں، جس سے ہر ذی شعور واقف ہے۔ لہذا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ صحابہ اور اکابرین کی سیرت کی روشنی میں اپنے اختلاف کو صرف اظہار حق یا تلاش حق تک محدود رکھیں۔ اپنا موقف ضرور پیش کریں، لیکن دوسرے کی رائے کی صرف اس بنیاد پر مخالفت نہ کریں کہ اس کا تعلق دوسرے مکتب فکر سے ہے۔ اب تو دیگر آسمانی مذاہب کے ساتھ بھی ہم آہنگی کی بات شروع ہونے لگی ہے۔ لہذا ہمیں امت مسلمہ کے شیرازہ کو بکھیرنے کے بجائے اس میں پیوندکاری کرنی چاہئے۔ اگر کسی عالم کے قول میں کچھ نقص ہے تو اس کی زندگی کا بیشتر حصہ سامنے رکھ کر اس کی عبارت میں توجیہ وتاویل کرنی چاہئے، نہ کہ اس پر کفر وشرک کے فتوے لگائے جائیں۔ فروعی مسائل میں اختلاف کی صورت میں دیگر مکاتب فکر کی رائے کا احترام کرتے ہوئے قرآن وحدیث کی روشنی میں اپنا موقف ضرور پیش کیا جاسکتا ہے، لیکن دوسرے مکتب فکر کی رائے کی تذلیل اور رسوائی ہماری زندگی کا مقصد نہیں ہونا چاہئے۔
برصغیر میں مختلف مکاتب فکر کے آپسی اختلافات کا شکار حدیث کی بے لوث خدمت کرنے والی شخصیت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ؒ کی بھی ہے۔ فضائل سے متعلق ان کی تحریر کردہ ۹ کتابوں کے مجموعہ (فضائل اعمال) کو بھرپور تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کی علم حدیث کی عظیم خدمات کو ہی پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ ان ۹ کتابوں کے مجموعہ پر مختلف اعتراضات کئے گئے، جن کے متعدد جوابات شائع ہوئے اور یہ سلسلہ برابر جاری وساری ہے۔ اس سلسلہ کی اہم کڑی حضرت مولانا لطیف الرحمن صاحب قاسمی کی عربی زبان میں تحریر کردہ وہ جامع کتاب (تحقیق المقال فی تخریج احادیث فضائل الاعمال للشیخ محمد زکریا ؒ ) ہے جو بیروت (لبنان) اور دبئی سے شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں ہے اور ۶۶۴ صفحات پر مشتمل ہے۔ ہندوپاک میں اس کے دو ترجمہ اختصار کے ساتھ شائع ہوچکے ہیں۔
شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ؒ کے ان ۹ کتابوں کے مجموعہ پر اعتراضات کا خلاصہ دو امور پر مشتمل ہے:
کتاب میں ضعیف احادیث بھی تحریر کی گئی ہیں۔
بزرگوں کے واقعات کثرت سے ذکر کئے گئے ہیں۔
مسئلہ کی وضاحت سے قبل چند تاریخی حقائق کو سمجھیں:
*
نبی اکرم اکے زمانے میں حدیث لکھنے کی عام اجازت نہیں تھی تاکہ قرآن وحدیث میں اختلاط نہ پیدا ہوجائے۔
*
خلفاء راشدین کے زمانہ میں بھی حدیث لکھنے کا نظم صرف انفرادی طور پر اور وہ بھی محدود پیمانے پرتھا۔
*
۲۰۰ہجری سے ۳۰۰ ہجری کے درمیان احادیث لکھنے کا خاص اہتمام ہوا، چنانچہ حدیث کی مشہور ومعروف کتابیں : بخاری، مسلم، ترمذی،ابوداؤد، ابن ماجہ، نسائی وغیرہ( جن کو صحاح ستہ کہا جاتا ہے) اسی دور میں تحریر کی گئی ہیں، جبکہ مؤطا امام مالک ۱۶۰ ہجری کے قریب تحریرہوئی۔ ان احادیث کی کتابوں کی تحریر سے قبل ہی ۱۵۰ ہجری میں امام ابوحنیفہ ؒ (شیخ نعمان بن ثابت) کی وفات ہوچکی تھی۔ امام محمد ؒکی روایت سے امام ابوحنیفہؒ کی حدیث کی کتاب (کتاب الآثار) ان احادیث کی کتابوں کی تحریر سے قبل مرتب ہوگئی تھی۔
*
نبی اکرم کے فرمان یا عمل کو جو حدیث ذکر کرنے کا بنیادی مقصد ہوتا ہے، متن حدیث کہا جاتا ہے۔
*
جن واسطوں سے یہ حدیث محدث تک پہنچتی ہے اس کو سند حدیث کہتے ہیں۔ حدیث کی مشہور کتابوں میں محدث اور صحابی کے درمیانعموماً دو یا تین یا چار واسطے ہیں، کہیں کہیں اس سے زیادہ بھی ہیں۔
*
احادیث کی کتابیں تحریر ہونے کے بعد حدیث بیان کرنے والے راویوں پر باقاعدہ بحث ہوئی، جس کو اسماء الرجال کی بحث کہا جاتا ہے۔
احکام شرعیہ میں علماء وفقہاء کے اختلاف کی طرح بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ شدید اختلاف محدثین کا راویوں کو ضعیف اور ثقہ قرار دینے
میں ہے۔ یعنی ایک حدیث ایک محدث کے نقطۂ نظر میں ضعیف اور دیگر محدثین کی رائے میں صحیح ہوسکتی ہے۔
*
سند میں اگر کوئی راوی غیر معروف ثابت ہوا یعنی یہ معلوم نہیں کہ وہ کون ہے، یا اس نے کسی ایک موقع پر جھوٹ بولا ہے، یا سند میں انقطاعہے۔۔۔۔۔ تو اس بنیاد پر محدثین وفقہاء احتیاط کے طور پر اس راوی کی حدیث کو عقائد اور احکام میں قبول نہیں کرتے ہیں بلکہ جو عقائدیااحکام صحیح مستند احادیث سے ثابت ہوئے ہیں ان کے فضائل کے لئے قبول کرتے ہیں۔ چنانچہ بخاری ومسلم کے علاوہ حدیث کی مشہورومعروف تمام ہی کتابوں میں ضعیف احادیث کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے ، اور امت مسلمہ ان کتابوں کوزمانۂ قدیم سے قبولیت کا شرفدئے ہوئے ہے، حتی کہ بخاری کی تعالیق اور مسلم کی شواہد میں بھی ضعیف احادیث موجود ہیں۔ امام بخاری ؒ نے حدیث کی متعدد کتابیںتحریر فرمائیں، بخاری شریف کے علاوہ ان کی بھی تمام کتابوں میں ضعیف احادیث کثرت سے موجود ہیں۔
نوٹ: اگر ضعیف احادیث قابل اعتبار نہیں ہیں تو سوال یہ ہے کہ محدثین نے اپنی کتابوں میں انہیں کیوں حمع کیا ؟ اور ان کے لئے طویل سفر کیوں کئے؟ نیز یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ اگر ضعیف حدیث کو قابل اعتبار نہیں سمجھا جائے گا تو سیرت نبوی اور تاریخ اسلام کا ایک بڑا حصہ دفن کرنا پڑے گا۔ زمانۂ قدیم سے جمہور محدثین کا اصول یہی ہے کہ ضعیف حدیث فضائل میں معتبر ہے اور انہوں نے ضعیف حدیث کو صحیح حدیث کی اقسام کے ضمن میں ہی شمار کیا ہے۔
مسلم شریف کی سب سے زیادہ مقبول شرح لکھنے والے امام نووی ؒ (مؤلف ریاض الصالحین ) فرماتے ہیں: محدثین، فقہاء، اور ان کے علاوہ جمہور علماء نے فرمایا ہے کہ ضعیف حدیث پر عمل کرنا فضائل اور ترغیب وترہیب میں جائز اور مستحب ہے ۔ (الاذکار، ص ۷۔۸)
اسی اصول کودیگر علماء ومحدثین نے تحریر فرمایا ہے جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں:
شیخ ملا علی قاری ؒ (موضوعات کبیرہ ص ۵ ، شرح العقاریہ ج ۱ ص ۹، فتح باب العنایہ ۱/۴۹)
شیخ امام حاکم ابو عبداللہ نیشاپوریؒ (مستدرک حاکم ج ۱ ، ص ۴۹۰)
شیخ ابن حجر الہیثمی ؒ (فتح المبین، ص ۳۲)
شیخ ابو محمد بن قدامہ ؒ (المغنی ۱ / ۱۰۴۴)
شیخ علامہ الشوکانی ؒ (نیل الاوطار ۳ / ۶۸)
شیخ حافظ ابن رجب حنبلی ؒ (شرح علل الترمذی ۱/۷۲ ۔ ۷۴)
شیخ علامہ ابن تیمیہ حنبلی ؒ (فتاویٰ ج ۱ ص ۳۹)
شیخ نواب صدیق حسن خان ؒ (دلیل الطالب علی المطالب ص ۸۸۹)
جہاں تک بزرگوں کے واقعات بیان کرنے کا تعلق ہے تو اس سے کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا ہے بلکہ صرف قرآن وحدیث سے ثابت شدہ حکم کی تائید کے لئے کسی بزرگ کا واقعہ ذکر کیا جاتا ہے ۔ بزرگوں کے واقعات تحریر کرنے کا رواج ہر وقت اور ہر مکتب فکر میں موجود ہے، جیسا کہ مولانا لطیف الرحمن قاسمی صاحب نے اپنی کتاب (تحقیق المقال فی تخریج احادیث فضائل الاعمال للشیخ محمد زکریا ؒ ) میں دیگر مکاتب فکر کے متعدد علماء کی کتابوں کے نام حوالوں کے ساتھ تحریر فرمائے ہیں۔ امت مسلمہ کا ایک بڑا حصہ اس بات پر متفق ہے کہ کبھی کبھی بزرگوں کے ذریعہ ایسے واقعات رونما ہوجاتے ہیں جن کا عام آدمی سے صدور مشکل ہوتا ہے۔ نیز اگر مان بھی لیا جائے کہ کتاب میں بعض واقعات کا ذکر غیر مناسب ہے یا چند موضوع احادیث ذکر کردی گئی ہیں، اگرچہ وہ احادیث کی مشہور ومعروف کتابوں سے ہی لی گئی ہیں، تو صرف اس بنیاد پر ان کی حدیث کی خدمات کو نظر انداز کرنا ان کی عظیم شخصیت کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔ شیخ الحدیثؒ ؒ نے چالیس سال سے زیادہ حدیث کی کتابیں پڑھائیں، کوئی تنخواہ نہیں لی۔ سو سے زیادہ عربی واردو زبان میں کتابیں تحریر فرمائیں، ایک کتاب کے حقوق بھی اپنے لئے محفوظ نہیں رکھے۔ ۱۸ جلدوں پر مشتمل (اوجز المسالک الی موطا امام مالک) کتاب عربی زبان میں تحریر فرمائی، جس سے لاکھوں عرب وعجم نے استفادہ کیا اور یہ سلسلہ برابر جاری ہے۔
شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ؒ کی شخصیت:
شیخ الحدیث ؒ ۱۰ رمضان ۱۳۱۵ھ (۱۲ فروری ۱۸۹۸) کو ضلع مظفر نگر کے قصبہ کاندھلہ کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے، آپ کے والد شیخ محمد یحیےٰ ؒ مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور میں استاذ حدیث تھے۔ آپ کے دادا شیخ محمد اسماعیل ؒ بھی ایک بڑے جید عالم تھے۔ آپ کے چچا شیخ محمد الیاس ؒ ہیں جو فاضل دارالعلوم دیوبند ہونے کے ساتھ تبلیغی جماعت کے مؤسس بھی ہیں، جنہوں نے امت مسلمہ کی اصلاح کے لئے مخلصانہ کوشش کرتے ہوئے ایک ایسی جماعت کی بنیاد ڈالی، جسکی ایثار وقربانی کی بظاہر کوئی نظیر اس دور میں نہیں ملتی، اور یہ جماعت ایک مختصر عرصہ میں دنیا کے چپہ چپہ میں یہاں تک کہ عربوں میں بھی پھیل چکی ہے۔ ۶ خلیجی ممالک، ۲۲ عرب ممالک اور ۷۵ اسلامی ممالک مل کر بھی آج تک کوئی ایسی منظم جماعت نہیں تیار کرسکے ، جس کی ایک آواز پر بغیر کسی اشتہاری وسیلہ کے لاکھوں کا مجمع پلک جھپکتے ہی جمع ہوجائے۔۔۔ عمومی طور پر اب ہماری زندگی دن بدن منظم ہوتی جارہی ہے، چنانچہ اسکول ، کالج اور یونیورسٹی حتی کہ مدارس عربیہ اسلامیہ میں بھی داخلہ کا ایک معین وقت، داخلہ کے لئے ٹیسٹ اور انٹرویو ، کلاسوں کا نظم ونسق،پھر امتحانات اور ۳ یا ۵ یا ۸ سالہ کورس اور ہر سال کے لئے معین کتابیں پڑھنے پڑھانے کی تحدید کردی گئی ہے۔ حالانکہ قرآن وحدیث سے ان کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اسی طرح اپنی اور بھائیوں کی اصلاح کے لئے کوئی وقت متعین نہیں ہونا چاہئے، لیکن تعلیم وملازمت وکاروبار غرضیکہ ہماری زندگیوں کے منظم شیڈیول کو سامنے رکھتے ہوئے اکابرین نے اس محنت کے لئے بھی وقت کی ایک ترتیب دے دی ہے۔۔۔ انفرادی طور پر جب ہمارے اندر کمیاں موجود ہیں تو اجتماعی طور پر کام کرنے کی صورت میں کمیاں ختم نہیں ہوجائیں گی۔ موجودہ دور کی کوئی بھی اسلامی تنظیم تنقید سے خالی نہیں ہے۔۔۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ شیخ محمد الیاس ؒ کی فکر سے وجود میں آنی والی اپنی اور بھائیوں کی اصلاح کی مذکورہ کوشش مجموعی اعتبار سے بے شمار خوبیاں اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ؒ کے چچازاد بھائی شیخ محمد یوسف بن شیخ محمد الیاس ؒ تھے جنہوں نے عربی زبان میں تین جلدوں پر مشتمل حیاۃ الصحابہ تحریر فرمائی، جس کے مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی ہوئے، جو عرب وعجم میں لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوئے اور ہورہے ہیں ،جن سے لاکھوں کی تعداد نے استفادہ کیا اور کررہے ہیں۔
اس خاندان نے عربی و اردو میں سینکڑوں کتابیں تحریر کیں لیکن خلوص وللہیت کی واضح علامت یہ ہے کہ ایک کتاب کے حقوق بھی اپنے لئے محفوظ نہیں کئے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے اجرعظیم کی امید کے ساتھ اعلان کردیا کہ جو چاہے شائع کرے، فروخت کرے، تقسیم کرے، چنانچہ دنیا کے بے شمار ناشرین خاص کر لبنان کے متعدد ناشرین اس خاندان کی عربی کتابیں بڑی مقدار میں شائع کررہے ہیں اور عربوں میں ان کی کتابیں بہت مقبول ہیں۔ سعودی عرب کے تقریباً تمام بڑے مکتبوں میں ان کی کتابیں (مثلاً اوجز المسالک الی مؤطا امام مالک اور حیاۃ الصحابہ ) دستیاب ہیں۔
۱۲سال کی عمر میں شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ؒ نے مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور میں داخلہ لیا۔ دارالعلوم دیوبند کے بعد مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور برصغیر کا سب سے بڑا مدرسہ شمار کیا جاتا ہے جس کی بنیاد دارالعلوم دیوبند کے ۶ ماہ بعد رکھی گئی تھی۔ شیخ الحدیث ؒ کے حدیث کے اہم اساتذہ میں شیخ خلیل احمد سہارن پوری ؒ ، آپ کے والد شیخ محمد یحیٰ ؒ اور آپ کے چچا شیخ محمد الیاس ؒ تھے۔
والد کے انتقال کے بعد صرف ۲۰ سال کی عمر میں (۱۳۳۵ھ میں) مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور میں استاذ ہوگئے۔ ۱۳۴۱ ھ میں اپنے شیخ خلیل احمد سہارن پوریؒ کے اصرار پر صرف ۲۶ سال کی عمر میں بخاری شریف کا درس دینا شروع فرمادیا۔ ۱۳۴۵ھ میں نبی اکرم اکے شہر مدینہ منورہ میں ایک سال قیام فرمایا اور مدرسہ العلوم الشرعیہ (مدینہ منورہ) میں حدیث کی مشہور کتاب ابو داؤد پڑھائی۔ یہ مدرسہ آج بھی موجود ہے، جس کے ذمہ دار سید حبیب مدنی ؒ کے بڑے صاحبزادہ ہیں۔ مدینہ منورہ کے قیام کے دوران ہی اپنی مشہور کتاب اوجز المسالک الی مؤطا امام مالک کی تالیف شروع فرمادی تھی، اس وقت آپ کی عمر صرف ۲۹ سال تھی۔ ۱۳۴۶ھ میں مدینہ منورہ سے واپسی کے بعد دوبارہ مدرسہ مظاہر العلوم میں حدیث کی کتابیں خاص کر بخاری شریف اور ابوداؤد پڑھانے لگے اور یہ سلسلہ ۱۳۸۸ ھ یعنی ۷۳ سال کی عمر تک جاری رہا۔ غرضیکہ آپ نے ۵۰ سال سے زیادہ حدیث پڑھانے اور لکھنے میں گزارے اور اس طرح ہزاروں طلبہ نے آپ سے حدیث پڑھی جو دین اسلام کی خدمت کے لئے دنیا کے کونے کونے میں پھیل گئے۔
شیخ الحدیث ؒ نے حج کی ادائیگی کے لئے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے متعدد سفر کئے ۔ ۱۳۴۵ ھ میں آپ اپنے استاذ شیخ خلیل احمد سہارن پوری ؒ کے ساتھ مدینہ منورہ میں مقیم تھے کہ آپ کے استاذ محترم کا انتقال ہوگیا اور وہ جنت البقیع میں اہل بیت کے قریب دفن کئے گئے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ؒ کی بھی خواہش تھی کہ مدینہ منورہ میں ہی مولائے حقیقی سے جا ملوں، چنانچہ بتاریخ یکم شعبان ۱۴۰۲ ہجری  (24 May 1982) مدینہ منورہ میں آپ کا انتقال ہوا۔ ایک عظیم جم غفیر کی موجودگی میں مدینہ منورہ کے مشہور ومعروف قبرستان البقیع کے اس خطہ میں دفن کئے گئے جہاں اب تدفین کا سلسلہ بند ہوگیا ہے۔ مسجد نبوی کے تقریباً تمام ائمہ شیخ الحدیث ؒ کے جنازہ میں شریک تھے ۔ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ کے بھتیجے سید حبیب مدنی ؒ (سابق رئیس الاوقاف، مدینہ منورہ )نے اپنی نگرانی میں شیخ الحدیثؒ کی قبر اُن کے استاذ شیخ خلیل احمد سہارن پوری ؒ کے جوار میں بنوائی، اس طرح دونوں شیوخ اہل بیت کے قریب ہی مدفون ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کے استاذ اور مجاہد آزادی شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ نے چند مرحلوں میں تقریباً ۱۵ سال مسجد نبوی میں علوم نبوت کا درس دیا ۔ ان کے بھتیجے سید حبیب مدنی ؒ ایک طویل عرصہ تک مدینہ منورہ کے گورنر کی سرپرستی میں مدینہ منورہ کے انتظامی امور دیکھتے رہے، غرضیکہ وہ عرصۂ دراز تک مساعد گورنر تھے۔ سعودی عرب میں کوئی بھی ہند نزاد سعودی اتنے بڑے عہدہ پر فائز نہیں ہوا۔
*
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جو شخص مدینہ میں مر سکتا ہے (یعنی یہاں آکر موت تک قیام کرسکتا ہے) اسے ضرور مدینہ میں مرنا چاہئے کیونکہ میں اس شخص کی شفاعت کروں گا جو مدینہ منورہ میں مرے گا ۔ (ترمذی(
شیخ الحدیث ؒ کو آخری عمر میں (۱۳۹۷ھ میں) سعودی شہریت (Saudi Nationality) بھی مل گئی تھی اور انہوں نے سعودی پاسپورٹ سے ہی ہندوستان کا آخری سفر اور اس سے قبل ساؤتھ افریقہ کا سفر کیا تھا۔ شیخ الحدیث ؒ کے خلیفہ شیخ عبد الحفیظ عبد الحق مکی صاحب بھی سعودی ہیں جو اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ ۱۹۵۲ میں ہجرت فرماکر مکہ مکرمہ میں مقیم ہوئے، مکہ مکرمہ میں مکتبہ امدادیہ کے مالک ہیں۔ اس مکتبہ سے ہندوپاک کے علماء کی عربی کتابیں سعودی حکومت کی اجازت کے بعد بڑی مقدار میں شائع ہوتی ہیں۔
شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ؒ کی علمی خدمات:
شیخ الحدیث ؒ نے عربی اور اردو میں ۱۰۰ سے زیادہ کتابیں تحریر فرمائی ہیں جن میں سے بعض اہم کتابوں کا مختصر تعارف عرض ہے:
اوجز المسالک الی مؤطا امام مالک : یہ کتاب عربی زبان میں ہے جو حدیث کی مشہور ومعروف کتاب مؤطا امام مالک کی شرح ہے۔ اس کتاب کی ۱۸ جلدیں ہیں جو آپ نے درس حدیث اور دیگر مصروفیات کے ساتھ ۱۳۷۵ھ میں ۳۰سال کی جدوجہد کے بعد تحریر فرمائی۔ مدینہ منورہ کے قیام کے دوران اس کتاب کی تالیف شروع فرمائی تھی، اس وقت آپ کی عمر صرف ۲۹ سال تھی۔ دنیا کے تقریباً تمام مکاتب فکر کے علماء اس کتاب سے استفادہ کرتے ہیں۔ لبنان کے متعدد ناشرین اس کتاب کے لاکھوں کی تعداد میں نسخے شائع کررہے ہیں۔ سعودی عرب کی تقریباً تمام ہی لائبریریوں اور مکتبوں کی یہ کتاب زینت بنی ہوئی ہے، مالکی حضرات اس کتاب کو نہایت عزت واحترام کے ساتھ پڑھتے اور پڑھاتے ہیں، یہاں تک کہ بعض مالکی علماء نے فرمایا ہے کہ ہمیں بعض فروعی مسائل سے واقفیت صرف اسی کتاب سے ہوئی ہے۔ بعض ناشرین نے اس کتاب کو ۱۵ جلدوں میں شائع کیا ہے۔
الابواب والتراجم للبخاری : اس کتاب میں بخاری شریف کے ابواب کی وضاحت کی گئی ہے۔ بخاری شریف میں احادیث کے مجموعہ کے عنوان پر بحث ایک مستقل علم کی حیثیت رکھتی ہے جسے ترجمۃ الابواب کہتے ہیں۔ شیخ زکریا ؒ نے اس کتاب میں شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ اور علامہ ابن حجر العسقلانی ؒ جیسے علماء کے ذریعہ بخاری کے ابواب کے بارے میں کی گئی وضاحتیں ذکر کرنے کے بعد اپنی تحقیقی رائے پیش کی ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں ہے اور اس کی ۶ جلدیں ہیں۔
لامع الدراری علی جامع صحیح البخاری : یہ مجموعہ دراصل شیخ رشید احمد گنگوہی ؒ کا درسِ بخاری ہے جو شیخ الحدیث ؒ کے والد شیخ محمد یحییٰ ؒ نے اردو زبان میں قلم بند کیا تھا۔ شیخ الحدیث مولانا زکریا ؒ نے اس کا عربی زبان میں ترجمہ کیا اور اپنی طرف سے کچھ حذف واضافات کرکے کتاب کی تعلیق اور حواشی تحریر فرمائے۔ اس طرح شیخ الحدیث ؒ کی ۱۲ سال کی انتہائی کوشش اور محنت کی وجہ سے یہ عظیم کتاب منظر عام پر آئی۔ اس کتاب پر شیخ الحدیث ؒ کا مقدمہ بے شمار خوبیوں کا حامل ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں ہے اور اس کی ۱۰ جلدیں ہیں۔
بذل المجھود فی حل ابی داؤد: یہ کتاب شیخ خلیل احمد سہارن پوری ؒ کی تحریر کردہ ہے لیکن شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ؒ کی چندسالوں کی کوشش کے بعد ہی ۱۳۴۵ ہجری میں مدینہ منورہ میں مکمل ہوئی۔ اس کتاب کے متعلق کہا جاتا ہے کہ شیخ الحدیث ؒ نے اپنے استاذ سے زیادہ وقت لگاکر اس کتاب کو پاےۂ تکمیل تک پہونچایا۔ یہ کتاب عربی زبان میں ہے اور اس کی تقریباً ۲۰ جلدیں ہیں۔
الکوکب الدری علی جامع الترمذی : یہ مجموعہ دراصل شیخ رشید احمد گنگوہی ؒ کا اردو زبان میں درسِ ترمذی شریف ہے جو شیخ الحدیث ؒ نے عربی زبان میں ترجمہ کرکے اپنی تعلیقات کے ساتھ مرتب کیا ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں ہے اور اس کی ۴ جلدیں ہیں۔
جزء حجۃ الوداع وعمرات النبی ا: اس کتاب میں شیخ الحدیث ؒ نے حضور اکرم ا کے حج اور عمرہ سے متعلق تفصیل ذکر فرمائی ہے۔ حج اور عمرہ کے مختلف مسائل اور مراحل، نیز ان جگہوں کے موجودہ نام جہاں حضور اکرم ا نے قیام فرمایا تھا یا جہاں سے گزرے تھے، ذکر کیا ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں ہے۔
خصائل نبوی شرح شمائل ترمذی: امام ترمذی ؒ کی مشہور تالیف (الشمائل المحمديۃ) کا تفصیلی جائزہ اردو زبان میں تحریر کیا ہے۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ بھی شائع ہوچکا ہے۔
شیخ الحدیث کی چند دیگر عربی کتابیں:
وجوب اعفاء اللحےۃ، اصول الحدیث علی مذہب الحنفےۃ، اولیات القیامۃ، تبویب احکام القرآن للجصاص، تبویب تاویل مختلف الاحادیث لابن قتیبۃ، تبویب مشکل الآثار للطحاوی، تقریر المشکاۃ مع تعلیقاتہ، تقریر النسائی، تلخیص البذل، جامع الروایات والاجزاء، جزء اختلاف الصلاۃ، جزء الاعمال بالنیات، جزء افضل الاعمال، جزء امراء المدینۃ، جزء انکحتہا، جزء تخریج حدیث عائشۃ فی قصۃ بریرۃ، جزء الجہاد، جزء رفع الیدین، جزء طرق المدینۃ، جزء المبہمات فی الاسانید والروایات، جزء ما قال المحدثون فی الامام الاعظم، جزء مکفرات الذنوب، جزء ملتقط المرقاۃ، جزء ملتقط الرواۃ عن المرقاۃ،حواشی علی الہداےۃ، شرح سلم العلوم، الوقائع والدھور (تین جلدیں، پہلی جلد نبی اکرم ا کی سیرت کے متعلق، دوسری جلد خلفاء راشدین کے متعلق اور تیسری جلد دیگر حکمرانوں کی تاریخ کے متعلق)۔
شیخ الحدیث کی چند اردو کتابیں:
الاعتدال فی مراتب الرجال، آپ بیتی (۷ جلدیں)، اسباب اختلاف الائمہ، التاریخ الکبیر، سیرت صدیق ؓ ، نظام مظاہر العلوم (دستور)، تاریخ مظاہر العلوم، شرح الالفےۃ (تین جلدیں) ، اکابر کا تقویٰ، اکابر کا رمضان، اکابر علماء دیوبند، شریعت وطریقت کا تلازم (اس کا عربی زبان میں ترجمہ مصر سے شائع ہوچکا ہے) ، موت کی یاد، فضائل زبان عربی، فضائل تجارت، اور فضائل پر مشتمل ۹ کتابوں کامجموعہ فضائل اعمال ۔
چند سطریں شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ؒ کی شخصیت کے متعلق تحریر کی ہیں، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ تفصیلات کے لئے دیگر کتابوں کے ساتھ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ؒ کی کتاب (تذکرۂشیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ؒ ) کا مطالعہ فرمائیں۔ میرے ہر ہر لفظ سے آپ کا متفق ہونا کوئی ضروری نہیں ہے، البتہ فضائل اعمال کو سامنے رکھ کر شیخ الحدیث ؒ کی شخصیت پر کچھ کہنے یا لکھنے سے قبل ان کی دیگر تصانیف خاص کر ۱۸ جلدوں پر مشتمل مشہورومعروف عربی زبان میں تحریر کردہ کتاب(اوجز المسالک الی مؤطا امام مالک) کا مطالعہ کرلیں۔ عربی سے واقفیت نہ ہونے کی صورت میں دنیا کے کسی بھی خطہ کے معروف عالم خاص کر عرب علماء سے اس کتاب کے متعلق معلومات حاصل کرلیں۔
محمد نجیب قاسمی سنبھلی، ریاض (This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)