بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

فرمان نبی ﷺ: اگر اہل شام میں فساد برپا ہوجائے تو پھر تم میں کوئی خیر نہیں

چند ایام قبل ملک شام کے مشہور شہر حلب (Aleppo) میں ہزاروں مسلمانوں کا ناحق خون بہایا گیا۔ یہ شہر دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ دمشق سے ۳۱۰ کیلومیٹر کے فاصلہ پر ملک شام کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ جو شہر آج سے پانچ سال پہلے تک دنیا میں ایک اہم تجارتی مرکز تسلیم کیا جاتا تھا، آج وہاں زندگی کے آثار تقریباً ختم ہوگئے ہیں، کھنڈرات نظر آرہے ہیں۔ صرف نام کے لئے اس شہر پر ظالم بشار الاسد کی حکومت کا قبضہ ہوگیا ہے، لیکن تباہ شدہ عمارتوں اور لاشوں کے انبار کے سوا حکومت کرنے کے لئے پچاس لاکھ کی آبادی والے اس شہر میں کچھ بھی نہیں بچا۔

نبی اکرم ﷺ کے قیمتی اقوال کی روشنی میں مسلمان ایک دوسرے کے بھائی اور ایک جسم کے مانند ہیں ، لہذا ہماری دینی واخلاقی ذمہ داری ہے کہ اگر ہم اپنا مالی تعاون کسی ذریعہ سے وہاں تک پہنچاسکتے ہیں تو ضرور سبقت کریں، ورنہ کم از کم اپنی دعاؤں میں ملک شام خاص کر حلب میں امن وسکون کے لئے اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ شام خاص کر حلب میں مسلمانوں کے احوال کو صحیح فرما۔ یا اللہ! ملک شام میں مسلمانوں کے خون خرابے کو ختم فرما۔ اللہ تعالیٰ حلب کے مظلوم مسلمانوں کی مدد فرما۔ اللہ تعالیٰ ملک شام کے مسلمانوں کو دین اسلام پر قائم رہنے والا بنا۔ جو عناصر ملک شام کے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو ناکام بنادے، ان کو ذلیل کردے۔ آمین۔

الیکٹرونک میڈیا، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ حلب کے اس دردناک حادثہ کے متعلق بے شمار مضامین شائع ہوئے، ٹیلی ویزن پر تبصرہ نشر کئے گئے اور خبریں سنیں اور پڑھیں۔ چونکہ یہ خطہ ۲۰۱۱ سے برابر جنگ سے دوچار ہے، حالانکہ ملک شام کے متعدد فضائل احادیث نبویہ میں مذکور ہیں اور قرآن کریم میں بھی ملک شام کی سرزمین کا بابرکت ہونا متعدد آیات میں مذکور ہے، اس لئے میں نے ارادہ کیا کہ اس خطہ کے متعلق قرآن وحدیث کی روشنی میں ایک مختصر مضمون تحریر کیا جائے۔

شام سریانی زبان کا لفظ ہے جو حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے حضرت سام بن نوح کی طرف منسوب ہے۔ طوفان نوح کے بعد حضرت سام اسی علاقہ میں آباد ہوئے تھے۔ یہ سرزمین پہلی جنگ عظیم تک عثمانی حکومت کی سرپرستی میں ایک ہی خطہ تھی۔ بعد میں برطانیہ اور فرانس کی پالیسیوں نے اس سرزمین کو چار ملکوں (سوریا، لبنان، فلسطین اور اردن) میں تقسیم کرادیا،لیکن قرآن وسنت میں جہاں بھی ملک شام کا تذکرہ وارد ہوا ہے اس سے یہ پورا خطہ مراد ہے جو عصر حاضر کے چار ملکوں (سوریا، لبنان، فلسطین اور اردن)پر مشتمل ہے۔ اسی مبارک سرزمین کے متعلق نبی اکرم ﷺکے متعدد ارشادات احادیث کی کتابوں میں محفوظ ہیں مثلاً اسی مبارک سرزمین کی طرف حضرت امام مہدی حجاز مقدس سے ہجرت فرماکر قیام فرمائیں گے اور مسلمانوں کی قیادت فرمائیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی اسی علاقہ یعنی دمشق کے مشرق میں سفید مینار پر ہوگا۔ غرضیکہ یہ علاقہ قیامت سے قبل اسلام کا مضبوط قلعہ ومرکز بنے گا۔

حضور اکرم ﷺ نے جزیرۂ عرب کے باہر اگر کسی ملک کا سفر کیا ہے تو وہ صرف ملک شام ہے۔ اسی سرزمین میں واقع مسجد اقصیٰ کی طرف ایک رات آپ ﷺکو مکہ مکرمہ سے لے جایا گیا اوروہاں آپ ﷺنے تمام انبیاء کی امامت فرماکر نماز پڑھائی، پھر بعد میں اسی سرزمین سے آپ ﷺکو آسمانوں کے اوپر لے جایا گیا جہاں آپ ﷺکی اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضری ہوئی۔ ملک شام میں دین اسلام پہونچنے تک تقریباً ۱۵۰۰ سال سے سریانی زبان ہی بولی جاتی تھی، لیکن ملک شام کے باشندوں نے انتہائی خلوص ومحبت کے ساتھ دین اسلام کا استقبال کیا اور بہت کم عرصہ میں عربی زبان ان کی مادری واہم زبان بن گئی، بڑے بڑے جید محدثین، فقہاء وعلماء کرام اس سرزمین میں پیدا ہوئے۔ دمشق کے فتح ہونے کے صرف ۲۶یا۲۷ سال بعد دمشق اسلامی خلافت/حکومت کا دارالسلطنت بن گیا۔

اللہ تعالیٰ نے انس وجن وزمین وساری کائنات کو پیدا کیا۔ بعض انسانوں کو منتخب کرکے ان کو رسول ونبی بنایا، اسی طرح زمین کے بعض حصوں کو دوسرے حصوں پر فوقیت وفضیلت دی۔ اللہ تعالیٰ نے ملک شام کی سرزمین کو اپنے پیغمبروں کے لئے منتخب کیا چنانچہ انبیاء ورسل کی اچھی خاصی تعداد اسی سرزمین میں انسانوں کی رہنمائی کے لئے مبعوث فرمائی گئی۔ خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے جلیل القدر رسول اپنے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کے ہمراہ ملک عراق سے ہجرت فرماکر ملک شام ہی میں سکونت پذیر ہوئے۔ اسی مقدس سرزمین سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کے متعدد سفر کرکے مکہ مکرمہ کو آباد کیا اور وہاں بیت اللہ کی تعمیر کی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل کے بے شمار انبیاء (مثلاً حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت ایوب، حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت الیاس، حضرت زکریا، حضرت یحی اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام) کی یہ سرزمین مسکن ومدفن بنی اور انہوں نے اسی سرزمین سے اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلایا۔

قیامت کی بعض بڑی نشانیوں کا ظہور بھی اسی مقدس سرزمین پر ہوگا۔ چنانچہ حضرت مہدی اسی سرزمین سے مسلمانوں کی قیادت سنبھالیں گے۔ دمشق کے مشرق میں سفید مینار پر نماز فجر کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا،اور اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام امت مسلمہ کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔ دجال اور یاجوج وماجوج جیسے بڑے بڑے فتنے بھی اسی سرزمین سے ختم کئے جائیں گے۔ دنیا کے چپہ چپہ پر اسی علاقہ کی سرپرستی میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگی۔یمن سے نکلنے والی آگ لوگوں کو اسی بابرکت سرزمین کی طرف ہانک کر لے جائے گی اور سب مؤمنین اس مقدس سرزمین میں جمع ہو جائیں گے ۔اور پھر اس کے بعد جلدی ہی قیامت قائم ہوجائے گی۔

شام کا ذکر قرآن کریم میں: چند آیات کا ترجمہ پیش ہے: پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندہ کو رات ہی میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے۔ (سورۃ الاسراء ۱) یہ علاقہ قدرتی نہروں اور پھلوں کی کثرت اور انبیاء کا مسکن ومدفن ہونے کے لحاظ سے ممتاز ہے، اس لئے اس کو بابرکت قرار دیا گیا۔۔۔ فرمان الہی ہے: ہم نے تند وتیز ہوا کو سلیمان کے تابع کردیا جو اُن کے فرمان کے مطابق اسی زمین کی طرف چلتی تھی جہاں ہم نے برکت دے رکھی ہے۔ یعنی ملک شام کی سرزمین۔ (سورۃ الانبیاء ۸۱) جس طرح پہاڑ اور پرندے حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے مسخر کردئے گئے تھے، اسی طرح ہوا حضرت سلیمان علیہ السلام کے تابع کردی گئی تھی وہ تخت پر بیٹھ جاتے تھے اور جہاں چاہتے، مہینوں کی مسافت لمحوں اور ساعتوں میں طے کرکے وہاں پہنچ جاتے۔ ہوا آپ کے تخت کو اُڑا کرلے جاتی تھی۔۔۔ فرمان الہی ہے: حضرت موسیٰ نے کہا: اے میری قوم والو! اس مقدس زمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نام لکھ دی ہے۔ (سورۃ المائدہ ۲۱) بنی اسرائیل کے مورث حضرت یعقوب علیہ السلام کا مسکن بیت المقدس تھا لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کی امارت مصر کے زمانے میں یہ لوگ مصر جاکر آباد ہوگئے تھے۔ تب سے اس وقت تک مصر ہی میں رہے جب تک حضرت موسیٰ علیہ السلام انہیں راتوں رات فرعون سے چھپ کر نکال نہیں لے گئے۔۔۔ فرمان الہی ہے: ہم ابراہیم اور لوط کو بچاکر اس زمین کی طرف لے گئے جس میں ہم نے تمام جہاں والوں کے لئے برکت رکھی تھی۔ (سورۃ الانبیاء ۷۱) حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام عراق سے مقدس سرزمین ملک شام ہجرت فرماگئے تھے۔

شام کی فضیلت نبی رحمت کی زبانی: محسن انسانیت ﷺ نے اس مبارک سرزمین کے متعدد فضائل بیان کئے ہیں، آپ ﷺ کے چند فرمان حسب ذیل ہیں: اے اللہ! ہمیں برکت عطا فرما ہمارے شام میں، ہمیں برکت دے ہمارے یمن میں۔ آپ نے یہی کلمات تین یا چار مرتبہ دوہرائے۔ (بخاری) فرمان رسول ہے: جب میں سویا ہوا تھا تو میں نے دیکھا کہ عمود الکتاب (ایمان) میرے سر کے نیچے سے کھینچا جارہا ہے۔ میں نے گمان کیا کہ اس کو اٹھا لے لیا جائے گا تو میری آنکھ نے اس کا تعاقب کیا ،اس کا قصد (ملک) شام کا تھا۔ جب جب بھی شام میں فتنے پھیلیں گے وہاں ایمان میں اضافہ ہوگا۔ (مسند احمد، طبرانی) دوسری روایت میں ہے: جب جب بھی فتنے پھیلیں گے تو شام میں امن وسکون رہے گا۔ (طبرانی) فرمان رسول ہے: اگر اہل شام میں فساد برپا ہوجائے تو پھر تم میں کوئی خیر نہیں ہے۔ میری امت میں ہمیشہ ایک ایسی جماعت رہے گی جس کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوگی اور اس کو نیچا دکھانے والے کل قیامت تک اس جماعت کو نقصان نہیں پہونچا سکتے ہیں۔ (ترمذی، ابن ماجہ) فرمان رسول ہے: میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے احکام کی پابندی کرے گی، جس کو نیچا دکھانے والے اور مخالفت کرنے والے نقصان نہیں پہونچا سکتے۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آنے تک وہ اللہ کے دین پر قائم رہیں گے۔مالک بن یخامر ؒ نے کہا اے امیر المؤمنین! میں نے حضرت معاذ ؓ سے سنا ہے کہ یہ جماعت ملک شام میں ہوگی۔ (بخاری، مسلم) فرمان رسول ہے: میری امت میں ایک جماعت حق کے لئے لڑتی رہے گی اور قیامت تک حق ان ہی کے ساتھ رہے گا۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے ملک شام کی طرف اشارہ کیا۔ (ابو دود، مسند احمد) فرمان رسول ہے: میری امت میں ایک جماعت دمشق اور بیت المقدس کے اطراف میں جہاد کرتی رہے گی۔ لیکن اس جماعت کو نیچا دکھانے والے اور اس جماعت کی مخالفت کرنے والے اس جماعت کو نقصان نہیں پہونچا پائیں گے اور قیامت تک حق انہیں کے ساتھ رہے گا۔ (رواہ ابو یعلی ورجالہ ثقات) قتل کرنے کے دن (یعنی جنگ میں) مسلمانوں کا خیمہ الغوطہ میں ہوگا جو دمشق کے قریب واقع ہے۔ (مسند احمد ، ابو داود) فرمان رسول ہے: مسلمانوں کا خیمہ الغوطہ میں ہو گا۔ اِس جگہ دمشق نامی ایک شہر ہے جو شام کے بہترین شہروں میں سے ایک ہے۔ (صحیح ابن حبان) فرمان رسول ہے: شام والو! تمہارے لئے خیر اور بہتری ہو۔ شام والو! تمہارے لئے خیر اور بہتری ہو۔ شام والو! تمہارے لئے خیر اور بہتری ہو۔ صحابۂ کرام نے سوال کیا: کس لئے یا رسول اللہ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رحمت کے فرشتوں نے خیر وبھلائی کے اپنے بازو اس ملک شام پر پھیلا رکھے ہیں (جن سے خصوصی برکتیں اس مقدس خطہ میں نازل ہوتی ہیں)۔ (ترمذی ، مسند احمد) فرمان رسول ہے: شام کی سرزمین سے ہی حشر قائم ہوگا۔ (مسند احمد، ابن ماجہ) فرمان رسول ہے: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دمشق کے مشرق میں سفید مینار پر ہوگا۔ المعجم الکبیر للطبرانی

اس مبارک سرزمین میں تقریباً پانچ سال سے جنگ جاری ہے، ہزاروں افراد کو ناحق قتل کردیا گیا، لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے۔ پورا ملک تقریباً پچاس سال پیچھے چلا گیا ۔ بے شمار اقتصادی، تعلیمی اور سماجی مسائل درپیش ہیں۔ چونکہ دنیا کے چودھری اس جنگ میں ملوث ہیں، اس لئے بظاہر ان مسائل کا حل نظر نہیں آرہا ۔ جو امور میرے، آپ کے اور عام مسلمانوں کے اختیار میں ہیں، ہم ان کو انجام دینے میں کوتاہی نہ کریں۔ اگر ہمارے مالی تعاون سے وہاں کسی بیوہ عورت یا یتیم بچہ کی کفالت ہوجائے تو وہ اس دور کا بہترین صدقہ جاریہ ہوگا۔ نیز ہمارا یہ ایمان ہے کہ تمام مسائل کا حل کرنے والا خالق مالک رازق کائنات ہے، لہٰذا اس خطہ میں امن وسلامتی کے لئے اللہ تعالیٰ سے ضرور دعائیں کریں۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)