Print

بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن

بیت المعمور کیا ہے اور وہ کہاں واقع ہے؟

بیت اللہ (خانۂ کعبہ) اللہ کا پہلا گھر ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے لئے زمین پر بنایا۔ اور اسی کی طرف رخ کرکے پوری دنیا کے مسلمان نماز ادا کرتے ہیں۔ چوبیس گھنٹوں میں صرف فرض نمازوں کے وقت خانہ کعبہ کا طواف رکتا ہے باقی دن رات میں ایک گھڑی کے لئے بھی بیت اللہ کا طواف بند نہیں ہوتا ہے۔ بیت اللہ کی اونچائی ۱۴ میٹر ہے جبکہ چوڑائی ہر طرف سے کم وبیش ۱۲ میٹر ہے۔

جس طرح دنیا میں بیت اللہ (خانۂ کعبہ) کا طواف کیا جاتا ہے، اسی طرح آسمانوں پر اللہ کا گھر ہے جس کو بیت المعمور کہا جاتا ہے، اُس کا فرشتے ہر وقت طواف کرتے ہیں۔ اس گھر کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: اور قسم ہے بیت معمور کی۔ سورۃ طور آیت ۴

جب حضور اکرم ﷺ کو معراج واسراء کی رات میں بیت المعمور لے جایا گیا تو حضور اکرم ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا یہ کیا ہے؟ حضرت جبرائیل نے کہا کہ یہ بیت معمور ہے، روزانہ ستر ہزار فرشتے اس کا طواف کرتے ہیں ، پھر اُن کی باری دوبارہ قیامت تک نہیں آتی۔ حدیث کی مشہور کتابوں میں یہ حدیث موجود ہے۔ طبری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت المعمور بیت اللہ (خانۂ کعبہ) کے بالکل اوپر آسمان پر ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ شب معراج میں رسول اللہ ﷺ جب بیت معمور پر پہونچے تو دیکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔ بعض روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت معمور ساتویں آسمان پر ہے۔

محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)