بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

انبیاءِ کرام کی سرزمین ’ملک شام‘ میں قیامتِ صغریٰ کا منظر

4 اپریل 2017ء کو ملک شام کے صوبہ اِدلب (Idlib) کے خان شیخون (Khan Shaykhun) علاقہ میں زہریلی گیس پر مشتمل بمباری سے ہزاروں افراد کی زندگی متاثر ہوئی۔ تقریباً سو افراد منجملہ متعدد معصوم بچوں کے موت کی نیند سوگئے اور پانچ سو سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے۔ انسانیت سوز اِس حادثہ کی ذمہ داری کے لیے ایک دوسرے پر الزام تراشی جاری ہے، لیکن اصولی طور پر ملک میں قوانین کے نفاذ اور ملک میں امن وسلامتی کے قیام کی مکمل ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، اس صوبہ میں سو فیصد بشار الاسد کی حکومت ہے۔ نیز الشعیرات (Al-Shayrat) کے جس ہوائی اڈہ سے پرواز کرکے جنگی جہازوں نے زہریلی گیس پر مشتمل بمباری کی وہ بشار الاسد کی حکومت کے مکمل کنٹرول میں ہے، جس پر امریکا نے 7 اپریل کو جواب میں بمباری کی، جو اِن دنوں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ چند ماہ قبل ملک شام کے مشہور شہر حلب (Aleppo) میں ہزاروں مسلمانوں کا ناحق خون بہایا گیا تھا۔ جو شہر (حلب) دنیا میں ایک اہم تجارتی مرکز تسلیم کیا جاتا تھا، آج وہاں کی پختہ عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل ہوگئیں۔ لہٰذا یہی کہا جائے گا کہ سوریا کے عام لوگوں پر کیے جارہے مظالم اور بربریت کا اصل ذمہ دار بشار الاسد اور اس کی حکومت ہے۔

2011 سے شروع ہوئی اس جنگ میں اب تک تین لاکھ افراد قتل کردئے گئے ہیں، جبکہ پانچ لاکھ افراد زخمی یا گمشدہ ہیں۔ صرف دو کروڑ آبادی والے اس ملک کے 70 لاکھ افراد بے گھر ہیں، یعنی ملک کی آبادی کا 35 فیصد در بدر ٹھوکریںکھاتا پھر رہا ہے، ان میں سے پندرہ لاکھ لبنان میں، دس لاکھ اردن میں، پانچ لاکھ مصر اور پانچ لاکھ ترکی میں پناہ گزینوں کے لیے تیار کردہ کیمپوں میں ہیں۔ اچھی خاصی تعداد مغربی ممالک میں بھی ہے۔ کچھ لوگ اپنے آباو اجداد کے علاقہ کو چھوڑکر ملک کے دوسرے علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔ ملک میں تباہی کے ساتھ بے شمار اقتصادی، تعلیمی اور سماجی مسائل درپیش ہیں، جن کی اصلاح کے لیے جنگ بندی کے بعد پچاس سال سے زیادہ کا عرصہ درکار ہو گا۔ درمیانی طبقہ سے تعلق رکھنے والے بے شمار لوگ آج ایک وقت کی روٹی کے لیے پناہ گزینوں کے کیمپ کے اندر لمبی صف میں کھڑے نظر آرہے ہیں۔ دوسروں کے بچوں کی کفالت کرنے والے آج اپنے بچوں کی کفالت کے لیے بھیگ مانگ رہے ہیں۔ زمیندار لوگ ایک چارپائی کی جگہ کے لیے ترس رہے ہیں۔ ہزاروں ٹن زیتون کی کھیتی کرنے والے کسان زیتون کھانے کے لیے دوسروں کے محتاج بن گئے ہیں۔ پستہ جیسی طاقت ور چیز کی پیداوار کرنے والوں کو آج پیٹ بھر کر کھانا نہ ملنے کی وجہ سے کمزوری کی شکایت ہے۔ جن علاقوں سے دین اسلام کی خدمت کرنے والے پیدا ہوئے، آج وہاں کے رہنے والے غیروں کی تربیت گاہوں میں دنیاوی زندگی کے قیمتی اوقات گزار رہے ہیں، جس کا نتیجہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ 80 فیصد تعلیم یافتہ والے ملک کے افراد اِن دِنوں اپنے بچوں کو بنیادی تعلیم دینے کے لیے دوسروں کے رحم وکرم پر منحصر ہوگئے ہیں۔ پردہ میں رہنے والی بے شمار خواتین آج غیر محفوظ مقامات پر رات گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ بشار الاسد کی ناکام حکومت کے عام لوگوں پر کئے گئے مظالم نہیں تو اور کیا ہیں؟ 2011 میں تونس، مصر، لیبیا اور سوریا میں موجود حکومتوں کے خلاف انقلاب آئے، لیکن تونس کے صدر زین العابدین نے 24 سالہ اقتدار کو چھوڑ کر ملک کو تباہ ہونے سے بچالیا۔ مصر کے صدر حسنی مبارک نے عوامی مظاہروں کے بعد فوج کی دخل اندازی پر 30 سالہ اقتدار سے تنازل لے کر ملک کو تباہ ہونے سے بچالیا۔لیبیاکے صدر معمر القذافی کے خلاف انقلاب آنے پر اس کا 42 سالہ طویل دور ختم ہوگیا مگر ملک مزید تباہی سے بچ گیا۔ تونس اور مصر جیسی مثال پیش کرکے بشار الاسد اقتدار چھوڑ کر ملک کو تباہ ہونے سے بچاسکتے تھے۔ مگر بشار الاسد نے اپنے معاونین کے ساتھ مل کر عوام پر بمباری کی، گولیاں برسائیں، معصوم لوگوں کو قتل کیا گیا، انہیں اپنے ملک کو خیر آباد کہنے پر مجبور کیا گیا، جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ اس وقت روس کی مدد سے بشار الاسد کی حکومت انسانوں پر نہیں بلکہ تباہ شدہ عمارتوں اور کھنڈرات پر ہے۔

ملک شام میں عام لوگوں کے قتل عام اور زندگی کے مفلوج ہونے پر دنیا میں حقیقی امن وسلامتی کے علم برداروں کو جہاں تشویس ہے، وہیں قرآن وحدیث کی تعلیمات کے مطابق مسلمان ایک دوسرے کے بھائی اور ایک جسم کے مانند ہیں، اس لیے دنیا کے کونے کونے میں رہنے والے مسلمان ملک شام اور اس کے باشندوں کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کررہے ہیں۔ اہل قلم مضامین لکھ کر، علماء اپنے پند ونصائح کے ذریعہ، خطباء اپنی تقریروں، اہل ثروت اپنے مالی تعاون اور مخلصین اپنی دعاؤں کے ذریعہ اس مبارک خطہ میں امن وسلامتی کے خواہش مند ہیں، مگر کچھ لوگ اخوت اور بھائی چارہ میں رکاوٹ کا سامان بن کر حائل ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس سرزمین میں امن وسکون پیدا فرمائے، ظالموں کو ہدایت عطا فرمائے اور اگر ہدایت ان کے مقدر میں نہیں ہے تو انہیں صفحہ ہستی سے مٹادے تاکہ عام لوگ کھلی فضا میں چین وسکون کی نیند سوسکیں، جو ہر بشر کا بنیادی حق ہے۔

اس سرزمین کی خاص فضیلت قرآن وحدیث میں مذکور ہے۔ اسی مبارک سرزمین کی طرف حضرت امام مہدی حجاز مقدس سے ہجرت فرماکر قیام فرمائیں گے اور مسلمانوں کی قیادت فرمائیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی اسی علاقہ یعنی دمشق کے مشرق میں سفید مینار پر ہوگا۔ غرضیکہ یہ علاقہ قیامت سے قبل اسلام کا مضبوط قلعہ ومرکز بنے گا۔ حضور اکرمﷺ نے جزیرۂ عرب کے باہر اگر کسی ملک کا سفر کیا ہے تو وہ صرف ملک شام ہے۔ فرمان رسول ﷺکے مطابق شام کی سرزمین سے ہی حشر قائم ہوگا۔

قرآن وسنت میں جہاں بھی ملک شام کا تذکرہ وارد ہوا ہے اس سے یہ پورا خطہ مراد ہے جو عصر حاضر کے چار ملکوں (سوریا، لبنان، فلسطین اور اردن)پر مشتمل ہے۔ موجودہ دور کے ملک شام ( عربی میں سوریہ یا سوریا، انگریزی میں Syria )کا مکمل نام جمہوریہ عربیہ سوریہ ہے۔ اس کے مغرب میں لبنان، جنوب مغرب میں فلسطین اور اسرائیل، جنوب میں اردن، مشرق میں عراق اور شمال میں ترکی ہے۔ موجودہ دور کا ملک شام یعنی سوریا 1946 میں فرانس کے قبضہ سے آزاد ہوا تھا، جن میں اکثریت سنی عربوں کی ہے۔ سیریائی، کرد، ترک اور دروز بھی تھوڑی تعداد میں موجود ہیں۔ دارالسلطنت دمشق اس خطہ کا قدیم ترین شہر ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں مسلمانوں نے اس علاقہ کو فتح کیا۔ دمشق کے فتح ہونے کے صرف 26 سال بعد دمشق اسلامی حکومت کا دارالسلطنت بن گیا۔ بنو امیہ کی حکومت کے خاتمہ یعنی 132ھ تک دمشق ہی اسلامی حکومت کا مرکز بنا رہا۔ 132ھ میں بنوعباسیہ کی حکومت کے قیام کے بعد بغداد (عراق) مسلمانوں کی حکومت کا مرکز بن گیا۔ ملک شام میں دین اسلام پہونچنے تک تقریباً 1500 سال سے سریانی زبان ہی بولی جاتی تھی، لیکن ملک شام کے باشندوں نے انتہائی خلوص ومحبت کے ساتھ دین اسلام کا استقبال کیا اور بہت کم عرصہ میں عربی زبان ان کی مادری واہم زبان بن گئی، بڑے بڑے جید محدثین، فقہاء وعلماء کرام اس سرزمین میں پیدا ہوئے۔ سوریا میں 92 فیصد سے زیادہ مسلمان اور تقریباً 8 فیصد عیسائی، علوی اور دروز ہیں۔ زبان کے اعتبار سے 85 فیصد لوگ عربی النسل ہیں، جبکہ کرد لوگ 10 فیصد اور دیگر لوگ 5فیصد ہیں۔

19ویں صدی عیسوی کے شروع تک ملک شام عثمانی حکومت کے تحت رہا مگر جلدی ہی شام کا زیادہ تر علاقہ فرانسیسیوں نے قبضہ کرلیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد فرانس اور برطانیہ کافی کمزور ہوگئے تھے، چنانچہ انہوں نے عالمی پیمانہ پر اپنی کمزور پوزیشن دیکھ کر اپنی فوج کو ملک شام سے واپس لے جانے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح 17 اپریل 1946ء کو سوریا آزاد ہوگیا۔ 1946ء سے 2011 تک یہ ملک مختلف عروج وزوال سے گزرا۔ 1948 اور 1967ء میں سوریا نے عربوں کے ساتھ مل کر اسرائیل سے ہوئی جنگ میں حصہ لیا۔ 1973ء میں سوریا نے مصر کے ساتھ مل کر اسرائیل سے جنگ لڑی۔ 13 نومبر 1970ء کو اُس وقت کے وزیر دفاع حافظ الاسد نے حکومت پر قبضہ کرلیا۔ 20 جون 2000 کو حافظ الاسد کے اچانک انتقال پر 30 سالہ ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ اس کے بعد ان کے بیٹے بشار الاسد نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی، حالانکہ آئین کے مطابق وہ ملک کے صدر نہیں بن سکتے تھے کیونکہ اُن کی عمر کم تھی، چنانچہ بیٹے کو باپ کی جگہ تخت نشین کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کی گئی اور اتنی عمر لکھی گئی جتنی عمر میں بشار الاسد اُس وقت موجود تھے۔ غرضیکہ صرف 34 سال کی عمر میں ملک کے سب سے بڑے عہدہ پر معیّن کردیا گیا۔

چودہ صوبوں پر مشتمل سوریا کے دمشق، حلب اور اِدلب صوبے اِن دنوں سرخیوں میں ہیں۔ دمشق دارالسلطنت ہونے کی وجہ سے تمام سیاسی سرگرمیوں کا مرکز ہے، حلب (Aleppo) میں چند ماہ قبل بشار الاسد کی حکومت نے ہزاروں مسلمانوں کا ناحق خون بہایا تھا، حلب قدیم شہر ہونے کے ساتھ ایک بہت بڑا تجارتی مرکز بھی تھا لیکن آج ہر طرف ویرانی نظر آرہی ہے۔ چند ایام قبل صوبہ اِدلب (Idlib) کے خان شیخون (Khan Shaykhun) علاقہ میں الشعیرات (Al-Shayrat) کے فوجی ہوائی اڈہ سے پرواز کرکے فوج کے ہوائی جہازوں نے زہریلی گیس پر مشتمل بمباری عام لوگوں پر کی، جس کے نتیجہ میں پورے علاقہ میں عام لوگوں کی زندگی دوبھر ہوکر رہ گئی ہے۔ الشعیرات کا فوجی اڈہ بشار الاسد کی حکومت کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ حلب اور اِدلب دونوں علاقوں میں 100 فیصد سنی مسلم رہتے ہیں، یہ دونوں علاقے کسی دوسری طاقت کے قبضہ میں نہیں بلکہ بشار الاسد کی حکومت کے مکمل طور پر قبضہ میں ہیں۔ ہر طرف ہریالی اور کھیتی والے صوبہ ادلب میں زیتون اور پستہ کی بہت بڑے پیمانہ پر کھیتی ہوتی ہے۔

چونکہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں اور حکومتیں بلاواسطہ یا بالواسطہ سوریا کی اِس جنگ میں ملوث ہیں، اس لئے بظاہر اِس جنگ کا حل آسان نہیں ہے۔ اس جنگ کو شروع ہوئے چھ سال گزر گئے، عراق وایران کی جنگ کی طرح اس جنگ میں متعدد ملکوں کی بے تحاشہ رقم خرچ ہورہی ہے، حالانکہ ہمیشہ کی طرح جنگ کے ہر فریق کو خسارہ اور نقصان کے سوا کچھ ملتا نظر نہیں آرہا۔ بشار الاسد کے اقتدار سے ہٹنے پر کسی حد تک مسئلہ کا حل ممکن ہے، جیسا کہ حال ہی میں عراق کے شیعہ عالم جناب مقتدیٰ الصدر نے شامی صدر بشار الاسد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقتدار سے علیحدہ ہوجائیں تاکہ شام کے بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے میں مدد مل سکے۔

پیسوں کے خسارہ اور نقصان کی تلافی تو ممکن ہے، لیکن اس جنگ میں ملک شام کی بربادی کے علاوہ لاکھوں خواتین بیوہ ہوگئیں، لاکھوں بچے یتیم ہوگئے، بے شمار لوگ بے سہارہ ہوگئے، لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے، سینکڑوں تعلیمی ادارے بند ہوگئے، ہزاروں طلبہ وطالبات کی تعلیم نامکمل رہ گئی، لوگوں کے کاروبار اور ملازمتیں ختم ہوگئیں۔ بے شمار حضرات علماء دین کی تربیت سے محروم ہوگئے۔ متعدد لوگ ایک وقت کی روٹی کے محتاج بن گئے۔ ان نقصانات اور خسارے کی تلافی کے لیے صدیاں درکار ہوں گی۔ لہٰذا انسانیت اور اخوت کے تقاضہ کے پیش نظر اگر مالی تعاون سے وہاں کسی بیوہ عورت یا یتیم بچہ کی کفالت ہوجائے تو یہ عمل اس دور کا بہترین صدقہ جاریہ ہوگا۔ نیز ہمارا یہ ایمان ہے کہ تمام مسائل کا حل کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے، لہٰذا اس خطہ میں امن وسلامتی کے لئے اللہ تعالیٰ سے خوب دعائیں کریں۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)