بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن

مسلمانوں کا شاندار ماضی

عہد عثمانی میں استنبول (ترکی) سے مسلمانوں کی تین بر اعظم پر حکمرانی

ترکی میں ہوئے ریفرنڈم کے نتائج کے بعد رجب طیب اردوگان کے 2029ء تک ترکی میں سب سے بڑے عہدہ پر قائم رہنے کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔ اب پارلیمانی نظام کو امریکا کی طرح صدارتی نظام سے بدل دیا جائے گا، جس کے بعد وزراء، ججوں کی تقرری اور پارلیمنٹ کو منسوخ کرنے جیسے اہم انتظامی امور کے وسیع اختیارات اُن کو حاصل ہوجائیں گے۔ استنبول کے ناظم کی حیثیت سے اپنی پہچان بنانے والے اردوگان مارچ 2003ء سے اگست 2014ء تک ملک کے وزیر اعظم رہے اور اگست 2014ء سے ملک کے بارہویں صدر ہیں۔ گزشتہ سال ترکی میں ہوئی ناکام فوجی بغاوت کے پیش نظر اردوگان کے حامی اس فیصلہ کو وقت کی ضرورت قرار دے رہے ہیں، جبکہ مخالفین کو خدشہ ہے کہ یہ فیصلہ آمریت (ڈکٹیٹرشپ) کا باعث بن سکتا ہے۔ رجب طیب اردوگان کی شخصیت پر جہاں انگلیاں اٹھتی رہی ہیں، وہیں اُن کو اسلام پسند قائد بھی تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ دیگر مسلم حکمرانوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کے مسائل میں خصوصی دلچسپی لے کر دنیا کے موجودہ چودھریوں کے سامنے کھل کر بات کرنے کی وجہ سے دنیا کے مسلمان عموماً اُن کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ ترکی کی عدالت وترقی پارٹی (AKP) کے سربراہ بھی ہیں جو ترک پارلیمنٹ میں اکثریت رکھتی ہے۔ 1923ء میں سلطنت عثمانیہ کے ختم ہونے کے بعد ترکی کے حکمرانوں نے اسلامی علوم وثقافت کے گہوارہ قسطنطنیہ اور ترکی کے دیگر علاقوں کو اسلامی تہذیب سے دور اور مغربی تہذیب سے قریب کرنے کی کوشش کی تھی، جس پر اردوگان نے کسی حد تک قدغن لگائی، جو ترک عوام میں اُن کی مقبولیت کا سبب قرار دیا جارہا ہے۔

سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے زمانہ میں لوگوں خاص کر نوجوانوں کو تاریخ پڑھنے پڑھانے کی فرصت کہاں ہے۔ موجودہ ریفرنڈم کی وجہ سے ترکی اِن دِنوں خبروں میں ہے، اس لیے مناسب سمجھا کہ اس موقع پر مختصر تاریخ اسلام خاص کر سلطنت عثمانیہ کی عظیم حکومت کا تذکرہ کردیا جائے تاکہ ہم اپنے اسلاف کو یاد کریں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مسلم ممالک متحد ہوکر قرآن وحدیث کی روشنی میں امت مسلمہ اور انسانیت کی خدمت کرنے والے بنیں۔ آمین۔

حضور اکرم ﷺ کی 23 سالہ نبوت والی زندگی کے ختم ہونے کے بعد خلفاء راشدین نے تقریباً 30 سال آخری نبی ﷺکی تعلیمات کے مطابق خلافت کا اعلیٰ نمونہ پیش کرکے دین اسلام کو جزیرۂ عرب کے باہر تک پہنچایا۔ حضوراکرم ﷺ کے انتقال کے وقت مسلمانوں کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ تھی، خلفاء راشدین کے عہد خلافت میں یہ تعداد کروڑ کو تجاوز کرگئی۔ صرف حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں عراق، ایران، آذربائیجان، آرمینیا، جورجیا، سوریا، اردن، فلسطین، لبنان، مصر، افغانستان اور ترکمانستان کا کچھ حصہ اور موجودہ پاکستان کا مغربی جنوبی حصہ اسلامی حکومت میں شامل ہوا۔ آپ ﷺ کی وفات کے پچیس سال بعد تک مدینہ منورہ ہی دار الخلافت رہا، لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے چند مصلحتوں کی وجہ سے دار الخلافت مدینہ منورہ سے عراق کے شہر کوفہ منتقل کردیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد عراق میں مسلمانوں کے اصرار پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے بیعت خلافت لی۔ دوسری طرف شام میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی۔ ممکن تھا کہ مسلمانوں کے درمیان جنگ شروع ہوجائے، لیکن نواسہ رسول حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی دوراندیشی سے مسلمانوں کو قتل عام سے بچاکر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح فرمالی اور خلافت سے دست بردار ہوگئے۔ 632ء سے 661ء کے عہد کو خلافت راشدہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ حضور اکرم ﷺکے ارشاد: ’’میری امت میں خلافت تیس سال تک رہے گی پھر بادشاہت ہوجائے گی‘‘ (ترمذی، مسنداحمد) کی روشنی میں مؤرخین فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺکے ارشاد: ’’تم میری اور میرے بعد آنے والے خلفاء راشدین کی سنت کو بہت مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو‘‘۔ (ترمذی، ابوداود) سے مراد چار خلفاء (حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم) ہیں۔

خلفاء راشدین کے بعد تقریباً ایک صدی قبیلہ قریش کے ایک خاندان بنوامیہ نے دمشق (سوریا) کو دارالسلطنت قرار دے کر فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا حتی اسلامی حکومت کی سرحدیں ایک طرف چین اور دوسری طرف اسپین تک پھیل گئیں۔ عہد اموی میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اپنی صرف دو سالہ خلافت (717ء۔720ء) کے دوران عدل ومساوات کی ایسی مثالیں پیش کیں کہ لوگوں کو خلفاء راشدین کا زمانہ یاد آگیا اور مؤرخین نے انہیں پانچویں خلیفہ کا درجہ دیا۔ مگر بعد میں کچھ اسباب کی وجہ سے بنو امیہ کی حکومت کے خلاف تحریک شروع ہوگئی، چنانچہ 661ء سے شروع ہوئی بنو امیہ کی حکومت 750ء میں ختم ہوگئی۔

بنوامیہ کی حکومت کے خلاف تحریک کے ذریعہ 750ء کو وجود میں آئی خلافت عباسیہ نے دار الحکومت دمشق سے بغداد منتقل کرکے فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا۔ خاندان عباسیہ نے 500 سال سے زائدعرصہ تک حکومت کی جو ایک طویل دور ہے۔ خلافت بنو عباسیہ1258ء تک رہی۔ اِس دور میں علمی وادبی وتاریخی بے شمار قابل ذکر کام ہوئے۔ حدیث، تفسیر، تاریخ، سیرت اور ادب کی بے شمار کتابیں اس دور میں تحریر کی گئیں۔ سائنس، حساب اور طب کے ماہرین پیدا ہوئے۔

1299ء میں ترکوں کی سلطنت عثمانیہ قائم ہوئی۔ اپنے عروج کے زمانہ (16ویں اور 17 ویں صدی) میں یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی۔ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اور جنوب مشرقی یورپ اس کے زیر نگیں تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد 1923ء میں 624 سالہ یہ عظیم سلطنت ختم ہوگئی، یعنی ترکی آج سے 95 سال پہلے 1923ء میں سلطنت عثمانیہ کے خاتمہ سے قبل تک دنیا کے بہت بڑے حصہ کا حکمراں تھا۔ ترکوں کی دیگر خدمات کے ساتھ حرمین کی خدمت قابل تعریف ہے۔

غرضیکہ مدینہ منورہ کی ہجرت کے بعد سے مسلمانوں کو ہمیشہ ایک مرکز کی سرپرستی حاصل رہی جو 1923ء میں سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد ختم ہوگئی۔ اس طرح 1350 سال بعد مسلمان تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے اور مسلمانوں کی مجموعی طاقت آج کے 45 ملکوں میں تقسیم ہوگئی۔ یہ ایک ایسا دردناک المیہ تھا کہ اس کی وجہ سے اِن دِنوں مسلمان جگہ جگہ پر پریشان ہیں، متعدد مسلم ممالک تباہ کردئے گئے، مگر مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ پہلی جنگ عظیم میں ترکی جرمنی کا اتحادی رہا ،اس جنگ کی بڑی بھاری قیمت مسلمانوں کو ادا کرنی پڑی، چنانچہ انگریزوں نے عربوں کو ترکوں کے خلاف جنگ پر اکسایا، اس طرح مسلمانوں میں قومیت کی بنیاد پر جنگ لڑی گئی اور عرب علاقے ترکی کے ہاتھ سے نکل گئے، حتی کہ انگریزوں نے ترکی پر بھی قبضہ کرلیا تھا لیکن جلدی ہی تمام جارح افواج کو ترکی سے باہر نکال دیا گیا اور اور 1923ء کو ایک نئی ریاست تشکل دی گئی جو جمہوریہ ترکی کہلائی۔ اس طرح 624 سالہ سلطنت عثمانیہ کے عظیم دور کا خاتمہ ہوگیا۔

حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے انتقال کے بعد آپ کے شاگردوں نے حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے قرآن وحدیث وفقہ کے دروس کو کتابی شکل دے کر ان کے علم کے نفع کو بہت عام کردیا،خاص کر جب آپ کے شاگرد قاضی ابویوسفؒ عباسی حکومت میں قاضی القضاۃ (Chief Justice) کے عہدہ پر فائز ہوئے تو انہوں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے فیصلوں سے حکومتی سطح پر عوام کو متعارف کرایا چنانچہ چند ہی سالوں میں فقہ حنفی دنیا کے کونے کونے میں رائج ہوگیا اور اس کے بعد یہ سلسلہ برابر جاری رہا حتی کہ عباسی وعثمانی حکومت میں مذہب ابی حنیفہ کو سرکاری حیثیت دے دی گئی چنانچہ سینکڑوں سال سے امت مسلمہ کا کم وبیش 75 فیصد فقہ حنفی پر عمل پیرا ہے۔

اسلامی حکومت کے شیرازہ بکھرنے کے بعد 1923ء میں بنے ترکی کی سرحدیں 8 ممالک سے ملتی ہیں۔ مشرق میں آرمینیا، ایران اور آذربائیجان ، جنوب مشرق میں عراق اور سوریا، شمال مشرق میں جارجیا، شمال مغرب میں بلغاریہ اور مغرب میں یونان ہیں۔ علاوہ ازیں ملکی سرحدیں شمال میں بحیرہ اسود، مغرب میں بحیرہ ایجینیا اور جنوب میں بحیرہ روم سے ملتی ہیں۔ 1923ء کے بعد ترکی میں مذہب کی آزادی پر کسی حد تک پابندی لگادی گئی تھی۔ شہر استنبول کی مسجد ایا صوفیہ کو عجائب گھر بنادیا گیا تھا، جہاں 1453ء سے 1935ء تک برابر پانچوں نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی تھیں، جس کے مناروں سے گزشتہ سال ۸۱ سالوں کے بعد اذان کی آواز بلند کی گئی۔ ترکی میں اس وقت تقریباً ایک لاکھ مساجد ہیں۔ قدیم شہر استنبول (قسطنطنیہ) میں سب سے زیادہ ہیں۔ آٹھ کروڑ سے زیادہ آبادی والے ملک ترکی میں تقریباً 97 فیصد مسلمان ہیں، جو اختلافی مسائل میں علماء احناف کی رائے پر عمل کرتے ہیں۔ عمومی طور پر ترکی زبان ہی بولی جاتی ہے، البتہ کچھ لوگ کورمانجی زبان بھی بولتے ہیں، کہیں کہیں عربی زبان بھی بولی جاتی ہے۔ ترکی بہت پرانی زبان ہے، سلطنت عثمانیہ کے زیر اثر رہنے کی وجہ سے ترکی زبان عربی رسم الخط میں لکھی جانے لگی تھی۔ سلطنت عثمانیہ کے ختم ہونے کے بعد عربی رسم الخط کا خاتمہ کرکے نئے لاطینی رسم الخط کو 1928ء میں رائج کیا گیا۔

آج سے تقریباً 1450 سال قبل مکہ مکرمہ کی سرزمین سے شروع ہوا مذہب اسلام کے ماننے والے اِس وقت دنیا میں دو ارب سے کچھ کم ہیں، یعنی تقریباً 25 فیصد دنیا کی آبادی صرف مذہب اسلام کو اپنی کامیابی کا ضامن سمجھتی ہے۔ عالمی رپورٹ کے مطابق 50 سال بعد دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان ہوں گے۔ نیز یہ بات پوری دنیا کو مسلّم ہے کہ مسلمان ہی سب سے زیادہ اپنے مذہب پر عمل پیرا ہیں اور کیونکہ نہ ہوں کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک آئے تمام انبیاء کو برحق ماننے کے ساتھ قیامت تک آنے والے انس وجن کے نبی سید البشر وسید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ کو آخری نبی ورسول تسلیم کرتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق اگر کوئی شخص حضرت ابراہیم، حضرت یعقوب (جن کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے)، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام جیسے برگزیدہ رسولوں کو اللہ کا پیغمبر نہ مانے تو اسے اپنے ایمان کی تجدید کی ضرورت ہوگی، لیکن عیسائی اور یہودی مذہب کے مطابق اگر کوئی شخص 570ء میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے حضرت محمد ﷺ کو اللہ کا نبی ورسول مان لے تو وہ اُن کے مذہب سے نکل جاتا ہے۔ آپ خود فیصلہ کریں کہ تشدد کہاں موجود ہے؟ اسی وجہ سے دنیا میں اپنی خوشی ودلچسپی سے اپنے مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مذہب کو اختیار کرنے والوں میں سب سے زیادہ لوگ وہ ہیں جو مذہب اسلام میں دونوں جہاں کی کامیابی سمجھ کر مذہب اسلام کو قبول کرتے ہیں۔ امریکہ اور مغربی ممالک کے حکمرانوں کے اسلام مخالف فیصلوں کی ایک وجہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کا تیزی کے ساتھ مذہب اسلام قبول کرنا ہے۔ یہ مذہب اسلام کے حق ہونے کی خو د ایک واضح دلیل ہے۔ ان شاء اللہ حضرت امام مہدی کے ظہور اور حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کے بعد دنیا کے چپہ چپہ پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگی۔

اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے                   جنتا ہی دباؤگے اتنا ہی یہ ابھرے گا

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)