بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

امتحانات ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ہم ۔ ۔ ۔

بچوں کے امتحانات کا سلسلہ جاری ہے، بچوں کے ساتھ‘ والدین ، بھائی بہن، ودیگر متعلقین بھی اِن امتحانات میں ہمہ تن مشغول ہیں۔ ہر شخص کی خواہش ہے کہ میرا بیٹا/بیٹی ، بھائی/بہن اچھے نمبرات سے امتحانات میں کامیابی حاصل کرے۔۔۔۔ کسی اچھے کورس میں اس کا داخلہ ہوجائے۔ ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ انہیں افکار وجد وجہد کی وجہ سے ہرِ شخص کی اپنی ذاتی زندگی اِن دِنوں کسی نہ کسی حد تک اِن امتحانات سے متاثرہے۔ فیملیوں کا ملنا جلنا بھی کم ہے۔ فیملیوں کا مختلف مناسبات کی دعوتوں کو مؤخر کردیا گیا ہے۔ بس ہر شخص کی ایک ہی کوشش ، جدو جہد اور دعا ہے کہ میرا بیٹا/بیٹی ، بھائی/بہن‘ اِن امتحانات میں کامیابی حاصل کرلے تاکہ اس کا مستقبل روشن وتابناک بن جائے۔
ان امتحانات میں کامیابی کے لئے کوشش کرنا ہماری ذمہ داری ہے تاکہ ہم اور ہمارے بچے‘ تعلیم یافتہ ہوکر ایک اچھا مقام حاصل کرسکیں۔۔ ایک اچھی ومہذب زندگی گزار سکیں۔ ۔۔ لیکن اِن امتحانات کے ساتھ‘ اِن امتحانات سے بہت زیادہ اہم‘ ایک دوسرا امتحان بھی ہے جس کی تیاری بھی ہمیں اسی دنیاوی زندگی میں رہ کر کرنی ہے۔ اور یہ دنیاوی زندگی کب ختم ہوجائے گی، کسی کو نہیں معلوم ۔ ہر شخص کا اس دنیاوی زندگی کو الوداع کہنا یقینی ہے، جس کا انکار نہ کسی نے کیا ہے اور نہ کوئی کرسکتا ہے۔
ہم اِن امتحانات سے متاثر ہوکر اپنی دنیاوی زندگی گزارتے ہیں ، ان امتحانات میں کامیابی کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ بے شمار مالی وجسمانی قربانیاں دیتے ہیں۔ اپنے راحت وآرام کو قربان کرتے ہیں، حالانکہ ہم سب کا تجربہ ہے کہ ان امتحانات میں ناکامی کے باوجود‘ دنیا میں کامیابی کے بے شمار راستے نکل آتے ہیں۔ ۔۔ اس کی تلافی ہوجاتی ہے۔۔۔ نیز اگر ان امتحانات میں بالکل ہی ناکام ہوجائیں،،، تب بھی دنیاوی زندگی بہر حال گزر ہی جاتی ہے، اگرچہ یہ ہمارا مطلوب نہیں ہے۔ ۔۔ ہمارا مطلوب تو تعلیم حاصل کرکے دونوں جہاں میں کامیابی حاصل کرنا ہے۔
ان امتحانات میں مشغولیت کے ساتھ، ہماری یہ کوشش وفکر اور دعا ہونی چاہئے کہ ہم، ہماری اولاد،ہمارے اعزاء واقرباء اور دیگر متعلقین اخروی امتحان میں ضرور بالضرور کامیاب ہوجائیں کیونکہ اخروی امتحان میں ناکامی کی صورت میں دردناک عذاب ہے جس کی تلافی مرنے کے بعد ممکن نہیں ہے، مرنے کے بعد آنسو کے سمندر بلکہ خون کے آنسو بہانے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یاد رکھیں کہ اگر ہم اخروی امتحان کو سامنے رکھ کر یہ دنیاوی زندگی گزاریں گے تو ہمارا ان بچوں کے امتحانات میں مشغول ہونا ، ان کی تعلیم پر پیسہ خرچ کرنا، ملازمت یا کاروبار کرنا، سونا ، کھانا، پینا، وغیرہ ہر عمل دنیا وآخرت دونوں جہاں کی کامیابی دلانے والا بنے گا ، ان شاء اللہ۔
اخروی امتحان میں کامیابی اور ناکامی کی صورت میں کیا نتائج مرتب ہوں گے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ اس کا ذکر فرمایا ہے۔ سورۃ الحاقہ کی چند آیات میں بھی اس صورت حال کا ذکر کیاگیا ہے جن کا خلاصۂ تفسیر درج ذیل ہے :
خلاصۂ تفسیر: جس روز تم خدا کے روبرو حساب کے واسطے پیش کئے جاؤگے ۔ اور تمہاری کوئی بات اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ہوگی۔ پھر نامۂ اعمال ہاتھ میں دئے جائیں گے، تو جس شخص کا نامۂ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ تو جوش ومسرت میں بے ساختہ ہر ایک سے کہتا پھرے گا کہ میرا نامۂ اعمال تو پڑھو ۔ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کامیاب وکامران ہوگیا۔ میرا تو پہلے ہی سے اعتقاد تھاکہ مجھ کو میرا حساب ملنے والا ہے۔۔۔ غرض وہ شخص پسندیدہ عیش یعنی جنت میں ہوگا جس کے میوے اس قدر جھکے ہوں گے کہ جس حالت میں چاہے گا حاصل کرلے گا۔ اور حکم ہوگا کہ کھاؤ اور پیو مزے کے ساتھ ان اعمال کے صلہ میں جو تم نے دنیاوی زندگی میں کئے۔ ۔ ۔
ا ور جس شخص کا نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، سو وہ نہایت حسرت سے کہے گا، کاش! مجھ کو میرا نامۂ اعمال ملتا ہی نہیں، اور مجھ کو یہ خبر ہی نہ ہوتی کہ میرا حساب کیا ہے۔ کاش! میری پہلی موت جو دنیا میں آئی تھی فیصلہ کن ہوتی اور دوبارہ زندہ نہ ہوتا جس پر یہ حساب وکتاب مرتب ہوا۔۔۔ افسوس ! میرا مال میرے کچھ کام نہیں آیا۔ میرا سارا اقتدار (جاہ ومرتبہ) ختم ہوگیا۔۔۔ ایسے شخص کے لئے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اس شخص کو پکڑو ، اور اس کے گلے میں طوق پہنادو، پھر دوزخ میں اس کو داخل کردو، پھر ایک ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر گز ہے اس کو جکڑ دو۔۔۔ یہ شخص اللہ تعالیٰ پر جس طرح ایمان لانا ضروری تھا، ایمان نہیں رکھتا تھا۔ اور خود تو کسی کو کیا دیتا ، دوسروں کو بھی غریب آدمی کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا تھا۔ سو آج اس شخص کا نہ کوئی دوست ہے اور نہ اس کو کھانے پینے کی کوئی چیز نصیب ہے، بجز اس گندے پانی کے جس میں اہل جہنم کی پیپ اور پس پڑی ہوگی، جس کو گناہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتاپیتا ہوگا۔
ابھی وقت ہے۔ موت کا فرشتہ کسی بھی وقت جسم سے روح نکال سکتا ہے۔ کسی بھی لمحہ آنکھ ہمیشہ کے لئے بند ہوسکتی ہے۔۔۔ روح پرواز ہونے کے بعد‘ ایک دفعہ حج یا عمرہ کرنے، ایک پیسہ صدقہ کرنے، ایک سجدہ یا رکوع کرنے، حتی کہ صرف ایک مرتبہ اللہ اکبر کہنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی، کیونکہ موت پر عمل کا وقت ختم اور اعمال کے مطابق جزا وسزا کا سلسلہ شروع ہوجاتاہے۔ لہذا ہم سب یہ عزم مصمم کریں کہ ان دنیاوی امتحانات کے ساتھ ‘ اس اخری امتحان کی تیاری کرتے رہیں گے کہ جس میں ناکامی کی صورت میں جہنم کی دہکتی ہوئی آگ ہے جو دنیاوی آگ سے ستر گنا زیادہ گرم ہے۔ اگر ہم واقعی اخروی امتحان کو سامنے رکھ کر اس دنیاوی زندگی کو گزاریں گے تو ان شاء اللہ ہمیں دنیاوی زندگی میں بھی کامیابی وراحت ملے گی، اور کل قیامت کے دن ہمارا Result ان شاء اللہ داہنے ہاتھ میں ملے گا، اور ہم کامیاب ہوکر ہمیشہ ہمیشہ کے آرام وسکون میں ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ سے گزشتہ ایام میں ہوئی کوتاہیوں کی سچے دل سے معافی مانگیں۔ اِس وقت کا ایک قطرہ آنسو بہاکر اللہ تعالیٰ سے صدق دل سے معافی مانگنا مفید ہو گا، لیکن مرنے کے بعد آنسو کے سمندر بہانے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دونوں جہاں میں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔
محمد نجیب قاسمی، ریاض