بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

کبیرہ گناہوں سے اجتناب

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے : اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہوگے جن سے تمہیں منع کیا جاتا ہے، تو ہم تمہارے چھوٹے گناہ دور کردیں گے، اور تمہیں ایک عزت کی جگہ (جنت) میں داخل کریں گے۔ ۔۔(سورہ النساء ۳۱)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا وعدہ فرمایا ہے کہ جو شخص کبیرہ گناہوں (یعنی بڑے گناہوں) سے اجتناب کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے چھوٹے گناہوں کو معاف فرماکر ، اس کو اپنے فضل وکرم سے جنت میں داخل فرمائے گا۔
اس سے معلوم ہوا کہ ہمیں کبیرہ گناہوں (یعنی بڑے بڑے گناہوں) سے بچنا چاہئے۔ لیکن کبیرہ گناہوں سے اجتناب اور بچنے کے لئے ان کا جاننا ضروری ہے۔ لہذا کبیرہ گناہوں میں سے اُن ۴۰ گناہوں کو مختصراً لکھ رہا ہوں جن میں آجکل ہمارا معاشرہ مبتلا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو کبیرہ وصغیرہ تمام گناہوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
گناہ کبیرہ کس کو کہتے ہیں: ہر اس گناہ کو کبیرہ گناہ یعنی بڑا گناہ کہتے ہیں جس سے شریعت اسلامیہ نے سختی کے ساتھ روکا ہو، یا جس کے مرتکب کے لئے دنیا میں کوئی سزا مقرر کی گئی ہو، یا آخرت میں کوئی سخت وعید سنائی گئی ہو، یا اس کے ارتکاب سے ایمان کی نفی کی گئی ہو، یا قرآن وحدیث میں اسکے لئے ملعون وغیرہ جیسے الفاظ استعمال کئے گئے ہوں۔
گناہ کبیرہ کا ارتکاب : اگر کسی شخص نے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرلیاہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ واستغفار کرے نیز کئے ہوئے گناہ پر نادم (شرمندہ) ہو کر آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرے ۔
سچے دل سے معافی مانگنے پر اللہ تعالیٰ بڑے سے بڑے گناہ ( خواہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں) حتی کہ شرک کو بھی معاف فرمادیتاہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:  (اے نبی ؑ ) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ۔ یقیناً اللہ سارے گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔ وہ تو بخشنے والا، رحم کرنے والاہے۔ (سورہ الزمر ۵۳) لیکن میرے عزیز دوستو! موت کا فرشتہ روح نکالنے کے لئے کسی بھی لمحہ آسکتا ہے۔ اُس کے بعد معافی مانگنے کا موقع میسر نہیں ہوگا۔ لہذا ابھی وقت ہے، معافی کا دروازہ کھلا ہے، فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ اور اس سے معافی مانگیں۔
گناہ کبیرہ کی تعداد ۷۰ سے بھی زیادہ ذکر کی گئی ہے، اُن ۴۰ گناہ کبیرہ کو یہاں لکھ رہا ہوں جسمیں ہمارا معاشرہ مبتلا ہے :

۱۔ شرک باللہ: اللہ کے ساتھ کسی کو عبادت میں شریک کرنا۔
۲۔ کسی کو ناحق قتل کرنا۔
۳۔ جادو کرنا ، یا جادو کروانا۔
۴۔ سود کھانا۔
۵۔ نماز نہ پڑھنا۔
۶۔ زکاۃ ادا نہ کرنا۔
۷۔ بلا عذر مضان کے روزے نہ رکھنا۔
۸۔ استطاعت کے باوجود‘ حج ادا نہ کرنا۔
۹۔ والدین کی نافرمانی کرنا۔
۱۰۔ رشوت لینا یا دینا۔
۱۱۔ شراب پینا، یاکسی دوسری نشہ آور چیز کا استعمال کرنا۔
۱۲۔ زنا کرنا۔
۱۳۔ رشتے داروں سے قطع تعلق کرنا۔
۱۴۔ تکبر کرنا۔
۱۵۔ جھوٹ بولنا۔
۱۶۔ جھوٹی قسم کھانا۔
۱۷۔ جھوٹی گواہی دینا۔
۱۸۔ فحش کلامی کرنا۔
۱۹۔ جوا کھیلنا۔
۲۰۔ مال حرام طریقے سے کمانا اور اس کا خرچ کرنا۔
۲۱۔ کسی شخص کو دھوکہ دینا۔
۲۲۔ کسی پر ظلم وستم کرنا۔
۲۳۔ چغل خوری کرنا۔
۲۴۔ خود کشی کرنا۔
۲۵۔ چوری یا ڈکیتی کرنا۔
۲۶۔ ناپ وتول میں کمی بیشی کرنا۔
۲۷۔ کسی بھی انسان مثلاًپڑوسی کو تکلیف پہونچانا۔
۲۸۔ TV اور Internetکے ذریعہ فحش مناظر دیکھنا۔
۲۹۔ پیشاب کے قطرات سے نہ پچنا۔
۳۰۔ مردوں کا (تکبرانہ ) ٹخنوں سے نیچے کپڑا پہننا۔
۳۱۔ مردار یا حرام جانورکا گوشت کھانا۔
۳۲۔ کسی شخص (مثلاً یتیم ) کا مال‘ ناحق کھانا۔
۳۳۔ مسلمانوں کی تکفیر کرنا۔
۳۴۔ اللہ اور رسول کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا۔
۳۵۔ شوہر کی نافرمانی کرنا۔
۳۶۔ عورتوں کا بے پردہ رہنا۔
۳۷۔ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا۔
۳۸۔ لواطت اور عورت کے دبر میں مباشرت کرنا۔
۳۹۔ غیر اللہ کے لئے جانور ذبح کرنا۔
۴۰۔ کاہنوں اور نجومیوں کی تصدیق کرنا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو گناہ کبیرہ سے بچائے اور جو گناہ کبیرہ وصغیرہ ہم سے سرزد ہوگئے ہیں، اللہ ان کو معاف فرمائے۔ آمین۔
میرے عزیز دوستو! کبیرہ گناہ کے شبہ سے بھی ہمیں بچنا چاہئے۔

محمد نجیب سنبھلی قاسمی ، ریاض