بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

انگوٹھی پہننے کا حکم

سونے کی انگوٹھی: حضور اکرم ﷺ کی واضح تعلیمات کی روشنی میں علماء کرام کا اتفاق ہے کہ سونے کی انگوٹھی عورتوں کے لئے پہننا جائز ہے لیکن مردوں کے لئے حرام ہے، جیساکہ مشہور محدث امام نووی ؒ (۶۳۱ھ ۔ ۶۷۶ھ) اور حافظ ابن عبد البر ؒ (۳۶۸ھ ۔ ۴۷۳ھ) نے اس مسئلہ میں اجماع امت ذکر کیا ہے ۔ ہاں ابتداء اسلام میں مردوں کے لئے سونے کی انگوٹھی پہننا جائز تھی، اسی وجہ سے بعض صحابہ کرام کے سونے کی انگوٹھی پہننے کے واقعات کتابوں میں ملتے ہیں، لیکن بعد میں حرام کردی گئی۔ غرضیکہ پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ قیامت تک مردوں کے لئے سونے کی انگوٹھی پہننا جائز نہیں ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کی عورتوں کے لئے سونا اور ریشم حلال ہے لیکن میری امت کے مردوں کے لئے حرام ہے۔ مسند احمد
چاندی کی انگوٹھی: سونے کی طرح چاندی کی انگوٹھی پہننا عورتوں کے لئے جائز ہے، البتہ مردوں کے لئے چند شرائط کے ساتھ چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ نے بادشاہ روم کو خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اگر آپ کے خط پر مہر نہ ہوئی تو وہ آپ کا خط نہیں پڑھیں گے چنانچہ آپ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اس پر نقش تھا محمد رسول اللہ۔ (بخاری، کتاب اللباس۔ باب اتخاذ الخاتم لیختم بہ الشیء) غرضیکہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی مہر کے طور پر انگوٹھی کا استعمال کیا ہے، لیکن فقہاء وعلماء میں اختلاف ہے کہ انگوٹھی پہننا سنت ہے یا صرف جائز ہے۔
انگوٹھی میں یاقوت وغیرہ پتھر کا استعمال: اکثر علماء کی رائے ہے کہ انگوٹھی میں یاقوت وغیرہ پتھر لگاکر پہننا جائز ہے، اگرچہ بعض علماء نے اختلاف کیا ہے۔
دوسری دھات کی انگوٹھی: لوہے، پیتل وغیرہ کی انگوٹھی کے متعلق بھی علماء کا اختلاف ہے۔ بعض علماء نے عورتوں کے لئے گنجائش رکھی ہے لیکن مردوں کے لئے جائز نہیں کیونکہ شریعت اسلامیہ نے مردوں کے لئے خاص مقدار کی صرف چاندی کی انگوٹھی پہننے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔ بعض احادیث میں وارد ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے لوہے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے ۔ اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ مرد وعورت دونوں لوہے کی انگوٹھی پہننے سے پرہیز کریں۔ہاں موجودہ زمانہ کے آرٹیفیشیل زیوارات خواتین استعمال کرسکتی ہیں۔
انگوٹھی کونسے ہاتھ میں: انگوٹھی دائیں یا بائیں دونوں ہاتھ میں سے کسی بھی ہاتھ میں پہن سکتے ہیں کیونکہ حدیث میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ (ابوداود) جبکہ حدیث کی مشہور کتاب (ترمذی) میں ہے کہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما اپنے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی استعمال کرتے تھے۔ غرضیکہ عمومی طور پر آپ ﷺ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی استعمال کرتے تھے اگرچہ بائیں ہاتھ میں بھی انگوٹھی پہنی جاسکتی ہے۔
انگوٹھی کونسی انگلی میں: حضورا کرم ﷺ نے شہادت والی انگلی اور بیچ والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح مسلم) امام نووی ؒ نے اس حدیث کی شرح میں تحریر کیا ہے کہ مردوں کے لئے ان دو انگلیوں میں سے کسی ایک انگلی میں انگوٹھی پہننا مکروہ ہے۔ غرضیکہ سب سے چھوٹی یا اس کے برابر والی انگلی میں انگوٹھی پہنی جاسکتی ہے۔ چونکہ خواتین شرعاً ایک سے زیادہ انگوٹھی استعمال کرسکتی ہیں تو ان کے لئے کسی بھی انگلی میں انگوٹھی پہننے کی گنجائش ہے۔
مردوں کے لئے چاندی کی انگوٹھی کا وزن: حدیث کی مشہور کتاب ابوداود میں وارد ایک حدیث کی بنیاد پر علماء احناف نے تحریر کیا ہے کہ مرد حضرات ساڑھے چار ماشہ (تقریباً پانچ گرام)سے زیادہ کی چاندی کی انگوٹھی استعمال نہ کریں۔ البتہ عورتوں کے لئے انگوٹھی کے وزن کی کوئی شرط نہیں ہے۔
مردوں کے لئے چاندی کی انگوٹھی کی تعداد: اکثر علماء کی رائے ہے کہ مرد حضرات صرف ایک ہی انگوٹھی پہن سکتے ہیں، اگرچہ بعض علماء نے فضول خرچی کے بغیر ایک سے زیادہ کی گنجائش رکھی ہے۔
انگوٹھی پر نقش کروانا: علماء کرام نے انگوٹھی پر کسی کا نام نقش کرانے کی اجازت فرمائی ہے۔
انگوٹھی کا نگ: انگوٹھی پہننے کے وقت اس کا نگ ہتھیلی کی طرف کرنا حضور اکرم ﷺ سے ثابت ہے۔ (ابوداود) لیکن ایسا کرنا انگوٹھی پہننے والے کے لئے ضروری نہیں ہے۔
وضو اور غسل کے دوران انگوٹھی کو حرکت دینا: اگر انگوٹھی بہت زیادہ تنگ ہے تو وضو اور غسل کے دوران اس کو حرکت دینا ضروری ہے تاکہ پانی اندر تک پہنچ جائے ،لیکن اگر انگوٹھی بہت زیادہ تنگ نہیں ہے اور یقین ہے کہ پانی کھال تک خود ہی پہنچ جائے گا تو پھر انگوٹھی کو حرکت دینا ضروری نہیں ہے۔
محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)