بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

چند مجرموں کو پھانسی دے کر کیا زنا سے پاک معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے؟

اسلامی تعلیمات پر عمل کرکے ہی زنا جسے جرم عظیم سے نجات ممکن ہے

ہندوستان میں زنا کاری کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے آبروریزی کے واقعات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ چند ایام قبل جیور (بلند شہر) میں ہوئے واقعہ نے شریف لوگوں کی نیند حرام کردی جس میں چار مسلم خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ نربھیا واقعہ میں سپریم کورٹ نے زانیوں کی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھ کر کسی حد تک مناسب قدم اٹھایا ہے، لیکن بلقیس بانو چند سال سے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے مگر شاید مسلمان ہونے کے وجہ سے اس کو انصاف نہیں مل رہا ہے۔ چند روز قبل لکھنؤ چنڈی گڑھ ٹرین میں بجنور کے قریب ہوئے ایک روزہ دار مسلم خاتون کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعہ نے تو انسانیت کو ہی شرمسار کرڈالا۔ صرف چند مجرموں کو پھانسی دے کر اس مہلک بیماری پر قابو پانا آسان نہیں ہے۔ اسلام میں متعین سزا ہی اصل میں اس جرم عظیم کا سد باب ہے۔ آئیے قرآن وحدیث کی روشنی میں سمجھیں کہ زنا کیا ہے؟، زنا کے اسباب کیا ہیں؟، زنا کے اقسام کیا ہیں؟، اس جرم عظیم سے کیسے بچا جائے؟ اور اسلام میں زنا کرنے والوں کی سزا کیا ہے؟

نکاح کے بغیر کسی مرد وعورت کا مباشرت (Intercourse) کرنا زنا کہلاتاہے خواہ وہ طرفین کی اجازت سے ہی کیوں نہ ہو۔ اصل میں زنا نکاح کے بغیر مرد کی شرمگاہ کا عورت کی شرمگاہ میں داخل ہونے کا نام ہے لیکن میاں بیوی کے علاوہ کسی بھی مردو عورت کا ایک دوسرے کو شہوت کی نظر سے دیکھنا یا ایک دوسرے سے جنسی شہوت کی بات چیت کرنا یا ایک دوسرے کا تنہائی میں ملنا یا ایک دوسرے کو چھونا یا بوسہ لینا بھی حرام ہے۔ ان افعال کو بھی سارے نبیوں کے سردار حضور اکرم ﷺ نے زنا کی ایک قسم قرار دیا ہے، اگرچہ ان افعال کی وہ سخت سزا نہیں ہے جو اصل زنا کی ہے۔

قتل، ظلم، جھوٹ، دھوکہ دھڑی اور چوری کی طرح زنا بھی ایک ایسا جرم عظیم ہے کہ تمام مذہب میں نہ صرف سختی کے ساتھ اس بڑے گناہ سے منع کیا گیا ہے، بلکہ زنا کرنے والے مرد وعورت کے لیے سخت سے سخت سزا بھی متعین کی گئی ہے ۔ نہ صرف اسلام بلکہ عیسائی اور یہودی مذہب میں بھی اس جرم عظیم کے مرتکبین کی سزا رجم (سنگ باری) ہے۔ یہ ایسا بڑا گناہ ہے کہ دنیامیں اس سے زیادہ بڑی سزا کسی دوسرے جرم کی متعین نہیں کی گئی کیونکہ دنیا کے وجود سے لے کر آج تک تمام انسانی معاشروں نے اس جرم عظیم پر نہ صرف لعنت بھیجی ہے بلکہ ایسے اعمال سے بچنے کی تعلیم بھی دی ہے جو زنا کی طرف لے جانے والے ہوں۔

انسانی فطرت بھی خود زنا کی حرمت کا تقاضا کرتی ہے ورنہ انسان جس کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے وہ جانوروں کی صف میں کھڑا ہوجائے گا۔ دنیا کی بقا بھی اسی میں ہے کہ زنا کو حرام قرار دیا جائے اور اس کے مرتکبین کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ تمام پرندوں، چرندوں، درندوں اور اللہ کی دیگر مخلوقات پر حکومت کرنے والے حضرت انسان محض جنسی شہوت کو پورا کرنے کے لیے یہ دنیاوی زندگی گزارنے لگے کہ جب چاہا اور جس سے چاہا لطف اندوز ہوگیا تو انسانی تمدن ہی ختم ہوجائے گا کیونکہ مرد وعورت میں نکاح کے عمل کے بعد صحبت کے نتیجہ میں اللہ کے حکم سے اولاد پیدا ہوتی ہے، ماں باپ اسے اپنی اولاد اور مستقبل کا سہارا سمجھ کر ان کے لیے تمام دشواریوں اور پریشانیوں کو برداشت کرتے ہیں، ان کی تعلیم وتربیت کا انتظام کرتے ہیں، نیز دوسروں کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کس کا بچہ یا بچی ہے تو رشتہ داری بنتی ہے اور پڑوس بنتا ہے، جس سے ایک دوسرے کے حقوق معلوم ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ایک معاشرہ بنتا ہے۔ اگر انسانوں کو بھی جانوروں کی طرح آزاد چھوڑ دیا جاتا تو انسانی تمدن کا خاتمہ ہوکر یہ دنیا بہت پہلے ہی ختم ہوچکی ہوتی۔

اسلام نے صرف زنا کو حرام نہیں قرار دیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیاکہ زنا کے پاس بھی نہ بھٹکو۔ وہ یقینی طور پر بڑی بے حیائی اور بے راہ روی ہے۔ (سورۃ الاسراء ۳۲) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے زنا کو فاحشہ قرار دیا ہے۔ سورۃ الانعام آیت ۱۵۱ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بے حیائی (فواحش) کے کاموں کے پاس بھی نہ بھٹکو ،چاہے وہ بے حیائی کھلی ہوئی ہو یا چھپی ہوئی۔ سورۃ الاعراف آیت ۳۳ میں اللہ تعالیٰ فواحش یعنی بے حیائی کے کاموں کو حرام قرار دے کر ارشاد فرماتا ہے: کہہ دو کہ میرے رب نے تو بے حیائی کے کاموں کو حرام قرار دیا ہے، چاہے وہ بے حیائی کھلی ہوئی ہو یا چھپی ہوئی۔ سورۃ الفرقان آیت ۶۷ میں ایمان والوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اور وہ نہ زنا کرتے ہیں۔ جو شخص بھی یہ کام کرے گااُسے اپنے گناہ کے وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قیامت کے دن اُس کا عذاب بڑھا کر دوگنا کردیا جائے گا۔ اور وہ ذلیل ہوکر اُس عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ فاحشہ کی جمع فواحش اور فاحشات آتی ہے۔

زنا بہت بڑا گناہ ہے: حدیث کی سب سے معتمد کتاب (صحیح بخاری) میں وارد احادیث میں سے چند احادیث پیش ہیں تاکہ موجودہ زمانہ میں پھیلتے ہوئے اس گناہ سے خود کا بچنا اور دوسروں کو بچانا ممکن ہوسکے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کی شرطوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھ جائے گا، جہالت پھیل جائے گی۔ شراب پی جانے لگے گی اور زنا پھیل جائے گا۔ (بخاری) حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بندہ جب زنا کرتا ہے تو مومن رہتے ہوئے وہ زنا نہیں کرتا۔ (بخاری) یعنی ایمان کی نعمت اُس وقت چھین لی جاتی ہے یا ایمان کا تقاضا ہے کہ کوئی بھی شخص زنا نہ کرے یا وہ شخص کامل مؤمن نہیں جو زنا کرے۔ ہاں قرآن وحدیث کی روشنی میں پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ دنیا میں توبہ کرنے سے شرک بھی معاف ہوجا تا ہے۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کے ایک صاحب نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور زنا کا اعتراف کیا لیکن حضور اکرم ﷺ نے ان کی طرف سے چہرہ پھیر لیا، جب انہوں نے چار مرتبہ اپنے لیے گواہی دی تو حضور اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا۔ کیا تم پاگل ہوگئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا کیا تم شادی شدہ ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ آپ ﷺ کے حکم سے انہیں عید گاہ میں رجم کیا گیا۔ جب ان پر پتھر پڑے تو وہ بھاگ پڑے لیکن انہیں پکڑ لیا گیا اور رجم کیا گیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔ پھر حضوراکرم ﷺ نے بھلائی کے ساتھ ان کا ذکر فرمایا اور ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ (بخاری)

زنا اور فحاشی کے اسباب:

نامحرم کو بلاوجہ دیکھنا: حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آنکھوں کی زنا بد نظری ہے، اور کانوں کا زنا غلط بات سننا ہے، اور زبان کا زنا غلط بات بولنا ہے، اور ہاتھ کا زنا غلط چیز کو پکڑنا ہے، اور پیر کا زنا برے ارادے سے چلنا ہے، اور دل خواہش اور تمنا کرتا ہے اور پھر شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ بخاری

غیر محرم کے ساتھ باتیں کرنا: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں عورتوں کو حکم دیا کہ اگر انہیں کسی وقت غیر محرم مرد سے گفتگو کرنے کی ضرورت پیش آئے تو اپنی آواز میں لوچ اور نرمی پیدا نہ ہونے دیں، اور نہ ہی الفاظ کو بنا سنوار کر باتیں کریں۔ ارشاد باری ہے: اور نہ ہی چبا کر باتیں کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ تمنا کرنے لگے۔ اور تم معقول بات کرو۔ (سورۃ الاحزاب ۴) عورت کی آواز اگرچہ ستر نہیں ہے، یعنی ضرورت کے مطابق عورت غیر محرم سے بات کرسکتی ہے مگر اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ نے فطری طور پر عورت کی آواز میں کشش رکھی ہے۔ اسی لیے عورت کو فقہاء نے اذان دینے سے منع کیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا کہ مرد اپنی بیوی کے علاوہ کسی دوسری عورت کے سامنے نرمی سے بات چیت کرے جس سے عورت کو مرد میں دلچسپی پیدا ہوجائے۔ (النہایہ) اِن دنوں سوشل میڈیا کے زمانے میں غیر محرموں سے چیٹنگ کرنا، مختلف فوٹو شےئر کرنا اور آن لائن بات چیت کرنا کافی عام ہوگیا ہے، لیکن یہ بہت خطرناک بیماری ہے، اس سے اپنے بچوں اور بچیوں کو حتی الامکان محفوظ رکھنے کی کوشش کرنا ضروری ہے کیونکہ یہی وہ راستے ہیں جن کے ذریعہ ایسے واقعات پیش آجاتے ہیں جن سے نہ صرف گھر اور خاندان کی بدنامی ہوتی ہے بلکہ آخرت میں بھی دردناک عذاب ہوتا ہے۔

تاخیر سے شادی: حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے نوجوانوں! جو تم میں سے جسمانی اور مالی استطاعت رکھتا ہے وہ فوراً شادی کرلے کیونکہ شادی کرنے سے نگاہوں اور شرمگاہوں کی حفاظت ہوجاتی ہے۔ (بخاری) اِن دنوں کالج اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے شادی میں عموماً تاخیر ہوتی ہے۔ لیکن پھر بھی ہمیں حتی الامکان بچوں اور بچیوں کی شادی میں زیادہ تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔

اجنبی مرد وعورت کا اختلاط: حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب عورت گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تاک میں رہتا ہے۔ (ترمذی) اسی طرح حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب اجنبی مرد وعورت ایک جگہ تنہائی میں جمع ہوتے ہیں تو ان میں تیسرا شخص شیطان ہوتا ہے، جو اُن کوگناہ پر آمادہ کرتا ہے۔ (مسند احمد) اِن دنوں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مشترک تعلیم کی وجہ سے اجنبی مرد وعورت کا اختلاط بہت عام ہوگیا ہے۔ نیز خواتین کا ملازمت کرنے کا مزاج دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔ خواتین یقیناًشرعی پابندیوں کے ساتھ قرآن وحدیث کی تعلیم کے ساتھ دنیاوی علوم حاصل کرسکتی ہیں، اسی طرح ملازمت اور کاروبار بھی کرسکتی ہیں۔ لیکن تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں رائج موجودہ تعلیمی نظام اور دفاتر میں کام کرنے والی بے شمار خواتین جنسی استحصال کی شکار ہوتی ہیں۔ میرے کہنے کا مقصد یہ نہیں کہ ہم اپنی بچیوں کو اعلیٰ تعلیم نہ دلائیں یا خواتین کا ملازمت کرناحرام ہے، لیکن زمینی حقائق کا ہم انکار نہیں کرسکتے۔ اس لیے بچوں اور بچیوں کی تعلیم کے لیے حتی الامکان محفوظ اداروں کو اختیار کریں کیونکہ بہر حال اس دنیا کو الوداع کہہ کر ایک دن اللہ کے سامنے کھڑے ہوکر دنیاوی زندگی کا حساب دینا ہے۔

زنا کاری سے بچنے کی اہمیت: حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: (قیامت کے دن گرمی اپنے شباب پر ہوگی اور ہر آدمی کو بمشکل دو قدم رکھنے کے لیے جگہ ملے گی، مگر اس سخت پریشانی کے وقت بھی) سات قسم کے آدمی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اپنے (رحمت کے) سایہ میں جگہ عطا فرمائے گا، اور اس دن اس کے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔ ان ساتوں اشخاص میں سے ایک شخص وہ ہے جسے خوبصورت اور اچھے خاندان کی لڑکی بدکاری کی دعوت دے تو دہ کہے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ (بخاری) حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے مجھے اپنے دونوں ٹانگوں کے درمیان (شرمگاہ) کی اور اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان (زبان) کی ضمانت دی یعنی حفاظت کی تو میں اسے جنت کی ضمانت دوں گا۔ (بخاری) رشتہ سے قبل لڑکا اور لڑکی کا ایک دوسرے کو دیگر حضرات کی موجودگی میں دیکھنے اور حسب ضرورت بات کرنے کی شرعاً اجازت ہے، لیکن رشتہ کے بعد نکاح کے بغیر لڑکے اور لڑکی کا ساتھ سفر کرنا یا خلوت میں ملنا جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر نکاح ہوچکا ہے لیکن رخصتی نہیں ہوئی ہے تو شرعاً دونوں کو ملنا اور بات چیت کرنا سب جائز ہے۔

زانی کی سزا: سورۃ النور (آیت ۱ سے ۹ تک) میں زنا کرنے والوں کی سزا اور اس کے متعلق بعض احکام بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یہ ایک سورت ہے جو ہم نے نازل کی ہے۔ اور جس کے احکام کو ہم نے فرض کیا ہے۔ اور اس میں کھلی کھلی آیتیں نازل کی ہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد دونوں کو سو سو کوڑے لگاؤ۔ آگے آنے والی آیات کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص بدکاری کا عادی ہواور توبہ نہ کرتا ہو مگر کسی وجہ سے اُس پر حد جاری نہیں ہورہی ہے تو اس کا نکاح پاکدامن عورت کے ساتھ نہ کیا جائے۔ زنا کی حد جاری کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس جرم عظیم کا خود اعتراف کرے یا پھر چار گواہ اس بات کی گواہی دیں کہ انہوں نے دونوں کو اس حالت میں پایا کہ ایک کی شرمگاہ دوسرے کی شرمگاہ میں موجود تھی۔ چونکہ کسی مرد یا عورت کو زنا جیسے بڑے گناہ کا مرتکب قرار دینے پر سخت سزا دی جاتی ہے۔ اس لیے صرف دو گواہ کافی نہیں ہیں بلکہ چار گواہوں کی گواہی کو لازم قرار دیا گیا، اور ان گواہوں کو بھی یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اگر چار گواہوں کی گواہی ثابت نہیں ہوسکی تو تہمت لگانے والوں پر ۸۰کوڑے مارے جائیں گے۔ قرآن کریم حضور اکرم ﷺ پر نازل فرماکر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو یہ ذمہ داری عطا کی کہ وہ قرآن کریم کے مسائل واحکام کو کھول کھول کر بیان فرمائیں۔ آپ ﷺ نے اپنے قول وعمل کے ذریعہ بیان فرمایا کہ سورۃ النور میں وارد حدِّ زنا اُس مردو عورت کے لیے ہے جس نے ابھی شادی نہیں کی ہے اور زنا کا خود اعتراف کیا ہے یا چار گواہوں کی چند شرائط کے ساتھ گواہی سے یہ بات ثابت ہوئی ہے۔ یعنی اُس کو سو کوڑے ماریں جائیں۔ ’’فاجلدوا‘‘ لفظ جَلْد کوڑا مارنے کے معنی میں ہے، وہ جِلد سے مشتق ہے، کیونکہ کوڑا عموماً چمڑے سے بنایا جاتا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ لفظ جَلْد سے تعبیر کرنے میں اس طرح اشارہ ہے کہ یہ کوڑوں کی سزا اس حد تک رہنی چاہئے کہ اس کا اثر انسان کی کھال تک رہے، گوشت تک نہ پہونچے۔ نبی اکرم ﷺ نے خود کوڑے کے متعلق عملاً یہ تلقین فرمائی کہ کوڑا نہ بہت سخت ہو جس سے گوشت تک ادھڑ جائے اور نہ بہت نرم ہو کہ اس کی کوئی تکلیف بھی نہ پہنچے۔ لیکن اگر زنا کرنے والا شادی شدہ ہے تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے قول وعمل سے بتایا کہ اُس کی سزا رجم (سنگساری) ہے۔یعنی شرعی ثبوت کے بعد شادی شدہ زانی کو زندہ زمین میں اس طرح گاڑا جائے کہ اس کا آدھا نچلا حصہ زمین میں ہو اور جسم کا اوپر والاآدھا حصہ باہر ہو۔ پھر چاروں اطراف سے اُس پر پتھر برسائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ مر جائے۔ صحابۂ کرام نے بھی شادی شدہ شخص کے زنا کرنے پر رجم (سنگساری) ہی کیا۔ حضور اکرم ﷺ کے قول وعمل اور صحابۂ کرام کے عمل پر پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ چار گواہوں کی شہادت کے ثبوت کے بعد شادی شدہ زانی کو رجم (سنگساری) ہی کیا جائے گا۔ اگر زنا ہوجائے تو ظاہر ہے کہ عمومی طور پر دنیا میں اسلامی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے حد جاری نہیں کی جاسکتی، لیکن پہلی فرصت میں توبہ کرنی چاہئے اور پوری زندگی اس جرم عظیم پر اللہ تعالیٰ کے سامنے رونا اور گڑگڑانا چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ معاف فرمادے اور آئندہ زنا کے قریب بھی نہ جاناچاہئے کیونکہ زنا کرنے والے شخص سے اللہ تعالیٰ بات بھی نہیں فرمائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیں گے، اگر زنا سے سچی توبہ نہیں کی۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)