Print

بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

قسطوں پر گاڑی یا مکان خریدنا

آجکل قسطوں پر گاڑی یا مکان خریدنے کا کافی رواج ہوگیا ہے۔۔۔ اس کی شکل یہ ہوتی ہے کہ جب آپ گاڑی خریدنے کے لئے Show Roomجاتے ہیں تو گاڑی فروخت کرنے والا کہتا ہے کہ فلاں گاڑی Cashخریدنے پر مثلاً 50,000ریال کی ہے، اور قسطوں میں خریدنے پر 60,000ریال کی ہے۔۔۔۔ اگر آپ گاڑی قسطوں میں خریدنے کے لئے راضی ہوجاتے ہیں، تو دونوں Party (بائع اور مشتری) ایک Contract پر جسمیں Down Payment اور قسطوں کی ادائیگی کی تفصیل درج ہوتی ہے، دستخط کردیتی ہیں۔
اس طرح قسطوں پر گاڑی خریدنا یا فروخت کرنا شرعاً جائز ہے۔۔۔ لیکن اس بیع کے صحیح ہونے کے لئے بنیادی شرط یہ ہے کہ خرید وفروخت کے وقت، گاڑی‘ بیچنے والے کی ملکیت اور قبضہ میں ہونی چاہئے۔
لیکن ان دنوں ایک اور مسئلہ درپیش ہے کہ گاڑی فروخت کرنے والا مثلاً (Show Room) کسی Bank یا Investment Companyسے معاہدہ کرلیتا ہے جس کی بنیاد پر بینک یا انویسٹمینٹ کمپنی ‘ گاڑی خریدنے والے کی طرف سے ‘ گاڑی کی مکمل قیمت Cash ادا کردیتی ہے، اور گاڑی خریدنے والا‘ گاڑی کی قیمت قسطوں پر بینک یا انویسٹمینٹ کمپنی کو ادا کرتا ہے ۔ یہ شکل و صورت شرعاً جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ بینک یا انویسٹمینٹ کمپنی سے سود پر قرض لینے کے مترادف ہے، جو قرآن وحدیث کی روشنی میں حرام ہے۔
البتہ موجودہ مسئلہ میں جائز کی شکل اس طرح ہوسکتی ہے کہ بینک یا انویسٹمینٹ کمپنی Show Room سے گاڑی Cashخریدلے، اور گاڑی بینک یا انویسٹمینٹ کمپنی کی ملکیت اور قبضہ میں آجائے ، پھر بینک یا انویسٹمینٹ کمپنی‘ قسطوں پر گاڑی فروخت کرے۔
قسطوں پر مکان خریدنے کے مسائل بھی‘ تقریباً قسطوں پر گاڑی خریدنے کی طرح ہیں۔
غرض اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے شریعت کے چند اصولوں کو ذہن میں رکھیں:
سود پر پیسا لینا، یا دینا یا سود کے کاروبار میں کسی طرح کا شرکت کرنا قطعاً حرام ہے۔۔۔۔ اس لئے ہمیں سود کے شبہ سے بھی بچنا چاہئے۔ نبی اکرم ا نے ارشاد فرمایا ہے: سود کے ستر سے زیادہ شعبے ہیں اور ادنی ترین شعبہ ایسا ہے جیسے اپنی ماں سے زنا کرنا۔ ۔ (ابن ماجہ، حاکم ، طبرانی)۔ نیز نبی اکرم ا نے ارشاد فرمایا ہے: ایک درہم سود کا کھانا‘ چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ برا ہے۔ (مسند احمد) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (انشاء اللہ، سود کے موضوع پر جلدی ہی قرآن وحدیث کی روشنی میں ایک مضمون ارسال کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سود کی ہر شکل وصورت سے محفوظ فرمائے)۔
جو چیز آپ کی ملکیت میں نہیں ہے ، اس کا فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چیز کو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے جو ملکیت اور قبضہ میں نہیں ہے۔
پیسے کا مقابلہ اگر پیسے سے ہے تو کمی بیشی جائز نہیں ہے۔
پیسے کا مقابلہ اگر سامان یا کسی چیز سے ہے تو کمی بیشی جائز ہے۔
اس موضوع سے متعلق چند مسائل:
مکان کے چھ ماہ کا کرایا چھ ہزار ریال ، اور ایک سال کا مکمل کرایا بیک وقت ادا کرنے کی صورت میں دو ہزار ریال کم یعنی دس ہزار ریال۔۔۔۔ شرعاً اس طرح کرایا لینا یا دینا جائز ہے، کیونکہ یہاں پیسے کا مقابلہ پیسے سے نہیں ہے بلکہ مکان سے ہے۔
آپ کے پاس مکان کے چھ ماہ کا کرایا ادا کرنے کے لئے چھ ہزار ریال موجود ہیں۔ آپ نے اپنے دوست سے کہا کہ تم چار ہزار ریال مجھے اس وقت قرض دیدو، تاکہ میں ایک سال کا کرایا ادا کردوں جس سے دو ہزار ریال بچ جائیں اور وہ تم مجھ سے لے لینا ، یعنی میں تمہیں بعد میں چھ ہزار ریال واپس ادا کردوں گا۔ شرعاً اس طرح دو ہزار ریال زیادہ ادا کرنا جائز نہیں ہے ،کیونکہ یہاں پیسے کا مقابلہ پیسے سے ہے، جو کہ سود ہے۔
واللہ اعلم بالصواب۔ محمد نجیب قاسمی