بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

Riba, Mutual Funds & Life Insurance

چند ایام سےRiba، Mutual Funds اور Life Insurance کے متعلق انٹرنیٹ کے ایک گروپ پر متعدد احباب کے خیالات پڑھنے کو ملے۔ بحث ومباحثہ مقصود نہیں ہے، صرف اصلاح کی غرض سے قرآن وحدیث کی روشنی میں ایک مضمون تحریر کررہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اخروی زندگی سامنے رکھ کر اس فانی دنیاوی زندگی کو گزارنے والا بنائے، مال کو صرف جائز طریقہ سے کمانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری روح اس حال میں جسم سے پرواز کرے کہ اے اللہ تعالیٰ ! تو ہم سے راضی اور خوش ہو۔ آمین۔ ثم آمین۔
اصل موضوع سے قبل دو اہم امور پر روشنی ڈالنا مناسب سمجھتا ہوں جس سے اصل موضوع کا سمجھنا آسان ہوجائے گا۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں مال کی حیثیت:
مال اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے لیکن مال کے نعمت بننے کے لئے ضروری ہے کہ مال کو حلال وسائل اختیار کرکے حاصل کیا جائے اور اس مال سے متعلق جو اللہ تعالیٰ کے حقوق ہیں یعنی زکوٰۃ وغیرہ ان کی ادائیگی کی جائے۔۔ ۔ مال نعمت ہونے کے ساتھ ایک انسانی ضرورت بھی ہے، لیکن مال کے نعمت اور ضرورت ہونے کے باوجود ‘ خالق کائنات اور تمام نبیوں کے سردار حضور اکرم انے مال کو متعددجگہوں پر فتنہ ، دھوکے کی چیز اور محض دنیاوی زینت کی چیز قرار دی ہے۔ چند مثالیں عرض ہیں:
مال و اولاد تو فانی دنیا کی عارضی زینت ہیں۔ (سورہ الکہف ۴۶)
مال و اولاد کی زیادتی کی چاہت نے تمہیں اللہ کی عبادت سے غافلکردیایہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔ (سورہ التکاثر ۱۔۲)
خوب جان لو کہ دنیاوی زندگی صرف کھیل تماشا، عارضی زینت اور آپس میں فخر وغرور اور مال واولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانےکی کوشش کرناہے۔ (سورہ الحدید۲۰)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر امت کے لئے ایک فتنہ رہا ہے، میری امت کا فتنہ مال ہے۔ (ترمذی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے جنت کو دیکھا تو وہاں غریب لوگوں کو زیادہ پایا۔ (بخاری ومسلم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: غریب لوگ مالداروں سے پانچ سو سال قبل جنت میں داخل ہوں گے۔ (ترمذی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے تمہارے لئے غریبی کا خوف نہیں ہے بلکہ مجھے خوف ہے کہ پہلی قوموں کی طرح کہیںتمہارے لئے دنیا یعنی مال ودولت کھول دی جائے اور تم اس کے پیچھے پڑ جاؤ، پھر وہ مال ودولت پہلے لوگوں کی طرح تمہیں ہلاک کردے۔ (بخاری ومسلم)
قرآن وحدیث کی روشنی میں سود‘ شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ:
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑدو، اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے تو تم اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لئے تیار ہوجاؤ۔(سورہ البقرہ ۲۷۸ ۔ ۲۷۹)
سود کھانے والوں کے لئے اللہ اور اسکے رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے اور یہ ایسی سخت وعید ہے جو اور کسی بڑے گناہ مثلاً زنا کرنے، شراب پینے کے ارتکاب پر نہیں دی گئی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ جو شخص سود چھوڑنے پر تیار نہ ہو تو خلیفہ وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سے توبہ کرائے اور باز نہ آنے کی صورت میں اس کی گردن اڑادے۔ (تفسیر ابن کثیر)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک درہم سود کا کھانا چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ ہے۔ (مسند احمد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سود کے ۷۰ سے زیادہ درجے ہیں اور ادنی درجہ ایسا ہے جیسے اپنی ماں سے زناکرے۔(مؤطا امام مالک، طبرانی)
ان تمہیدی دو ابواب کے بعد اصل موضوع کی طرف رجوع کرتا ہوں، سب سے پہلے حلال ، حرام اور مشتبہ چیزو ں کے متعلق اللّہ کے حبیب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو پڑھیں جسمیں شبہ والی چیزوں سے تعامل کرنے کا شرعی اصول ذکر کیا گیا ہے :
رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا: حلال واضح ہے، حرام واضح ہے۔ ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جن کو بہت سارے لوگ نہیں جانتے ۔ جس شخص نے شبہ والی چیزوں سے اپنے آپ کو بچالیا اس نے اپنے دین اور عزت کی حفاظت کی۔ اور جو شخص مشتبہ چیزوں میں پڑے گا وہ حرام چیزوں میں پڑ جائے گا اس چرواہے کی طرح جو دوسرے کی چراگاہ کے قریب بکریاں چراتا ہے کیونکہ بہت ممکن ہے کہ اس کا جانور دوسرے کی چراگاہ سے کچھ چرلے۔ (بخاری ومسلم)
نبی اکرم (بخاری ومسلم) کے اس ارشاد سے معلوم ہواکہ حکم کے اعتبار سے چیزوں کی تین قسمیں ہیں:
وہ چیزیں جن کا حلال ہونا واضح ہے، مثلاً جائز لباس وجائز کھانے وغیرہ ۔
وہ چیزیں جن کا حرام ہونا واضح ہے،مثلاً سود کھانا، شراب پینا، زنا کرنا، جھوٹ بولنا، یتیم کا مال کھانا وغیرہ۔
وہ چیزیں جن کے حلال اور حرام ہونے میں شبہ ہوجائے، مثلاً موضوع بحث مسائل (Mutual Funds اور Life Insurance )۔ امت مسلمہ کے موجودہ تمام مکاتب فکر کے بیشتر علماء ان مذکورہ شکلوں کے ناجائز وحرام ہونے پر متفق ہیں۔ بعض علماء نے موضوع بحث مسائل کی بعض شکلیں چند شرطوں کے ساتھ جائز قرار دی ہیں۔ لہذا جس کو نبی اکرم اکے اقوال وفرمان سے واقعی سچی محبت ہے جو ہر مسلمان کو ہونی چاہئے جیساکہ نبی اکرم ا نے ارشاد فرمایا : کوئی بھی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اسکے لئے اسکی اولاد ، اسکے والدین اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں (بخاری ومسلم) تو وہ کبھی بھی ان مشتبہ امور کے قریب نہیں جائے گا،کیونکہ ہمارے نبی حضور اکرم انے واضح طور پر ذکر فرمادیا کہ جس شخص نے شبہ والی چیزوں سے اپنے آپ کو بچالیا اس نے اپنے دین اور عزت کی حفاظت کرلی، اور جو شخص مشتبہ چیزوں کے چکر میں پڑا گویا وہ حرام چیزوں میں پڑگیا۔
میرے عزیز دوستو! ان مذکورہ شکلوں میں رقم نہ لگانے پر اگر بظاہر کچھ وقتی نقصان بھی نظر آئے تو دوسرے جائزوبہتر وسائل سے اللہ تعالیٰ روزی عطا فرمائے گا، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لئے (غلط راستوں سے) چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔ اور ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو، اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اس کے لئے کافی ہوگا۔(سورہ الطلاق ۲۔۳)۔
تنبیہ:
علماء کرام نے بعض شرائط کے ساتھ Shares خریدنے کے جواز کا فیصلہ فرمایا ہے، لیکن ان شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ ہم جس کمپنیکے Shares خریدنا چاہتے ہیں، اس کمپنی کے متعلق پہلے وافر معلومات حاصل کریں۔ اگر اس کمپنی کا کاروبار مثلاًشراب کا ہے، یا اس کمپنی کا کاروبار سود پرمشتمل ہے تو ایسی کمپنی کے Shares خریدنے جائز نہیں ہوں گے۔
آجکل چند دنیاوی مادی طاقتیں مسلمانوں کے مال کو حاصل کے لئے اسلامی بینکنگ کے نام پر مختلف مالی پروجکٹس پیش کرتی رہتی ہیں، تاکہ مسلمان ‘ اسلام کا نام دیکھ کر اپنی رقم ان کے حوالے کردیں۔ ان پروجیکٹس پر رقم لگانے سے قبل ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان پروجیکٹس کی مکمل تفصیلات معلوم کریں پھر علماء کرام کی سرپرستی میں رہ کر اخروی زندگی کو سامنے رکھ کر فیصلہ فرمائیں ۔
بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس زمانے میں سودی نظام سے بچنا انتہائی مشکل ہے، مختلف اسباب کی وجہ سے کسی نہ کسی حد تک سودی نظام سے جڑنا ہی پڑتا ہے۔۔۔۔ میری ایسے تمام حضرات سے درخواست ہے کہ ہمیں اس دنیاوی زندگی میں رہ کر ہمیشہ ہمیشہ کی اخروی زندگی کی تیاری کرنی ہے، موت کا آنا یقینی ہے، البتہ موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں کہ ملک الموت کب ہماری جان نکالنے کے لئے آجائے، آنکھ بند ہونے کے بعد پھر ہمیں کوئی دوسرا موقعہ آخرت کی تیاری کرنے کا میسر نہیں ہوگا۔ لہذا بظاہر دنیاوی نقصان وضرر کو برداشت کریں، کیونکہ دنیاوی زندگی تو بہرحال گزرجائے گی، لیکن آخرت کی ناکامی پر ناقابل تلافی نقصان وخسارہ ہوگا۔ میرے عزیز ساتھیو! مرنے کے بعد مال واولاد اسی وقت کام آئے گی جب ہم نے حلال وسائل اختیار کرکے مال کو کماکر ان پر خرچ کیا ہوگا۔
جن حضرات نے بینکوں میں اپنا مال جمع کررکھا ہے اور اس پر سود مل رہا ہے، اس سے متعلق علماء کی رائے یہ ہے کہ سود کی رقم بینکوں سے نکال کرعا م رفاہی کاموں میں لگادیں، اپنے اوپر یا اپنی اولاد پر ہرگز خرچ نہ کریں۔
بعض حضرات اگر Mutual Funds اور Life Insurance سے متفق ہیں تو میری ان سے درخواست ہے کہ وہ کم از کم دوسروں کو Emails بھیج کردوسروں کو شک وشبہ میں نہ ڈالیں، کیونکہ اسلام نے نہ تو ہمارے اوپریہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ ہم دوسروں کے مال کو بڑھانے کی فکر کریں اور نہ ہی اس کی کوئی ترغیب دی ہے، بلکہ قرآن وحدیث میں مال کو متعددجگہوں پر فتنہ ، دھوکے کی چیز ، اور محض دنیاوی زینت کی چیز قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حلال، وسیع اور برکت والا رزق عطا فرمائے، اور مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کرنے والا بنائے۔ آمین۔
دعاؤں کا محتاج: محمد نجیب قاسمی

 (This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)