بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

سود ۔ ۔ ۔ یعنی انسانوں کو ہلاک کرنے والا گناہ

مال اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے، جس کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنی دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن شریعت اسلامیہ نے ہر شخص کو مکلف بنایا ہے کہ وہ صرف جائز وحلال طریقہ سے ہی مال کمائے کیونکہ کل قیامت کے دن ہر شخص کو مال کے متعلق اللہ رب العزت کو جواب دینا ہوگا کہ کہاں سے کمایا یعنی وسائل کیا تھے اور کہاں خرچ کیا یعنی مال سے متعلق حقوق العباد یا حقوق اللہ میں کوئی کوتاہی تو نہیں کی۔
مال کے نعمت اور ضرورت ہونے کے باوجود ‘ خالق کائنات اور تمام نبیوں کے سردار حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے مال کو متعدد مرتبہ فتنہ ، دھوکے کا سامان اور محض دنیاوی زینت کی چیز قرار دیا ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: خوب جان لو کہ دنیاوی زندگی صرف کھیل تماشا، عارضی زینت اور آپس میں فخر وغرور اور مال واولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرناہے۔ (سورۂ الحدید۲۰) اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ہر امت کے لئے ایک فتنہ رہا ہے، اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ (ترمذی) نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے تمہارے لئے غریبی کا خوف نہیں ہے بلکہ مجھے خوف ہے کہ پہلی قوموں کی طرح کہیں تمہارے لئے دنیا یعنی مال ودولت کھول دی جائے اور تم اس کے پیچھے پڑ جاؤ، پھر وہ مال ودولت پہلے لوگوں کی طرح تمہیں ہلاک کردے۔ بخاری ومسلم
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم مال ودولت کے حصول کے لئے کوئی کوشش ہی نہ کریں کیونکہ طلب حلال رزق اور بچوں کی حلال رزق سے تربیت کرنا خود دین ہے حتی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی شخص اپنے گھر والوں پر خرچہ کرتا ہے تو وہ بھی صدقہ ہے یعنی اس پر بھی اجر ملے گا۔ (بخاری ومسلم) ۔۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ اللہ کے خوف کے ساتھ دنیاوی فانی زندگی گزاریں اور اخروی زندگی کی کامیابی کو ہر حال میں ترجیح دیں۔ کہیں کوئی معاملہ درپیش ہو تو اخروی زندگی کو داؤ پرلگانے کے بجائے فانی دنیاوی زندگی کے عارضی مقاصد کو نظر انداز کردیں، نیز شک وشبہ والے امور سے دور رہیں۔
اِن دنوں حصول مال کے لئے ایسی دوڑ شروع ہوگئی ہے کہ اکثر لوگ اس کا بھی اہتمام نہیں کرتے کہ مال حلال وسائل سے آرہا ہے یا حرام وسائل سے، بلکہ کچھ لوگوں نے تو اَب حرام وسائل کو مختلف نام دے کر اپنے لئے جائز سمجھنا اور دوسروں کو اس کی ترغیب دینا شروع کردیا ہے ، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: حلال واضح ہے، حرام واضح ہے۔ اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جن کو بہت سارے لوگ نہیں جانتے۔ جس شخص نے شبہ والی چیزوں سے اپنے آپ کو بچالیا اُس نے اپنے دین اور عزت کی حفاظت کی۔ اور جو شخص مشتبہ چیزوں میں پڑے گا وہ حرام چیزوں میں پڑ جائے گا اس چرواہے کی طرح جو دوسرے کی چراگاہ کے قریب بکریاں چراتا ہے کیونکہ بہت ممکن ہے کہ چرواہے کی تھوڑی سی غفلت کی وجہ سے وہ بکریاں دوسرے کی چراگاہ سے کچھ کھالیں۔ بخاری ومسلم
اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ صرف حلال وسائل پر ہی اکتفاء کرے، جیساکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے ارشاد فرمایا: حرام مال سے جسم کی بڑھوتری نہ کرو کیونکہ اس سے بہتر آگ ہے۔ (ترمذی) اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے ارشاد فرمایا: وہ انسان جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کی پرورش حرام مال سے ہوئی ہو، ایسے شخص کا ٹھکانہ جہنم ہے۔۔۔ (مسند احمد) نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   کا فرمان ہے کہ حرام کھانے، پینے اور حرام پہننے والوں کی دعائیں کہاں سے قبول ہوں۔ صحیح مسلم
ہمارے معاشرہ میں جو بڑے بڑے گناہ عام ہوتے جارہے ہیں، ان میں سے ایک بڑا خطرناک اور انسان کو ہلاک کرنے والا گناہ سود ہے۔
سود کیا ہے؟
وزن کی جانے والی یا کسی پیمانے سے ناپے جانے والی ایک جنس کی چیزیں اور روپئے وغیرہ میں دو آدمیوں کا اس طرح معاملہ کرنا کہ ایک کو عوض کچھ زائد دینا پڑتا ہو "ربا" اور "سود"کہلاتا ہے جس کو انگریزی میں Interest یا Usuryکہتے ہیں۔
جس وقت قرآن کریم نے سود کو حرام قرار دیا اس وقت عربوں میں سودکا لین دین متعارف اور مشہور تھا، اور اُس وقت سود اُسے کہا جاتا تھا کہ کسی شخص کو زیادہ رقم کے مطالبہ کے ساتھ قرض دیا جائے خواہ لینے والا اپنے ذاتی اخراجات کے لئے قرض لے رہا ہو یا پھر تجارت کی غرض سے، نیز وہ Simple Interestہو یا Compound Interest، یعنی صرف ایک مرتبہ کا سود ہو یا سود پر سود۔ تفصیلات کے لئے مفسر قرآن حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب "مسئلہ سود" کا مطالعہ کریں، جو میری ویب سائٹ (www.najeebqasmi.com) پر Free Download کرنے کے لئے مہیا ہے۔ مثلاً زید نے بکر کو ایک ماہ کے لئے ۱۰۰ روپئے بطور قرض اس شرط پر دئے کہ وہ ۱۱۰ روپئے واپس کرے، تو یہ سودہے۔۔۔ البتہ قرض لینے والا اپنی خوشی سے قرض کی واپسی کے وقت اصل رقم سے کچھ زائد رقم دینا چاہے تو یہ جائز ہی نہیں بلکہ ایسا کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   کے عمل سے ثابت ہے، لیکن پہلے سے زائد رقم کی واپسی کا کوئی معاملہ طے نہ ہوا ہو۔۔۔ بینک میں جمع شدہ رقم پر پہلے سے متعین شرح پر بینک جو اضافی رقم دیتا ہے وہ بھی سود ہے۔
سود کی حرمت:
سود کی حرمت قرآن وحدیث سے واضح طور پر ثابت ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے خریدوفروخت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ (سورۂ البقرہ ۲۷۵) اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ (سورۂ البقرہ ۲۷۶) جب سود کی حرمت کاحکم نازل ہوا تو لوگوں کا دوسروں پر جو کچھ بھی سود کا بقایا تھا، اس کو بھی لینے سے منع فرمادیاگیا: سود کا بقایا بھی چھوڑدو اگر تم ایمان والے ہو۔ (سورۂ البقرہ ۲۷۸) اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اے ایمان والو! کئی گنا بڑھا چڑھاکرسود مت کھاؤ۔  (سورۂ آل عمران ۱۳۰)
سود لینے اور دینے والوں کے لئے اللّٰہ اور اسکے رسول کا اعلان جنگ:
سود کو قرآن کریم میں اتنا بڑا گناہ قرار دیا ہے کہ شراب نوشی، خنزیر کھانے اور زنا کاری کے لئے قرآن کریم میں وہ لفظ استعمال نہیں کئے گئے جو سود کے لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے استعمال کئے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑدو، اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے تو تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے لڑنے کے لئے تیار ہوجاؤ۔ (سورۂ البقرہ ۲۷۸ ۔ ۲۷۹) سود کھانے والوں کے لئے اللہ اور اسکے رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے اور یہ ایسی سخت وعید ہے جو کسی اور بڑے گناہ مثلاً زنا کرنے، شراب پینے کے ارتکاب پر نہیں دی گئی۔ مشہور صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص سود چھوڑنے پر تیار نہ ہو تو خلیفۂ وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سے توبہ کرائے اور باز نہ آنے کی صورت میں اس کی گردن اڑادے۔ تفسیر ابن کثیر
سود کھانے والوں کے لئے قیامت کے دن کی رسوائی وذلّت:
اللہ تبارک وتعالیٰ نے سود کھانے والوں کے لئے کل قیامت کے دن جو رسوائی وذلت رکھی ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں کچھ اس طرح فرمایا: جولوگ سود کھاتے ہیں وہ (قیامت میں) اٹھیں گے تو اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے چھوکر پاگل بنادیا ہو۔ (سورۂ البقرہ ۲۷۵) اللہ تعالیٰ ہمیں سود کی تمام شکلوں سے محفوظ فرمائے، اور اس کے انجام بد سے ہماری حفاظت فرمائے۔۔۔ سود کی بعض شکلوں کو جائز قرار دینے والوں کے لئے فرمان الہی ہے: یہ ذلت آمیز عذاب اس لئے ہوگا کہ انہوں نے کہا تھا کہ بیع بھی تو سود کی طرح ہوتی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بیع یعنی خرید وفروخت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔(سورۂ البقرہ ۲۷۵)

سودکھانے سے توبہ نہ کرنے والے لوگ جہنم میں جائیں گے:
لہذا جس شخص کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت آگئی اور وہ (سودی معاملات سے) باز آگیا تو ماضی میں جو کچھ ہوا وہ اسی کا ہے اور اس کی (باطنی کیفیت) کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالہ ہے۔ اور جس شخص نے لوٹ کر پھر وہی کام کیاتو ایسے لوگ دوزخی ہیں، وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔(سورۂ البقرہ ۲۷۵)
غرضیکہ سورۂ البقرہ کی ان آیات میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو ہلاک کرنے والے گناہ سے سخت الفاظ کے ساتھ بچنے کی تعلیم دی ہے اور فرمایاکہ سود لینے اور دینے والے اگر توبہ نہیں کرتے ہیں تو وہ اللہ اور اسکے رسول سے لڑنے کے لئے تیار ہوجائیں، نیز فرمایا کہ سود لینے اور دینے والوں کو کل قیامت کے دن ذلیل ورسوا کیا جائے گا اور وہ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔۔۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے بھی سود سے بچنے کی بہت تاکید فرمائی ہے اور سود لینے اور دینے والوں کے لئے سخت وعیدیں سنائی ہیں جن میں سے بعض احادیث ذکر کررہا ہوں:
سود کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   کے ارشادات:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر سود کی حرمت کا اعلان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: (آج کے دن) جاہلیت کا سود چھوڑ دیا گیا، اور سب سے پہلا سود جو میں چھوڑتا ہوں وہ ہمارے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سود ہے۔ وہ سب کا سب ختم کردیا گیا ہے۔ چونکہ حضرت عباس ؓسود کی حرمت سے قبل لوگوں کو سود پر قرض دیا کرتے تھے، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے فرمایاکہ آج کے دن میں اُن کا سودجو دوسرے لوگوں کے ذمہ ہے وہ ختم کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم ، باب حجۃ النبی ) روایات میں آتا ہے کہ وہ تقریباً دس ہزار مثقال سونا تھا۔ سود کی حرمت نبی کی زندگی کے آخری سالوں میں کسی وقت ہوئی ہے۔
حضرت ابوہرہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے ارشاد فرمایا: سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔ صحابۂ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ! وہ سات بڑے گناہ کونسے ہیں (جو انسانوں کو ہلاک کرنے والے ہیں)؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے ارشاد فرما: شرک کرنا۔۔ جادو کرنا۔۔ کسی شخص کو ناحق قتل کرنا۔۔ سود کھانا۔۔ یتیم کے مال کو ہڑپنا۔۔ (کفار کے ساتھ جنگ کی صورت میں) میدان سے بھاگنا۔۔ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔۔   (بخاری ومسلم)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لَعَنَ رَسُولُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم   آکِلَ الرِّبَا وَمُوْکِلَہُ (مسلم، ترمذی، ابوداود، نسائی) حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے سود کھانے اور سود کھلانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے سود لینے اور دینے والے، سودی حساب لکھنے والے اور سودی شہادت دینے والے سب پر لعنت فرمائی ہے۔ سود لینے اور دینے والے پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   کی لعنت کے الفاظ حدیث کی ہر مشہور ومعروف کتاب میں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   سے سچی محبت کرنے والا بنائے اور ان کے ارشادات کی روشنی میں اس دنیاوی فانی زندگی کو گزارنے والا بنائے۔ آمین، ثم آمین۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے ارشاد فرمایا: چار شخص ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے لازم کرلیا ہے کہ ان کو جنت میں داخل نہیں کریں گے اور نہ ان کو جنت کی نعمتوں کا ذائقہ چکھائیں گے۔ پہلا شراب کا عادی، دوسرا سود کھانے والا، تیسرا ناحق یتیم کا مال اڑانے والا، چوتھا ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا۔۔۔۔ کتاب الکبائر للذہبی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: سود کے ۷۰ سے زیادہ درجے ہیں اور ادنی درجہ ایسا ہے جیسے اپنی ماں سے زناکرے۔رواہ حاکم، البیہقی، طبرانی، مالک
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ایک درہم سود کا کھانا چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ ہے۔ رواہ احمد والطبرانی فی الکبیر
بینک سے قرض (Loan) بھی عین سود ہے:
تمام مکاتب فکر کے 99.99% علماء اس بات پر متفق ہیں کہ عصر حاضر میں بینک سے قرض لینے کا رائج طریقہ اور جمع شدہ رقم پر Interest کی رقم حاصل کرنا یہ سب وہی سود ہے جس کو قرآن کریم میں سورۂ البقرہ کی آیات میں منع کیا گیا ہے، جس کے ترک نہ کرنے والوں کے لئے اللہ اور اسکے رسول کا اعلان جنگ ہے اور توبہ نہ کرنے والوں کے لئے قیامت کے دن رسوائی وذلت ہے اور جہنم ان کا ٹھکانا ہے۔ عصر حاضر کی پوری دنیا کے علماء پر مشتمل اہم تنظیم مجمع الفقہ الاسلامیکی اس موضوع پر متعدد میٹنگیں ہوچکی ہیں مگر ہر میٹنگ میں اس کے حرام ہونے کا ہی فیصلہ ہوا ہے ۔ برصغیر کے جمہور علماء بھی اس کے حرام ہونے پر متفق ہیں۔ فقہ اکیڈمی، نیودہلی کی متعدد کانفرنسوں میں اس کے حرام ہونے کا ہی فیصلہ ہوا ہے۔ مصری علماء جو عموماً آزاد خیال سمجھے جاتے ہیں وہ بھی بینک سے موجودہ رائج نظام کے تحت قرض لینے اور جمع شدہ رقم پر Interest کی رقم کے عدم جواز پر متفق ہیں۔ پوری دنیا میں کسی بھی مکتب فکر کے دارالافتاء نے بینک سے قرض لینے کے رائج طریقہ اور جمع شدہ رقم پر Interest کی رقم کو ذاتی استعمال میں لینے کے جواز کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔
عصر حاضر میں ہم کیا کریں؟
اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے ہمیشہ اخروی زندگی کی کامیابی کو زندگی کا اہم مقصد بناکر عارضی فانی دنیاوی زندگی گزاریں۔
اگر کوئی شخص بینک سے قرض لینے یا جمع شدہ رقم پر سود کے جائز ہونے کو کہے تو پوری دنیا کے 99.99% علماء کے موقف کو سامنے رکھ کراس سے بچیں۔
اس بات کو اچھی طرح ذہن میں رکھیں کہ علماء کرام نے قرآن وحدیث کی روشنی میں بینک سے قرض لینے اور بینک میں جمع شدہ رقم پر سود کے حرام ہونےکا فیصلہ آپ سے دشمنی نکالنے کے لئے نہیں بلکہ آپ کے حق میں کیا ہے کیونکہ قرآن وحدیث میں سود کو بہت بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے، شراب نوشی، خنزیرکھانے اور زنا کاری کے لئے قرآن کریم میں وہ لفظ استعمال نہیں کئے گئے جو سود کے لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے استعمال کئے ہیں ۔
جس نبی کے امتی ہونے پر ہم فخر کرتے ہیں اس نے سود لینے اور دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔
جس نبی کا ہم نام لیتے ہیں ، اس نے شک وشبہ والے امور سے بچنے کی تعلیم دی ہے تاکہ آخرت نہ بگڑے خواہ دنیاوی زندگی میں کچھ خسارہ نظر آئے۔
بینک سے قرضہ لینے سے بالکل بچیں، دنیاوی ضرورتوں کو بینک سے قرضہ لئے بغیر پورا کریں، کچھ دشواریاں، پریشانیاں آئیں تو اس پر صبر کریں۔
ہمیشہ دنیاوی اعتبار سے اپنے سے کمزور لوگوں کودیکھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔
اگر آپ کی رقم بینک میں جمع ہے تو اس پر جو سود مل رہا ہے، اس کو خود استعمال کئے بغیر عام رفاہی کاموں میں لگادیںیا ایسے اداروں کو دے دیں جہاںغرباء ومساکین یا یتیم بچوں کی کفالت کی جاتی ہے۔
اِن دِنوں بینکوں نے رقم دینے اور لینے کی مختلف ناموں سے شکلیں بنا رکھی ہیں، علماء کرام سے مکمل تفصیلات بتاکر ہی اس میں پیسہ لگائیں یا لیں۔
اگر کوئی شخص ایسے ملک میں ہے جہاں واقعی سود سے بچنے کی کوئی شکل نہیں ہے، تو اپنی وسعت کے مطابق سودی نظام سے بچیں، ہمیشہ اس سےچھٹکارہ کی فکر رکھیں اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہیں۔
سود کے مال سے نہ بچنے والوں سے درخواست ہے کہ سود کھانا بہت بڑا گناہ ہے،اس لئے کم از کم سود کی رقم کو اپنے ذاتی مصاریف میں استعمال نہ کریںبلکہ اس سے حکومت کی جانب سے عائد کردہ انکم ٹیکس ادا کردیں کیونکہ بعض مفتیان کرام نے سود کی رقم سے انکم ٹیکس ادا کرنے کی اجازت دی ہے۔
جو حضرات سود کی رقم استعمال کرچکے ہیں وہ پہلی فرصت میں اللہ تعالیٰ سے توبہ کریں اور آئندہ سود کی رقم کا ایک پیسہ بھی نہ کھانے کا عزم مصمم کریںاور سود کی مابقیہ رقم کو فلاحی کاموں میں لگادیں۔
اگر کسی کمپنی میں صرف اور صرف سود پر قرضہ دینے کا کاروبار ہے، کوئی دوسرا کام نہیں ہے تو ایسی کمپنی میں ملازمت کرنا جائز نہیں ہے،البتہ اگر کسی بینکمیں سود پر قرضہ کے علاوہ جائز کام بھی ہوتے ہیں مثلاً بینک میں رقم جمع کرنا وغیرہ تو ایسے بینک میں ملازمت کرنا حرام نہیں ہے، البتہ بچنا چاہئے۔
بعض اقتصادیات کے ماہر جنہیں قرآن وسنت کے احکام سے واقفیت عموماً بہت کم ہوتی ہے، سود کے جواز میں اپنے دلائل پیش کرتے نظر آتے ہیں،ان مادہ پرستوں کے فیصلے اخروی زندگی کو نظر انداز کرکے صرف اور صرف دنیاوی فانی زندگی کو سامنے رکھ کر ہوتے ہیں۔اگر کوئی شخص سونے کے پرانے زیورات بیچ کر سونے کے نئے زیورات خریدنا چاہتا ہے، تو اس کو چاہئے کہ دونوں کی الگ الگ قیمت لگواکر اس پر قبضہکرے اور قبضہ کرائے، نئے سونے کے بدلے پرانے سونے اور فرق کو دینا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ بھی سود کی ایک شکل ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم   نے سونےکو سونے کے ساتھ کمی وبیشی کرکے خریدوفروخت کرنے کو ناجائز قرار دیا ہے۔ صحیح مسلم
ہر سال اپنے مال کا حساب لگاکر زکاۃ کی ادائیگی کریں، قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کے لئے بڑی سخت وعید بیان فرمائی ہے جو اپنے مال کیکما حقہ زکوٰۃ نہیں نکالتے ہیں۔
ایک اہم نکتہ: دنیا کی بڑی بڑی اقتصادی شخصیات کے مطابق موجودہ سودی نظام سے صرف اور صرف سرمایہ کاروں کو ہی فائدہ پہونچتا ہے، نیز اس میں بے شمار خرابیاں ہیں جس کی وجہ سے پوری دنیا ا ب اسلامی نظام کی طرف مائل ہورہی ہے۔
نوٹ: بعض مادہ پرست لوگ سود کے جواز کے لئے دلیل دیتے ہیں کہ قرآن کریم میں وارد سود کی حرمت کا تعلق ذاتی ضرورت کے لئے قرض لینے سے ہے، لیکن تجارت کی غرض سے سود پر قرض لیا جاسکتا ہے، اسی طرح بعض مادہ پرست لوگ کہتے ہیں کہ قرآن میں جو سود کی حرمت ہے اس سے مراد سود پر سود ہے لیکن Single سود قرآن کے اس حکم میں داخل نہیں ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ قرآن کریم میں کسی شرط کو ذکر کئے بغیر سود کی حرمت کا اعلان کیا گیا ہے تو قرآن کریم کے اس عموم کو مختص کرنے کے لئے قرآن وحدیث کی واضح دلیل درکار ہے جو قیامت تک پیش نہیں کی جاسکتی۔ اسی لئے خیر القرون سے آج تک کسی بھی مشہور مفسر نے سود کی حرمت والی آیت کی تفسیر اس طرح نہیں کی، نیز قرآن میں سود کی حرمت کے اعلان کے وقت ذاتی اور تجارتی دونوں غرض سے سود لیا جاتا تھا، اسی طرح ایک مرتبہ کا سود یا سود پر سود دونوں رائج تھے، ۱۴۰۰ سال سے مفسرین ومحدثین وعلماء کرام نے دلائل کے ساتھ اسی بات کو تحریرفرمایا ہے۔ یہ معاملہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ قرآن کریم میں شراب پینے کی حرمت اس لئے ہے کہ اُس زمانہ میں شراب گندی جگہوں پر بنائی جاتی تھی، آج صفائی ستھرائی کے ساتھ شراب بنائی جاتی ہے،حسین بوتلوں میں اور خوبصورت ہوٹلوں میں ملتی ہے،لہذا یہ حرام نہیں ہے۔۔۔ ایسے دنیا پرست لوگوں سے اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائے۔
محمد نجیب قاسمی سنبھلی، ریاض (This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)