بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

انسان کے اعضاء (Parts) کا عطیہ اور خرید وفروخت

اگر کسی شخص کے جسم کا کوئی عضو (Part) اس طرح بے کار ہوجائے کہ اس کی جگہ پر کسی دوسرے انسان کا عضو (Part) اس بیمار شخص کے جسم میں نہ لگایا جائے تو طبی اعتبار سے ڈاکٹروں کو یہ یقین ہے کہ مریض کی موت واقع ہوجائے گی۔ غرضیکہ اُس بیمار شخص کی زندگی بچانے کے لئے دوسرے انسان کے عضو (Part) لگانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ مثلاً کسی شخص کے دونوں گردے فیل (خراب) ہوگئے ہیں، اور اب طبی اعتبار سے اس کی زندگی بچانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ دوسرے شخص کا ایک گردہ نکال کر اس بیمار شخص کے لگا دیا جائے،،، تو کیا شرعاً ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اسی طرح کسی شخص کا اپنی زندگی میں یہ وصیت کرنا جائز ہے یا نہیں کہ اس کے مرنے کے بعد اس کے جسم کے زندہ اعضاء نکال کر کسی دوسرے انسان کے جسم میں لگادئے جائیں۔

ظاہر ہے کہ یہ عصر حاضر کا نیا مسئلہ ہے، اس لئے قرآن وحدیث میں اس مسئلہ کی مکمل وضاحت مذکور نہیں ہے۔لیکن قرآن وحدیث میں ایسے اصول وضوابط بیان کئے گئے ہیں، جن کی روشنی میں فقہاء وعلماء اجتہاد کرکے اس طرح کے نئے مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔ اس نوعیت کے نئے مسائل کے حل پیش کرنے میں اختلاف کا ہونا بدیہی بات ہے۔ اس مختصر مضمون میں دلائل پر بحث کرنے کے بجائے صرف فقہاء وعلماء کی آراء کے ذکر پر اکتفاء کررہا ہوں۔ مسئلہ مذکورہ میں فقہاء وعلماء کی تین آراء ہیں:

1) انسان کے کسی عضو کو نکال کر دوسرے انسان کے جسم میں لگانا کسی بھی حال میں جائز نہیں ہے۔ ۲)انسان کے کسی عضو کو نکال کر دوسرے انسان کے جسم میں لگانے کی مکمل اجازت ہے۔ ۳)تین اہم وبنیادی شرائط کے ساتھ انسان کے اعضاء کی پیوند کاری جائز ہے: A)جس شخص کے جسم میں دوسرے انسان کا کوئی عضو لگایا جارہا ہے، اس کی زندگی خطرہ میں ہو، یعنی ڈاکٹروں کو طبی اعتبار سے یہ یقین ہو کہ اگر کسی دوسرے شخص کا عضو نہیں لگایا گیا تو اس شخص کی موت واقع ہوجائے گی۔B)جس شخص کے عضو کو نکال کر اس بیمار شخص کے جسم میں لگایا جارہا ہے وہ اپنا عضو (Part) بغیر کسی معاوضہ کے یعنی ہدےۃً دینے کے لئے تیار ہو۔ مثلاً کس شخص کے دونوں گردے خراب ہوگئے اور اس کا بیٹا یا بیوی یا بھائی اپنے ایک گردہ کو اپنے والدیا شوہر یا بھائی کے لئے بغیر کسی معاوضہ کے دے رہا ہو۔ C)جس شخص کے عضو کو نکالا جارہا ہے، طبی اعتبار سے اس کی زندگی کو بظاہر کوئی خطرہ نہ ہو۔


انسان کا عضو مثلاً گردہ خریدکر پیوند کاری کرنے پر فقہاء وعلماء کی بڑی جماعت اس کے ناجائز ہونے پر متفق ہے، البتہ بعض علماء نے کوئی دوسرا حل نہ نکلنے پر بدرجہ مجبوری کسی انسان کے عضو (Part) مثلاً گردہ کو خریدکر لگانے کے جواز کا فتویٰ دیا ہے۔ البتہ پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ کسی انسان کا اپنا عضو مثلاً گردہ کا بیچنا حرام ہے، بلکہ انسانوں کے بنائے ہوئے دنیاوی قوانین میں بھی یہی تحریر ہے کہ انسان کا اپنے عضو کا بیچنا غلط اور غیر قانونی ہے کیونکہ انسانی اعضاء کھلے عام فروخت ہونے پر دوسری بڑی بڑی پریشانیاں دنیاکے سامنے آجائیں گی، چنانچہ بعض ممالک میں بعض افراد نے اس نوعیت کے کاروبار سے اربوں کھربوں ڈالر جمع کرلئے ہیں، جس کی تفصیلات انٹرنیٹ پر پڑھی جاسکتی ہیں۔

جیساکہ ذکر کیا گیا ہے کہ مسئلہ مذکورہ کے متعلق قرآن دحدیث میں واضح حکم موجود نہ ہونے کی وجہ سے فقہاء وعلماء کے درمیان اختلاف کا ہونا بدیہی امر ہے، لیکن جن فقہاء وعلماء نے اس کے جواز کا فتویٰ دیا ہے وہ عموماً ہبہ کی شکل میں ہی دیا ہے اور ایسی مجبوری میں دیا ہے کہ اعضاء کی پیوند کاری کے علاوہ زندگی بچانے کا کوئی دوسرا راستہ نہ ہو۔ انسان کے عضو کو خریدکر پیوندکاری کرانے میں عموماً فقہاء وعلماء کرام نے ناجائز ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔ فقہاء وعلماء کو اس بیمار شخص سے مکمل ہمدردی ہونے کے باوجود قرآن وحدیث کی روشنی میں وہ یہی سمجھتے ہیں کہ انسان کے عضو کو خرید کر پیوندکاری جائز نہیں ہے۔ اگرچہ بعض علماء نے بدرجہ محبوری اجازت دی ہے۔

رہا معاملہ کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں یہ وصیت کرنا چاہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے زندہ اعضاء کو نکال کر کسی دوسرے انسان کے جسم میں لگادئے جائیں، تو اس نوعیت کی وصیت کے متعلق اکثر علماء کی رائے ہے کہ ایسی وصیت کرنا جائز نہیں ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان اپنے جسم کا خود مالک ہی نہیں ہے کہ وہ اس نوعیت کی وصیت کرے۔ اسی وجہ سے انسان کی خودکشی کرنا حرام ہے۔ نیز انسان کے مرنے کے بعد شریعت اسلامیہ نے مردہ کے ساتھ حتی الامکان نرمی کابرتاؤ کرنے کاحکم دیا ہے، جبکہ میت کے اعضاء نکالنے میں مکمل چیرپھاڑ کی جاتی ہے۔ نیز میت کے اعضاء کے تبرع کے بعد اعضاء ہسپتال کے مکمل اختیار میں ہوجاتے ہیں، وہ جس کو چاہے لگائیں۔ لوگوں کے تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض مرتبہ دوسرے مریض سے اس پر رشوت یا معاوضہ بھی لیا جاتا ہے، اور وارثین کا کوئی اختیار بھی باقی نہیں رہتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس نوعیت کی وصیت کرکے مرجائے تو علماء کرام نے تحریر کیا ہے کہ یہ وصیت ناجائز عمل پر مشتمل ہونے کی وجہ سے وارثین پر اس وصیت پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کی زندگی کے آخری اوقات میں ڈاکٹر حضرات وارثین سے یہ کہہ کر کہ اس شخص کی طبی موت ہوچکی ہے، لیکن اس کے بعض اعضاء کام کررہے ہیں ، اس شخص کے زندہ اعضاء کو نکالنے کی اجازت طلب کریں تو فقہاء وعلماء کرام کا اتفاق ہے کہ مذکورہ بالا اسباب کی وجہ سے وارثین کے لئے اعضاء کو نکالنے کی اجازت دینا جائز نہیں ہے۔ جہاں تک خدمت خلق کاتعلق ہے تو ہم بے شمار طریقوں سے انسانیت کی خدمت کرسکتے ہیں،ہم ایسا طریقہ کیوں اختیار کریں جس کی وجہ سے ہماری آخرت میں پکڑہوسکتی ہو۔

محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)