بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

قرآن کریم کو چھونے یا چھوکر پڑھنے کے لئے وضو ضروری ہے

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، یعنی اُس کی مخلوق نہیں بلکہ صفت ہے۔ کلام الہی لوح محفوظ میں ہمیشہ سے ہے اور یہ ہمیشہ رہے گا۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے سارے کلاموں میں سب سے افضل واعلیٰ اپنا پاک کلام یعنی قرآن مجید قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی ہدایت ورہنمائی کے لئے سارے انسانوں میں سب سے افضل واعلیٰ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے اوپر سب سے زیادہ مقرب فرشتہ کے ذریعہ نازل فرمایا ہے۔ اس پاک کلام کے نزول کی ابتداء سب سے افضل مہینہ یعنی رمضان المبارک کی سب سے افضل رات یعنی لیلۃ القدر میں ہوئی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ جنت میں جنتیوں کے سامنے خود اپنے پاک کلام کی تلاوت فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت بھی بے شمار انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ بنی ہے، امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ تاریخ کی کتابوں میں قلمبند ہے۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ ہم جب بھی قرآن کریم کی تلاوت کریں یا اس کو چھوئیں تو کلام الہی کی عظمت کا تقاضا ہے کہ ہم باوضو ہوں۔ یعنی ہمیں اس کا خاص اہتمام کرنا چاہئے کہ تلاوت قرآن کے وقت حدث اصغر وحدث اکبر سے پاک وصاف ہوں۔ اگر کوئی شخص قرآن کریم کو چھوئے بغیر زبانی پڑھنا چاہتا ہے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے اقوال وافعال کی روشنی میں علماء امت کا اتفاق ہے کہ وضو ضروری نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص قرآن کریم صرف چھونا چاہتا ہے یا چھو کر پڑھنا چاہتا ہے جس طرح ہم عموماً قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں تو قرآن وحدیث کی روشنی میں جمہور علماء کی رائے ہے کہ وضو کا ہونا شرط ہے یعنی ہم بے وضو قرآن کریم کو چھو نہیں سکتے ہیں۔ متعدد صحابۂ کرام، تابعین عظام حتی کہ چاروں ائمہ (امام ابوحنیفہؒ ، امام مالک ؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبل ؒ ) نے بھی قرآن وحدیث کی روشنی میں یہی فرمایا ہے۔ علماء احناف، برصغیرکے علماء کرام اور سعودی عرب کے مشائخ نے بھی یہی تحریر فرمایا ہے کہ بے وضو قرآن کریم چھوا نہیں جا سکتا۔جمہور علماء نے اس کے لئے قرآن وحدیث کے متعدد دلائل پیش فرمائے ہیں، یہاں اختصار کے مدنظر صرف ایک آیت اور ایک حدیث پر اکتفاء کررہا ہوں:
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتا ہے۔ اس کو (یعنی قرآن کریم کو) وہی لوگ چھوسکتے ہیں جو پاک ہوں۔  (سورۃ الواقعہ، آیت نمبر ۷۹) اس آیت سے مفسرین نے دو مفہوم مراد لئے ہیں۔
قرآن کریم کو لوح محفوظ میں پاک فرشتوں کے سوا کوئی اور چھو نہیں سکتا ہے۔
جو قرآن کریم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   پر نازل ہوا ہے یعنی وہ مصحف جو ہمارے ہاتھوں میں ہے اس کو صرف پاکی کی حالت میں ہی چھوا جاسکتا ہے۔ اس آیت کی دوسری تفسیر کے مطابق بغیر طہارت کے قرآن کریم کو چھونا یا چھو کر پڑھنا جائز نہیں ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ جو تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ انہوں نے اپنی بہن کو قرآن کریم پڑھتے ہوئے پایا تو اوراق قرآن کو دیکھنا چاہا، ان کی بہن نے یہی آیت پڑھ کر اوراق قرآن اُن کے ہاتھ میں دینے سے انکار کردیا تھا کہ اس کو پاک لوگوں کے سوا کوئی نہیں چھو سکتا، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجبور ہوکر غسل کیا، پھر قرآن کریم کے اوراق پڑھے۔ اس واقعہ سے بھی اسی دوسری تفسیر کی ترجیح ہوتی ہے۔ اور جن احادیث میں غیر طاہر کو قرآن کریم کے چھونے سے منع کیا گیا ہے، ان احادیث کو بھی علماء کرام نے اس دوسری تفسیر کی ترجیح کے لئے پیش فرمائی ہیں۔
اس باب میں متعدد احادیث ہیں ، لیکن طوالت سے بچنے کے لئے ایک حدیث پیش خدمت ہے۔
حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے یمن والوں کو تحریر کیا کہ قرآن کریم کو طہارت کے بغیر نہ چھوا جائے۔ (موطا مالک ۔ باب الامر بالوضوء لمن مس القرآن) (دارمی ۔ باب لا طلاق قبل النکاح) یہ حدیث مختلف سندوں سے احادیث کی متعدد کتابوں میں وارد ہوئی ہے اور جمہور محدثین نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
کتب حدیث میں متعدد صحابۂ کرام سے بھی یہی منقول ہے کہ قرآن کریم کو چھونے کے لئے وضو شرط ہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ وضو کے بغیر قرآن کریم پڑھنے میں مضائقہ نہیں سمجھتے تھے، مگر بے وضو قرآن کریم کو ہاتھ لگانے کو ناجائز سمجھتے تھے۔ یہی رائے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بھی ہے۔ (احکام القرآن للجصاص) حضرت عطاء، حضرت طاؤس اور حضرت شعبی اور حضرت قاسم بن محمد رحمہم اللہ سے بھی یہی منقول ہے۔ (المغنی لابن قدامہ) البتہ قرآن کو ہاتھ لگائے بغیر یعنی یاد سے پڑھنا ان سب کے نزدیک بے وضو جائز تھا۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں مشہور ومعروف چاروں ائمہ کی آراء:
مسلک حنفی کی تشریح امام علاء الدین کاسانی حنفی ؒ نے بدائع الصنائع میں یوں تحریر کی ہے: جس طرح بے وضو نماز پڑھنا جائز نہیں ہے اسی طرح قرآن مجید کو ہاتھ لگانا بھی جائز نہیں۔ البتہ کسی کپڑے کے ساتھ قرآن کریم کو چھوا جاسکتا ہے۔
مسلک شافعی کو امام نووی ؒ نے المنہاج میں اس طرح ذکر کیا ہے : نماز اور طواف کی طرح مصحف کو ہاتھ لگانا اور اس کے کسی ورق کو چھونا بھی وضو کے بغیر حرام ہے۔ اسی طرح قرآن کی جلد کو چھونا بھی ممنوع ہے۔ بچہ اگر بے وضوہو تو وہ قرآن کو ہاتھ لگا سکتا ہے۔ اور بے وضو آدمی اگر قرآن پڑھے تو لکڑی یا کسی اور چیز سے وہ اس کا ورق پلٹ سکتا ہے۔
مالکیہ کا مسلک جو الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں نقل کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جمہور فقہاء کے ساتھ وہ اس امر میں متفق ہیں کہ مصحف کو ہاتھ لگانے کے لئے وضو شرط ہے۔
شیخ ابن قدامہ ؒ حنبلی نے تحریر کیا ہے کہ جنابت اور حیض ونفاس کی حالت میں قرآن یا اس کی پوری آیت کو پڑھنا جائز نہیں ہے، البتہ بسم اللہ، الحمد للہ وغیرہ کہنا جائز ہے کیونکہ اگرچہ یہ بھی کسی نہ کسی آیت کے اجزاء ہیں مگر ان سے تلاوتِ قرآن مقصود نہیں ہوتی۔ رہا قرآن کو ہاتھ لگانا تو وہ کسی حال میں وضو کے بغیر جائز نہیں۔
علامہ ابن تیمیہ ؒ نے بھی یہی تحریر فرمایا کہ بغیر وضو کے قرآن کریم نہیں چھونا چاہئے، اور یہی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابۂ کرام کی رائے تھی اور کسی ایک صحابی سے اس کے خلاف منقول نہیں۔ (مجمع الفتاویٰ ۲۲۶/۲۱ ۔ ۲۸۸/۲۱)
شیخ حافظ ابن البر ؒ نے تحریر فرمایا کہ تمام علماء امت کا اتفاق ہے کہ مصحف چھونے کے لئے وضو ضروری ہے۔ (الاستذکار ۱۰/۸)
غرضیکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں خیر القرون سے عصر حاضر تک کے جمہور محدثین، مفسرین، فقہاء وعلماء کرام اور چاروں ائمہ نے یہی کہا ہے کہ بغیر وضو کے قرآن کریم کا چھونا جائز نہیں ہے۔ اس طرح امت مسلمہ کا تقریباً ۹۵ فیصد اس بات پر متفق ہے کہ مصحف کو چھونے کے لئے وضو کا ہونا شرط ہے۔ جن چند حضرات نے بغیر وضو کے قرآن کریم چھونے کی اجازت دی ہے، انہوں نے بھی یہی ترغیب دی ہے کہ بغیر وضو کے قرآن کریم نہیں چھونا چاہئے ۔ غرضیکہ ہمیں بغیر وضو کے قرآن کریم نہیں چھونا چاہئے اور نہ ہی مصحف سے قرآن کریم کی تلاوت بغیر وضو کے کرنی چاہئے۔
سعودی علماء کے فتاوے:
سعودی عرب کے سابق مفتی شیخ عبدالعزیز بن باز ؒ نے بھی قرآن وحدیث کی روشنی میں یہی فرمایا ہے کہ بغیر وضو کے قرآن کریم کا چھونا جائز نہیں ہے جو انٹرنیٹ کے مذکورہ لنکس پر پڑھا اور سنا جاسکتا ہے۔


خلاصۂ کلام پیش ہے: مسئلہ میں علماء کے درمیان اختلاف ہے، جمہور علماء خاص کر چاروں ائمہ کی رائے ہے کہ بغیر وضو کے مصحف نہیں چھویا جاسکتا جیسا کہ حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کی حدیث (لَا ےَمَس الْقُرْآنَ الَّا طَاہِر ) میں وارد ہے۔ حافظ ابن عبد البر ؒ نے کہا کہ اس حدیث کی بہت شہرت کی وجہ سے محدثین سے اسے قبول کیا۔ بعض فقہاء نے قرآن کریم کی آیت (لَا ےَمَسُّہُ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ) سے بھی استدلال کیا ہے، لیکن یہ محل نظر ہے لیکن پھر بھی فرشتوں کی طرح مومنین کو بھی باوضو ہی قرآن کریم چھونا چاہئے۔
غرضیکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں خیر القرون سے عصر حاضر تک کے جمہور محدثین، مفسرین، فقہاء وعلماء کرام اور چاروں ائمہ نے یہی کہا ہے کہ بغیر وضو کے قرآن کریم کا چھونا جائز نہیں ہے۔
محمد نجیب قاسمی
www.najeebqasmi.com