بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

کیا اونٹ کے دودھ اور پیشاب سے بیماری کا علاج کیا جاسکتا ہے؟

موضوع بحث مسئلہ کی وضاحت سے قبل صحیح بخاری میں وارد تین مسلسل احادیث کا ترجمہ پیش کرتا ہوں:
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صاحب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرا بھائی پیٹ کی تکلیف میں مبتلا ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا انہیں شہد پلاؤ۔ پھر دوسری مرتبہ وہی صاحب حاضر ہوئے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے اس مرتبہ بھی شہد پلانے کے لئے کہا۔ وہ پھر تیسری مرتبہ حاضر ہوئے (اور عرض کیا کہ شہد پلایا لیکن شفا نہیں ہوئی) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے پھر فرمایا کہ انہیں شہد پلاؤ، وہ پھر آئے اور کہا کہ (حکم کے مطابق) میں نے عمل کیا (لیکن شفا نہیں ہوئی)، حضور ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سچا ہے اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، انہیں پھر شہد پلاؤ، چنانچہ انہوں نے شہد پھر پلایا اور اسی سے صحت یاب ہوگئے۔ (صحیح بخاری ۔ باب الدواء بالعسل وقول اللہ تعالیٰ فیہ شفاء للناس)
حضرت ثابت ؒ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں کو بیماری تھی، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں قیام کی جگہ عنایت فرمائیے اور ہمارے کھانے کا انتظام فرمائیے۔ پھر جب وہ لوگ صحت مند ہوگئے تو انہوں نے کہا کہ مدینہ کی آب وہوا خراب ہے، چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے حرہ میں اونٹوں کے ساتھ ان کے قیام کا انتظام کردیا اور فرمایا کہ ان کا دودھ پیو۔ جب وہ صحت یاب ہوگئے تو انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹ ہانک کرلے گئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے اور (جیسا انہوں نے چرواہے کے ساتھ سلوک کیا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے بھی ان کے ہاتھ پاؤں کٹوادئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھروادی۔ میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ زبان سے زمین چاٹتا تھا اور اسی حالت میں مرگیا۔ (صحیح بخاری ۔ باب الدواء بالبان الابل)
حضرت قتادہؒ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ (عرینہ کے) کچھ لوگوں کو مدینہ منورہ کی آب وہوا موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے ان سے فرمایا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے چرواہے کے یہاں چلے جائیں، یعنی اونٹوں کے پاس اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ چنانچہ وہ لوگ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے چرواہے کے پاس چلے گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا۔ جب وہ صحت یاب ہوگئے تو انہوں نے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کو ہانک لے گئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کو جب اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے انہیں تلاش کرنے کے لئے بھیجا۔ جب انہیں لایا گیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے حکم سے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی۔ (صحیح بخاری ۔ باب الدواء بابوال الابل)
مذکورہ واقعہ کی قدر تفصیل:
قبیلہ عرینہ اور قبیلہ عکل کے تقریباً ۸ حضرات مدینہ منورہ تشریف لائے اور انہوں نے یہ دعوی کیا کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں۔ وہ مرض الجواء میں مبتلا ہوگئے، مرض الجواء پیٹ کی ایک بیماری ہے جس میں پیٹ پھول جاتا ہے اور پیاس بہت لگتی ہے۔ اس مرض کو استسقاء بھی کہتے ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کو شہر مدینہ سے تھوڑا باہر اپنے صدقہ کے اونٹوں کے پاس بھیج دیا تاکہ کھلی فضاء میں تازہ آب وہوا میں رہیں اور صحیح بخاری میں وارد حدیث کے مطابق انہیں اونٹ کے دودھ پینے کو کہا، جبکہ صحیح بخاری کی دوسری حدیث کے مطابق انہیں اونٹ کے دودھ اور پیشاب پینے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ شفایاب ہوگئے۔ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے اس احسان وکرم کا بدلہ خیانت اورخباثت کی شکل میں اس طرح دیا کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے چرواہے کو ظلماً قتل کردیا اور اس کی آنکھوں میں سلائی پھیردی۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو یہ علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے ان کے پیچھے کچھ حضرات بھیجے تاکہ ان کو گرفتار کرکے لایا جائے، جب انہیں گرفتار کرکے لایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے اُسی طرح سے ان کا قتل کروایا جس طرح انہوں نے چرواہے کو قتل کیا تھا چنانچہ ان کے ہاتھ پاؤں کٹواکر اُن کی آنکھوں میں سلائی پھروادی۔ یہ واقعہ مثلہ کی ممانعت کے نزول سے قبل کا ہے، جیساکہ صحیح بخاری میں حدیث کے آخر میں اس کی وضاحت مذکور ہے، حضرت قتادہؒ نے بیان کیا کہ مجھ سے محمد بن سیرین ؒ نے حدیث بیان کی کہ یہ حدود کے نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے، (بعد میں اس طرح کی سزا کی ممانعت نازل ہوگئی)۔ کسی شخص کے بعض اعضاء کاٹ کر یا ان کو مسخ کرکے بے دردی سے قتل کرنے کو مثلہ کہتے ہیں۔
حلال جانوروں کا بھی پیشاب ناپاک ہے:
موضوع بحث مسئلہ کو سمجھنے سے قبل ایک دوسرے مسئلہ کو بھی سمجھنا ہوگا کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے یعنی حلال جانور مثلاً بکرا، بکری، گائے، بھینس اور اونٹ وغیرہ، آیا ان کا پیشاب پاک ہے یا ناپاک؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں حضرت امام ابوحنیفہ ؒ ، حضرت امام شافعی ؒ اور دیگر فقہاء کرام مثلاً امام سفیان ثوریؒ کی رائے ہے کہ انسان کے پیشاب کی طرح ہر جانور کا پیشاب ناپاک ہے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت امام احمد بن حنبل ؒ کی بھی یہی رائے ہے۔ البتہ حضرت امام مالک ؒ اور بعض دیگر علماء کرام کی رائے ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب پاک ہے اور جن جانوروں کا گوشت نہیں کھایا جاتا اُن کا پیشاب ناپاک ہے۔ حضرت امام مالکؒ نے اس کے لئے بنیادی طور پر دو دلیلیں پیش کی ہیں۔ پہلی دلیل حضرت قتادہ ؒ سے مروی حضرت انس رضی اللہ عنہ کی وہ مذکورہ بالا حدیث جس میں پیشاب پینے کا ذکر آیا ہے، وجہ استدلال یہ ہے کہ اگر پیشاب پاک نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم   اس کے پینے کا حکم کیوں دیتے۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے ارشاد فرمایا کہ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتے ہو۔ وجہ استدلال یہ ہے کہ اگر ان کا پیشاب ناپاک ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم   بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کی اجازت کیوں دیتے۔ حالانکہ ان دونوں احادیث سے حلال جانوروں کے پیشاب کے پاک ہونے کی دلیل بنانا قابل اعتراض ہے کیونکہ پہلی حدیث سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ بیماری کے لئے پیشاب کا استعمال کیا جاسکتا ہے، نیز اکثر علماء نے اس واقعہ کو خصوصی واسثنائی واقعہ قرار دیا ہے، جبکہ دوسری حدیث کے مکمل الفاظ: صَلُّوا فِیْ مَرَابضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوا فِی اعْطَانِ الْاِبِل (یعنی بکریوں کے باڑہ میں نماز ادا کرلو لیکن اونٹوں کے باڑہ میں نماز ادا نہ کرو) سے واضح طور ہمارے ہی موقف کی تایید ہوتی ہے کہ حلال جانور کا پیشاب بھی ناپاک ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے اونٹ کے باڑے میں نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے۔ دونوں دلیلوں کا تفصیلی جواب آگے آرہا ہے۔
جن فقہاء وعلماء (مثلاً امام ابوحنیفہ ؒ ، امام شافعی ؒ اور امام سفیان ثوریؒ ) نے تمام جانوروں کے پیشاب کو ناپاک قرار دیا ہے وہ دلیل کے طور پر اس حدیث کو پیش کرتے ہیں جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے ارشاد فرمایا کہ پیشاب سے بچو کیونکہ عمومی طور پر قبر کا عذاب پیشاب سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ (مستدرک حاکم، ابن ماجہ، دار قطنی، صحیح ابن خزیمہ) شیخ حاکم ؒ نے اس حدیث کو صحیح علی شرط البخاری قرار دیا ہے۔ اس حدیث کو علامہ ہیثمی ؒ نے بھی "مجمع الزوائد" میں ذکر کیا ہے۔ غرضیکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے عمومی طور پر پیشاب سے بچنے کا حکم دیا ہے اور کسی انسان یا جانور کے پیشاب کی کوئی تخصیص نہیں کی۔ دوسری دلیل مسند امام احمد میں وارد وہ حدیث ہے جس میں مذکور ہے کہ دفن کے بعد میت کو قبر نے زور سے بھینچا اور دبایا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ یہ عذاب ان کا پیشاب سے نہ بچنے کی وجہ سے تھا۔ غرضیکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کی تعلیمات پیشاب سے بچنے کی ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے زندگی میں ایک مرتبہ بھی حلال وحرام جانوروں کے پیشاب میں کوئی فرق بیان نہیں فرمایا۔
نیز شرعی وطبی دونوں اعتبار سے دوردور تک پیشاب کا گوشت سے کوئی تعلق سمجھنے میں نہیں آتا کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا تو پیشاب پاک ہو اور جن جانوروں کا گوشت نہیں کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب ناپاک ہو، اسی طرح گوشت کھائے جانے والے جانوروں کے پائخانہ کو ناپاک اور ان کے پیشاب کو پاک قرار دینے ، نیز انسان کے پیشاب کو ناپاک اور گوشت کھائے جانے والے جانور کے پیشاب کو پاک قرار دینے کی کوئی منطق سمجھ میں نہیں آتی، حالانکہ قرآن وحدیث میں ایسی کوئی واضح دلیل نہیں ہے جس میں صرف گوشت کھائے جانے والے جانوروں کے پیشاب کو پاک قرار دیا جائے۔ اگر یہ بات ما ن بھی لی جائے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے بیماری کے علاج کے لئے اونٹ کا پیشاب پینے کی اجازت دی تھی، مگر یہ بھی تو بہت ممکن ہے کہ اس زمانہ میں اس بیماری کا علاج اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہو اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اجازت دی ہو مگر اس سے یہ کیسے لازم آیا کہ صرف گوشت کھائے جانے والے جانوروں کا پیشاب پاک ہے۔ اور جہاں تک اُس حدیث کا تعلق ہے کہ جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے تو اس حدیث کے مکمل الفاظ یہ ہیں: صَلُّوا فِیْ مَرَابضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوا فِی اعْطَانِ الْاِبِل بکریوں کے باڑہ میں نماز ادا کرلو لیکن اونٹوں کے باڑہ میں نماز ادا نہ کرو۔اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ بکریوں کا پیشاب عموماً دور دور نہیں جاتا ہے لہذا بکریوں کے باڑے میں تو کسی پاک وصاف جگہ نماز پڑھ سکتے ہو لیکن اونٹ کا پیشاب دور دور تک بہتا ہے لہذا اونٹ کے باڑے میں پاک وصاف جگہ کا موجود ہونا دشوار ہے لہذا اونٹ کے باڑے میں نماز ادا نہ کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث سے حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے موقف کی ہی تایید ہوتی ہے کہ بکری واونٹ کا پیشاب بھی ناپاک ہے۔
اونٹ کے دودھ یا دودھ اور پیشاب سے بعض بیماری کا علاج:
اس نوعیت کا صرف ایک واقعہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کی پوری زندگی میں پیش آیاتھا، اس کے بعد صحابۂ کرام کے زمانہ میں بھی کبھی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا، جہاں تک صحیح بخاری کے باب الدواء بابوال الابل میں مذکور حدیث کا تعلق ہے تو علماء احناف وشوافع نے اس کے متعدد جوابات دئے ہیں جن میں سے تین جوابات حسب ذیل ہیں:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو بذریعہ وحی مطلع کردیا گیا تھا کہ اونٹ کا پیشاب پئے بغیر ان کی شفا اور زندگی ممکن نہیں، اس طرح یہ لوگ مضطر کے حکم میں آگئے اور مضطر کے لئے نجس چیز کا استعمال جائز ہے۔ یعنی اگر کسی انسان کی جان خطرہ میں ہو تو اس کی جان بچانے کے لئے حرام چیز سے علاج کیا جاسکتا ہے ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے پیشاب پینے کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ اس کے خارجی استعمال کا حکم دیا تھااور اصل عبارت یوں تھیں: اشربوا من البانہا واضمدوا من ابوالہا۔ اضمدوا کے معنی ہیں لیپ چڑھانا۔
متعدد شواہد دلالت کررہے ہیں کہ یہ واقعہ سن ۶ ہجری سے قبل کا ہے، خود حدیث کے راوی حضرت قتادہؒ نے بیان کیا کہ مجھ سے محمد بن سیرین ؒ نے حدیث بیان کی کہ یہ حدود کے نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے، (بعد میں اس طرح کی سزا کی ممانعت نازل ہوگئی)، یعنی یہ واقعہ مثلہ کی حرمت سے قبل کا ہے، جبکہ پیشاب سے نہ بچنے پر عذاب قبر کی حدیث اس واقعہ سے بعد کی ہے کیونکہ وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ۷ ہجری میں اسلام لائے تھے۔ لہذا حضرت قتادہؒ سے مروی حضرت انس رضی اللہ عنہ والی حدیث منسوخ ہے۔ نیز اس حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے ان کا مثلہ فرمایا اور مثلہ بالاتفاق منسوخ ہے۔ لہذا ظاہر یہی ہے کہ یہ حکم بھی منسوخ ہوگیا ہو اور اس کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کبھی بھی اس نوعیت کا علاج نہیں بتایا اور نہ کسی صحابی سے اس نوعیت کا علاج کرنا منقول ہے۔
صحیح بخاری میں ہی اس حدیث سے قبل حضرت ثابت ؒ سے مروی حضرت انس رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث بھی مذکور ہے جس میں انہیں حضرات کا علاج صرف دودھ سے مذکور ہے، اس حدیث میں پیشاب کا دور دور تک کوئی ذکر نہیں ہے ۔ اس لئے اس نوعیت کی بیماری کا علاج صرف اونٹ کے دودھ سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ نیز صحیح بخاری میں ان دونوں احادیث سے قبل پیٹ کی بیماری کا علاج شہد سے بھی مذکور ہے۔ لہذا احتیاط اسی میں ہے کہ اگر دنیا میں بیماری کا علاج موجود ہو تو پیشاب پی کر علاج نہ کیا جائے، بلکہ صحیح بخاری میں وارد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے اقوال کی روشنی میں پہلے شہد، صرف اونٹ کے دودھ یا دیگر ادویہ سے کیا جائے اور اگر کوئی دوا اثر نہیں کررہی ہے اور جان کا خطرہ ہے تو پھر اونٹ کے پیشاب سے علاج کیا جاسکتا ہے ۔
سعودی عرب کے مشہور مصنف جناب محمد بن عبداللطیف آل الشیخ نے اس موضوع پر ایک مضمون (التداوی ببول الابل) تحریر کیا ہے جو مشہور ومعروف ویب سائٹ العربیہ پر پڑھا جاسکتا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر اس کا خلاصۂ کلام پیش کردوں تاکہ مسئلہ مزید واضح ہوجائے۔ انہوں نے ابتداء میں تحریر کیا کہ باوجودیکہ میں قرآن وحدیث پر مکمل طور پر ایمان لایا ہوں اور اس بات پر بھی میرا مکمل یقین ہے کہ قرآن کریم کے بعد صحیح بخاری وصحیح مسلم دو اہم ومستند صحیح کتابیں ہیں، مگر صحیح بخاری میں وارد اُس حدیث کے الفاظ سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوں جس میں اونٹ کے پیشاب سے علاج کا ذکر وارد ہوا ہے۔ زیادہ بہتر معلوم ہوتا کہ ہم اس حدیث کے تعلق سے جلیل القدر فقیہ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ والا موقف اختیار کریں کہ یہ ایک خصوصی واقعہ ہے جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو بذریعہ وحی مطلع کردیا گیا تھا کہ اونٹ کا پیشاب پئے بغیر ان حضرات کی شفا اور زندگی ممکن نہیں ہے، یعنی اس حدیث میں عمومی حکم نہیں ہے کہ کوئی بھی شخص اونٹ کے پیشاب سے علاج کرے جیساکہ بعض علماء کرام نے سمجھا ہے۔ غرضیکہ یہ ایک خصوصی واقعہ ہے، جس طرح جمہور علماء نے صحیح مسلم میں وارد حدیث کو خصوصی واقعہ قراردیا ہے جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ کو حکم دیا تھا کہ وہ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت سالم کو دودھ پلادیں جس سے دونوں کے درمیان حرمت ثابت ہوجائے ، حالانکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ دو سال کے بعد دودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں ہوگی یعنی ماں بیٹے کا رشتہ نہیں بن سکتا۔ تو جس طرح سے جمہور علماء نے صحیح مسلم میں وارد اس واقعہ کو خصوصی واستثنائی قراردیا ہے اسی طرح اونٹ کے پیشاب سے علاج والے واقعہ کو بھی خاص قرار دیا جائے، کیونکہ طبی اعتبار سے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ پیشاب جس میں مختلف قسم کے زہر ہوتے ہیں اس کو پی کر کسی طرح کا علاج کیا جاسکتا ہے۔ نیز یہ حضرات اللہ کے علم میں کافر تھے اور بہت ممکن ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کو وحی کے ذریعہ بتلادیا گیا ہو کہ یہ لوگ مرتد ہوکر مرجائیں گے، لہذا اللہ تعالیٰ نے کافر کی شفاء ایک ناپاک چیز میں رکھ دی تھی ۔ موصوف نے مزید تحریر کیا کہ حدیث کی سند صحیح ہونے کے باوجود حدیث میں وارد پیشاب کے لفظ پر بھی تو کلام کیا جاسکتا ہے، جس طرح شیخ محمد عثیمین ؒ نے صیح مسلم میں وارد مشہور ومعروف جساسہ والی حدیث کے الفاظ ومفہوم پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
غرضیکہ انسان اور حرام جانوروں کی طرح حلال جانوروں کا پیشاب بھی ناپاک ہے اور صحیح بخاری میں وارد اونٹ کے پیشاب سے علاج والا واقعہ خصوصی واستثنائی ہے نیز اس حدیث میں کچھ شک وشبہات بھی ہیں کیونکہ اس سے قبل والی حدیث میں اسی واقعہ پر صرف اونٹ کے دودھ سے علاج مذکور ہے اور اس میں دور دور تک کہیں بھی اونٹ کے پیشاب کا ذکر نہیں ہے، نیز اس حدیث میں مثلہ کا بھی ذکر ہے جو بعد میں ناجائز ہوگیا۔ لہذا ہم اونٹ کے پیشاب سے علاج اسی صورت میں کرائیں جب بیماری کا دنیا میں کوئی علاج نہ ہو اور زندگی خطرہ میں ہو۔

محمد نجیب قاسمی سنبھلی

 (www.najeebqasmi.com)